علی ظیف

یہ 2009ء کی بات ہے، 10 برس کی فوزیہ کے پیٹ میں گولی لگی اور وہ کئی گھنٹوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی۔ وہ خاندانی تنازع کا شکار ہوئی تھی۔

لواحقین اس ننھی پری کو رورل ہیلتھ سنٹر، فتح پور لے گئے جہاں سے اسے لیہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ریفر کر دیا گیا، ہسپتال میں قریباً دو روز گزارنے کے بعد جب فوزیہ کی حالت غیر ہوئی تو اسے ملتان کے نشتر ہسپتال بھیج دیا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی اس کی سانسیں چلنا بند ہو چکی تھیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ ننھی فوزیہ ڈاکٹروں کی مجرمانہ غلفت کے باعث ہلاک ہوئی۔ فوزیہ کی جان بچائی جا سکتی تھی لیکن جنوبی پنجاب یا حاشیے پہ آباد شہروں میں صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تلخ اور بے رحم حقیقت بے نقاب ہوتی ہے کہ صحت کا شعبہ حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ اس حوالے سے غیرسرکاری تنظیم “آواز” کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار پریشان کن صورتِ حال ظاہر کرتے ہیں۔

بہاولپور جنوبی پنجاب کا نسبتاً ترقی یافتہ شہر ہے لیکن اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ بہاولپور میں 78 فی صد حاملہ خواتین ڈاکٹروں سے علاج کرواتی ہیں لیکن صرف 18 فی صد ہی سرکاری طبی مراکز کا رُخ کرتی ہیں۔ رحیم یار خان میں 79 فی صد خواتین کی ڈاکٹروں تک رسائی ہے لیکن ان میں سے صرف 11 فی صد ہی سرکاری ہسپتالوں کو ترجیح دیتی ہیں۔

گزشتہ برس مارچ میں انگریزی زبان کے موقر اخبار ‘ڈان’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی ایسے ہی کچھ پریشان کن اعداد وشمار بیان کئے گئے تھے۔

ماہرین کہتے ہیں، پسماندہ علاقوں میں عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بیسک یا رورل ہیلتھ یونٹس کا کردار نہایت اہم ہے لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اگر پنجاب کے دور دراز کے علاقوں میں بی ایچ یو اور آر ایچ یو قائم ہیں بھی تو وہاں طبی عملہ موجود ہے اور نہ زندگی بچانے کے لیے ضروری آلات۔۔۔ جس کے باعث مریض کو ایک طبی مرکز سے دوسرے طبی مرکز اور ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور فوزیہ کی طرح کے نہ جانے کتنے ہی ایسے مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں جن کی جان بچائی جا سکتی تھی ۔

‘ڈان’ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بیان کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے سرحدی ضلع بہاولنگر کے 42 بیسک ہیلتھ یونٹس میں میڈیکل افسر تک تعینات نہیں ہیں، ساہیوال کے 27 بیسک ہیلتھ یونٹس میڈیکل افسروں سے محروم ہیں۔ یہ جنوبی پنجاب کے صرف دو اضلاع کے اعداد و شمار ہیں۔ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی حالات کچھ متاثر کن نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی پنجاب کے ایک اور ضلع پاکپتن میں میڈیکل آفیسرز اور وومن میڈیکل آفیسرز کی 14 آسامیاں خالی ہیں۔ انہی وجوہ کے باعث مریضوں کی ایک بڑی تعداد نجی ہسپتالوں اور عطائیوں سے علاج کروانے پر مجبور ہو جاتی ہے، جو نہ صرف ان پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں بلکہ ان کے نامناسب طریقہ علاج کے باعث بہت سی معتدی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔

حکمران تو متذکرہ بالا وجوہات کے باعث شعبہ صحت کی اس زبوں حالی پر کی جانے والی تنقید کو “پروپیگنڈا” کہہ کر اپنی جان چھڑوا لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت پر پردہ ڈالنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان مسلم لیگ (ق) پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر زین علی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ملتان کے چلڈرن ہسپتال اور ہسپتال برائے امراضِ قلب پر توسیع کا کام سابق وزیرِ اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے دور میں شروع ہوا تھا اور یہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔

رواں برس کے آغاز میں ملتان کے نشتر ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 26 سالہ شگفتہ بی بی ایک آنکھ سے محروم ہو گئی۔ اس وقت نشتر ہسپتال کے متعلقہ ڈاکٹروں نے انہیں لاہور کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا جہاں بستروں کی کمی کے باعث انتظامیہ نے انہیں ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔

گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ایسے بے شمار واقعات شہ سرخیوں میں آچکے ہیں جن سے صوبے کے پسماندہ اور دوردراز شہروں میں طبی سہولیات کی فراہمی اور ان کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سینئر صحافی اور ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن لاہور کے صدر عامر ملک نے ’پاک وائسز‘سے بات کرتے ہوئے کہا:’’شعبۂ صحت پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ یوں تو صوبے میں بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں لیکن صحت کے شعبہ میں ایسا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ ‘‘

ان سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے شعبۂ صحت کو نظرانداز کرنے کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا:’’حکومت کے پیشِ نظر انتخابات ہیں اور انتخابی مہم کے دوران وہ سڑکیں اور میٹروبس کے منصوبوں پر تو ووٹ حاصل کر سکتی ہے لیکن شعبۂ صحت میں اگر کوئی منصوبہ شروع کرتی ہے تو اس سے برسرِاقتدار جماعت کو انتخابات میں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

پنجاب میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنماء اور صوبائی اسمبلی کے رُکن ڈاکٹر مراد راس بھی عامر ملک کے مؤقف سے متفق نظر آئے۔ انہوں نے کہا:’’آپ خود دیکھ سکتے ہیں، پنجاب کے ہسپتالوں کے کیا حالات ہیں جو اس وقت جنگل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت شعبۂ صحت پر فنڈز خرچ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ لاہور کا جنرل ہسپتال ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہے لیکن وہاں ایک ایک دن میں چار چار ہزار مریضوں کاعلاج کیا جا رہا ہے۔‘‘

جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں سے ایک وہاڑی میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر عمران دولتانہ کہتے ہیں:’’لاہور میں مریضوں کو بستر نہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کا معیار متاثر کن نہیں ہے جس کے باعث پنجاب بھر سے مریض لاہور کا رُخ کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر ٹیچنگ ہسپتال بنائے۔ اگر خانیوال اور حاصل پور کی طرح کے دور دراز کے شہروں میں ٹیچنگ ہسپتال بن جائیں گے تو شعبۂ صحت میں انقلاب آ جائے گا۔ مسئلہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری سمت درست نہیں ہے۔‘‘

لیکن پارلیمانی سیکرٹری برائے پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ اور ملتان سے صوبائی اسمبلی کے رُکن ملک محمد علی کھوکھر کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کی سمت درست ہے۔ ان سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ حکومت کی ساری توجہ تو میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبوں کی جانب ہے تو انہوں نے کہا:’’یہ تاثر درست نہیں ہے، ہم شعبۂ صحت پر بھی پوری توجہ دے رہے ہیں۔ اگر پنجاب میں اِکا دُکا واقعات ہوئے ہیں تو ان سے صوبائی حکومت نے سبق سیکھا ہے۔‘‘

اگر ایک حکومت ہسپتالوں میں عملے کی کمی پورا نہیں کر سکتی تو اس سے نئے ہسپتال قائم کرنے کی امید رکھنا درست نہیں ہو گا۔ فوزیہ کی جان بچائی جا سکتی تھی لیکن ظاہر ہے، حکمرانوں کی اپنی ترجیحات ہیں اور غالباً شعبۂ صحت ان میں شامل نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY