ارشد وحید چوہدری

سنہ دو ہزار بارہ میں بالائی سندھ کے ضلع گھوٹکی میں میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والی خاتون رنکل کماری( جو اسلام قبول کرنے کے بعد فریال شاہ بن گئی تھی) کا مقدمہ بہت مشہور ہوا تھا ۔ رنکل کماری محلے کے ایک نوجوان نوید شاہ کے ساتھ محبت ہوجانے پر گھر سے نکلی تھی ۔علاقے کے بھرچونڈی پیر میاں عبد الحق جنہیں ان کے پیروکار عقیدت سے میاں مٹھو کے نام سے یاد کرتے ہیں نے نہ صرف رنکل کماری کو کلمہ طیبہ پڑھا کر مسلمان کیا بلکہ دو محبت کرنے والوں کو نکاح پڑھا کر میاں بیوی بھی بنا دیا۔

ضلع گھوٹکی میں بھرچونڈی پیر کا آستانہ ہندوؤں خصوصا خواتین کے اسلام قبول کرنے کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جبکہ نسل در نسل مخصوص لباس زیب تن کرنے والے پیر بھرچونڈی خود بھی بڑے فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے اقلیتی آبادی کے کتنے افراد کو دائرہ اسلام میں داخل کیا ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے رنکل کماری کیس میں ان کی پشت پناہی نہیں کی تھی بلکہ اس کیس کے ایک سال بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے میاں مٹھو کو پارٹی ٹکٹ بھی جاری نہیں کیا تھا۔

زیریں سندھ میں اس طرح کا دوسرا مرکز ضلع عمر کوٹ کا علاقہ سامارو ہے جہاں درگاہ گلزار خلیل کے سجادہ نشین پیر ایوب جان سرہندی بھی ہندوؤں کو مسلمان کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ان کا بھی دعوی ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کے زبردستی مسلمان نہیں کیا بلکہ لوگ خود اسلام قبول کرنے کے لیےان کے پاس چل کر آتے ہیں ۔ اسی لیے وہ پون کمار جیسے واقعات کو سازش قرار دیتے ہیں۔

سندھ میں اس طرح کے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں جن میں کوئی کنواری ہندو لڑکی یا شادی شدہ خاتون گھر سے بھاگ کراسلام قبول کر کے کسی مسلمان سے شادی کر لیتی ہے۔ شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کے ہندو شوہر کے پاس کوئی گواہی یا ثبوت نہیں ہوتا کہ دوسرے شخص کے ساتھ شادی کرنی والی خاتون اس کی بیوی ہے۔

پاکستان میں انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے مطابق ہندوؤں کی آبادی دو فیصد یعنی چوبیس لاکھ کے لگ بھگ تھی جس کے بارے میں ابھی تخمینہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ آبادی بڑھ کر چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ہندو آبادی میں پچانوے فیصد انتہائی پسماندہ اورغریب ہے جبکہ ایک فیصد سے بھی کم آبادی صاحب حیثیت اور خوشحال شمار کی جاتی ہے ۔ اسی ایک فیصد میں شامل اقلیتی رہنما ملک کے منتخب ایوانوں کی مخصوص نشستوں پر ہندوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی سندھ میں رہائش پزیرہے اس لیے جبری مذ ہبی تبدیلی کے واقعات کی زیادہ خبریں بھی وہیں سےسامنے آتی ہیں۔

ہندو خاتون کی اسلام قبول کر کے کسی مسلمان سے شادی کرنے کی خبر کے پس پردہ حقائق عموما مختلف ہوتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں معاملہ عشق و محبت سے شروع ہوتا ہے اور جب نکاح کرنے کی نوبت آتی ہے تو عشق میں مغلوب فرد کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس کی محبوبہ پہلے اسلام قبول کرے اس کے بعد وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔

اس طرح ایک پسماندہ خاندان میں پیدا ہونے والی اقلیتی خاتون بظاہر محبت نبھانے کیلئے مسلمان ہو جاتی ہے۔ ایسی بیسیوں ہندو خواتین شادی کے بعد مسلمان شوہروں اور بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس طرح کی شادیوں میں زبردستی کا عنصر موجود نہ ہو۔ عموما سماجی رتبے میں مرد کا پلڑا بھاری ہوتا ہے جبکہ متعلقہ خاتون سماجیرتبے میں نہ صرف کمتر ہوتی ہے بلکہ اکثر اوقات شادی کے خواہش مند وڈیرے یا جاگیر دار کے ہاری کی بیٹی ہی ہوتی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہاری باپ کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کر دے ۔

سندھ کے دیہاتوں میں اس طرح کے واقعات انہونے شمار نہیں ہوتے جبکہ زرعی زمینوں پر کام کرنے والی ہندو خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ تک نہیں ہوتے۔ ایسی انہونی کبھی ہونی میں تبدیل نہیں ہوئی کہ کسی مسلمان لڑکی نے کسی ہندو کے ساتھ بھاگ کر شادی رچا لی ہو۔

قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان میں ہندو میرج ایکٹ موجود نہیں تھا، حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن کسی نے ہندو اقلیتی آبادی کو ایسا قانون دینے کی اہمیت کا ادراک نہیں کیا جس سے انہیں دستاویزی تحفظ حاصل ہو سکتا ۔ قومی اسمبلی نے گزشتہ سال جبکہ سینیٹ نے حال ہی میں ہندو میرج بل دو ہزار سترہ کی منظوری دے کر پہلی بار ہندو آبادی کو تحفظ فراہم کیا ہے ۔

نئے قانون کے تحت اب ہندو خواتین کو شادی کا دستاویزی ثبوت مل سکے گا۔ یہ قانون اسلام آباد کے علاوہ پنجاب بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بھی قابل عمل ہوگا جبکہ سندھ اسمبلی پہلے ہی اسی نوعیت کا قانون منظور کرچکی پے اگرچہ وہ تا حال ایکٹ نہیں بن سکا۔

ہندو منتخب نمائندوں کا خیال ہے کہ یہ قانون جبری مذھب کی تبدیلی کی حوصلہ شکنی میں بھی مدد دے گا۔ اس سے قابل کسی ہندو خاتون کیلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے شادی شدہ ہونے کا کوئی ثبوت پیش کرسکے ۔ اس قانون کے تحت ’’ شادی پراتھ‘‘ کا فارم بنایا جائے گا جو مسلمانوں کے نکاح نامے کا متبادل ہوگا اور پنڈت اس پر دستخط کرے گا ۔ حکومت پاکستان کا متعلقہ محکمہ اس نکاح کوباقاعدہ رجسٹرڈ کرے گا جس کی فیس ایک ہزار روپے ہوگی ۔

ہندو میرج بل میں شادی کی منسوخی والی شق پر ہندو نمائندوں نے کچھ تحفظات موجود ہیں ۔ اس شق کے تحت اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بھی مذھب تبدیل کرلیتا ہے تو وہ علیحدگی اختیار کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کرسکے گا۔ گزشتہ سال نومبر میں سندھ اسمبلی نے جبری تبدیلی مذھب کے خلاف ایک بل کی متفقہ منظوری دی تھی ۔

بل کے تحت زبردستی مذھب تبدیل کراکے شادی کرنا جرم تصور کیا جائے گا، اور اس میں ملوث شخص کو سات سال جبکہ سہولت کار کو تین سال سے پانچ سال سزا ہوگی۔ بل کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کی لڑکی اور لڑکے کے مذھب تبدیل کرنے پر پابندی ہوگی۔ بالغ شخص کو مذھب تبدیل کرنے سے قبل اکیس دن تک سیف ہاؤس میں رکھا جائے گا اور چند روز کیلئے سوچنے کا موقعہ دیا جائے گا۔

بل کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر سندھ کے دستخطوں سے اس کو ایکٹ کا درجہ دینے کا مرحلہ آیا تو مذہبی جماعتوں نے سخت مخالفت کی جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور بل میں ترامیم کے لیے نظرثانی کیلئے تیار ہوگئی۔

سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والے قانون کو توایکٹ بننے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا تاہم وفاقی حکومت سے منظورکردہ ہندو میرج بل ہندو آبادی کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے جس سے نہ صرف ہندو خواتین کی جبری شادیوں کو روکنے میں مدد ملے گی بلکہ ان کے لیے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی بنیادی شناختی دستاویزات کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔

:کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo ٹوئٹر اکاؤنٹ

LEAVE A REPLY