ساجد بجیر

پاک وائسز، مٹھی

ہندو لڑکی کی بازیابی کے لیے مظاہرے میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ہندو کمیونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تھرپارکر میں 16 سالہ ہندو لڑکی رویتا میگھواڑ کی بازیابی اور مبینہ اغوا میں ملوث ملزماں کی گرفتاری کے لیئے لڑکی کے ورثاء اور سول سوسائٹی نے مٹھی کے کشمیر چوک پر احتجاج کیا۔مظاہرین نے نیشنل بینک مٹھی سے کشمیر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی  اور دو گھنٹے تک کشمیر چوک پر دھرنا بھی دیا۔

مظاہرےمیں ہندو کمیونٹی کے نوجوانوں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور بااثر وڈیروں اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لڑکی کی والدہ حقو میگھواڑ  نے بتایا کہ کس طرح لڑکی کو گاؤں کے بااثر افراد نے گھر سے زبردستی اغوا کیا۔
یاد رہے کہ کم عمر ہندو لڑکی رویتا میگھواڑ کو اسی ماہ اغوا کرنے کے بعد اس کا مذہب تبدیل کر کے سید نواز علی شاہ نامی مسلمان سے شادی کر دی گئی۔پرائمری اسکول سرٹیفیکیٹ کے مطابق لڑکی کی عمر 16 برس ہے جبکہ میرج سرٹیفیکیٹ پر اس کی عمر “تقریبا 18 برس” ظاہر کی گئی ہے۔ لڑکی کے والدین نے شاہ سمیت چار افراد کے خلاف مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی ہے لیکن تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔
لڑکی کی والدہ نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد تھر پارکر میں ہندو اقلیت بہت غیر محفوظ محسوس کرنے لگی ہے۔
مظاہرین نے ہندو اقلیت کو تحفظ فراہم کرنے اور جبری تبدیلی مذہب کو روکنے کے حوالے سے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
 سول سوسائٹی کے نمائندوں کرشن شرما،تلسی بالانی ،گوموں مل بھیل، ڈیوجی مل،آکاش ہمیرانی نے کہا کہ اسلام بھی پڑوسی اور اقلیتوں کے تحفظ کا پیغام دیتا ہے اور پاکستان کا آئین بھی اقلیتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانوں میں موجود ہے کہ مذہب سمیت شادی کے لئے 18 سال کی عمر مقرر کی گئی ہے مگر اس بچی کی 16 سال کی عمر میں مذہب تبدیل کر کے شادی کی گئی اور لڑکی کو والدین سے ملایا بھی نہیں جا رہا ہے۔
مظاہرین نے کہا ہے کہ اگر پولیس نے ملزمان کو فوری گرفتار نہ کیا تو وہ احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے
سول سوسائٹی نمائندوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں پولیس  نے ملزماں کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مظاہرین نے عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ہندو لڑکیوں کو “مال غنیمت سمجھ” رہے ہیں۔

شرکا نے مزید کہا کہ زیادتی یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو شادی کے لئے مسلمان بنایا جائے۔ مظاھریں نے مطالبہ کیا کہ لڑکی کو عدالتی تحویل میں لے کر والدین سے ملانے کا انتظام کیا جائے اور ملزماں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

رائیٹر کے بارے میں :ساجد بجیر تھرپارکر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY