دھرمندر بالاچ 

پاک وائسز، رحیم یار خان

رحیم یار خان کی بستی امان گڑھ  کا یہ مندر 2015 سے بند پڑا ہے۔

رحیم یار خان کے چولستانی صحرا میں صدیوں سے ہندو کمیونٹی آباد ہے جن کی ثقافت مندر کا ذکر کیے بغیر ادھوری ہے۔ آج کل ان مندروں اور ہندو اقلیتی کمیونٹی کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ضلعی انتظامیہ نے مندروں کو سیکیورٹی انتظامات خود کرنے کا پابند کیا ہے۔ یوں رحیم یار خان کے صدیوں سے قائم مندر سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی بنا پر حکومت کی جانب سے بند کیے جا رہے ہیں۔

مندر بند ہونے کے باعث بستی امان گڑھ کی ہندو کمیونٹی اپنے گھروں میں عبادت کرنے پر مجبور ہے۔

ضلع بھر میں لگ بھگ 20چھوٹے بڑے مندر ہیں جن میں سے بعض نے اپنی مدد آپ کے تحت سیکیورٹی کے انتظامات کر لیے لیکن کئی ایسے بھی ہیں جن پر تالے پڑ چکے ہیں۔ پاک وائسز کی اس خصوی رپورٹ میں انتظامیہ کے آرڈر سے متاثر ہونے والے مندروں اور ہندو کمیونٹی کے خدشات کو پیش کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں پاک وائسز نے متعدد بار ڈسڑکٹ کمشنر رحیم یار خان سے رابطہ کیا لیکن ان کے آفس نے موقف دینے سے گریز کیا۔

1-کبیر مندر:

علاقہ: بستی امان گڑھ

2015 سے بند

مندر کی بنیاد میں دراڑیں پڑنے کے بعد مندر کے ایک حصے کی چھت کو گرا دیا گیا ہے۔

رحیم یار خان کی ضلعی انتظامیہ نے کبیر مندر کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات نہ کیے جانے پر تین سال پہلے مندر کو بند کر دیا۔ یہ مندر بستی امان گڑھ کی ہندو کمیونٹی کی پوجا کے لیے واحد عبادت گاہ تھی۔

اقلیتی ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ مندروں کی سیکیورٹی کے انتظامات خود سے کر لے۔

بستی کی ہندو کمیونٹی کے مکھیا (سربراہ) اور سابق ممبر ضلع کونسل ارجن جی منگی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ، “ضلعی انتظامیہ کے اہلکار آتے ہیں سی سی ٹی وی کیمروں، سیکورٹی گارڈز، خاردار تار، آٹھ فٹ اونچی دیوار ،بیئرر اور مین گیٹ جیسی شرائط بتاکر چلے جاتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ مندر پوجاری کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکی ہیں:  ” اگر یہ (سیکیورٹی )انتظامات مکمل نہ ہوئے تو پوجاری اور مندرانتظامیہ کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔”

ہندو کمیونٹی کے مطابق مندر بند پڑے پڑے خستہ حالی کا شکار ہو گیا ہے۔

جب ان سب شرائط پر ہندو برادری عمل نہ کرسکی تو ان کے مندروں کو انتظامیہ نے بند کرنا شروع کر دیا۔

“ہم نے اپنے گھروں میں مجبورا  چھوٹے چھوٹے مندر بناکر پوجا کرنی شروع کر دی ہے۔”

 ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی پریتم داس بالاچ نے کہا کہ پہلے شام کے وقت جب ہم مندر میں عبادت کےلیے اکھٹے ہوتے تھے تو ایک دوسرے کی خوشی اور غم اور مسائل سے باخبر رہتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

 ارجن منگی کہتے ہیں کہ ہندو کمیونٹی سیکیورٹی کے لیے وسائل نہیں رکھتی۔ “جب حکومت وقت اور صوبائی انتظامیہ اقلیتیوں کے مذہبی مقامات و تہواروں اور ہماری جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتی تو ہم یہ سب انتظامات کیسے کر سکتے ہیں؟”

 “حکومت محب وطن ہندو کمیونٹی کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ ہم اپنے مذہبی تہوار اور عبادات آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں۔”

2- سدارام مندر:

علاقہ:بستی پرساں، رحیم یار خان 

جزوی طور پر فنکشنل

سدارام مندر نے اپنی مدد آپ کے تحت سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے چار دیواری، خار دار تار اور سیکیورٹی کیمروں کا انتظام کیا ہے۔

رحیم یار خان کی بستی پرساں سدارام مندر فی الحال تو چل رہا ہے لیکن ہندو کمیونٹی کو خدشہ ہے کہ اسے کسی بھی وقت بند کر دیا جائے گا۔

مندر کے پوجاری مٹھو رام کا کہنا ہے کہ “انہیں ہولی، دیوالی اور میلے کی اجازت کافی مشکل سے ملتی ہے۔”اسی سال ہمیں میلے کی اجازت آخری  دن دی گئی اور سیکورٹی کے لیے طرح طرح کے بہانے بنائے گئے ۔”

 انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مندر کو آئے دن کوئی نہ کوئی حکم نامہ ملتا ہے جس میں سیکیورٹی سخت کرنے سے متعلق ہدایات ہوتی ہیں۔

مندر کو بند ہونے سے بچانے کے لیے مقامی ہندو کمیونٹی نے چندہ مہم بھی چلائی ہے۔

 ” ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکٹھا کرکے بڑی مشکل سے چاردیواری، خادار تار اور سیکورٹی کیمروں کا انتظام کیا ہے۔”

علاقے کی ہندو کمیونٹی نے سکھ کا سانس لیا ہے کہ کم ازکم چند گھڑیاں ہی سہی اب وہ مندر میں عبادت کر سکتے ہیں۔

ہندو کمیونٹی کو گلہ ہے کہ مندر کو بہت کم وقت کے لیے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پوجاری نے مزید کہا : “صبح کی پوجا کے بعد سارا دن مندر بند رہتا ہے اور شام کو آدھے گھنٹے کیلئے عبادت کے لیے مندر کھولا جاتا ہے اور پھر بند کردیا جاتا ہے۔”

 مندر کے انچارج پروفیسر اجمل داس پال کا کہنا ہے کہ اگر کسی طرح کے سیکورٹی خدشات ہیں تو مندروں کے لیے سیکورٹی گارڈ فراہم کیے جائیں نہ کہ سیکورٹی کا ایشو بنا کر مندروں اور مذہبی مقامات کو بند کیا جائے۔”

 انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے: “اس طرح کے سخت آرڈر واپس لیے جائیں اور ہولی دیوالی،مذہبی پروگراموں اور میلوں کے لیے فل پروف سیکورٹی فراہم کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا:  “مسلمان بھائیوں کو مذہبی تہواروں جیسے  عیدن، عید میلا النبی اور سانحہ کربلا جیسے موقعوں پر سیکورٹی دی جاتی ہے ،تو اقلیتیوں کے تہواروں پر سیکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی جاسکتی؟”

3-ایشور بھگت مندر:

علاقہ: بستی مڈدینہ بسم اللہ پور

2014سے بند

ایشور بھگت مندر تقریبا تین سال سے بند پڑا ہے جس کے باہر مندر کے پوجاری ہزاری رام موجود ہیں

ایشوربھگت مندر بستی مڈدینہ بسم اللہ پور ضلع رحیم یار خان  میں واقع ہے جو دسمبر 2014 سے بند پڑ ا ہے۔

 مقامی ہندو کمیونٹی کے مطابق ڈی پی او (پولیس )آفس رحیم یار خان سے سخت احکامات ہیں کہ جن مندروں کی چاردیواری و دیگر سیکورٹی انتظامات نہیں ہیں یانامکمل ہیں ان کو عبادت ومذہبی پروگرام کیلئے بند کر دیا جائے۔

مندر کے بچاری ہزاری رام نے پاک وائسز کو بتایا : “علاقہ کے پولیس اہلکار متعدر بار مذکورہ بالا مندر کا جائزہ لے چکے ہیں اور مندر انتظامیہ کو چار دیواری تعمیر کرنے کو کہا ہے۔”

 ایشوربھگت مندر چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے3 سال سے بند پڑا ہے جو ہندو کمیونٹی کی پوجا پاٹ کے لیے علاقے کا واحد مندر ہے۔

ایشور بھگت مندر کو چار دیواری اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کے لیے تقریبا 8لاکھ سے زیادہ رقم درکار ہے۔

 ہزاری رام کہتے ہیں کہ “مندر کی چاردیواری کیلئے علاقے کے اقلیتی  رکن صوبائی اسمبلی پنجاب سیٹھ  کانجی رام کو تحریری درخواست بھی دی مگر ان کی جانب سے حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔”

ہندو کمیونٹی کے مطابق اسی مندر کو چند سال قبل کچھ شرپسند عناصر نے سخت حراساں و پریشان کیا تھا اور مندر توڑنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی جاری کیں۔

ہندو کمیونٹی کے سماجی کارکن شبیر لعل ٹھاکر کی مندر بچاؤ مہم کے نتیجے میں مندر اپنی جگہ پر قائم رہا اور حکومت پر دباؤ کے نتیجے میں دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف دینے سے گریز:

مندروں کی سیکیورٹی کے ایشو سے متعلق انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے رحیم یار خان کے ڈسٹرکٹ کورڈینیشن آفیسر سقراط ایمان رانا سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پاک وائسز کے نمائندے دھرمندر بالاچ ڈی سی آفس جب ان کا موقف لینے گئے تو انہیں کئی گھنٹے انتظار کرانے کے بعد ڈی سی نے ملنے سے معذرت کر لی۔

ڈی سی آفس کے کورڈینیٹر اور اسسٹنٹ کمشنر ریاست علی نے نمائندہ کو انٹیلجنس بیورو کی سیکیورٹی برانچ ریفر کر دیا جبکہ سیکیورٹی برانچ نے کہا کہ اس معاملے پر متعلقہ ادارہ ضلعی انتظامیہ کا ہے جس نے مندر بند کرنے کے آرڈر دئیے ہیں۔

رائیٹر کے بارے میں: دھرمندر بالاچ رحیم یار خان سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹنگ: حسن خان 

1 COMMENT

  1. Good report Dherminder Balach .
    We want freedom religion’s in pakistan for minority . To pray God without any problems.

LEAVE A REPLY