پاک وائسز رپورٹر

بلوچستان میں کلعدم تنظیموں کی دھمکیوں اور حملوں کے بعد تیسرے روز بھی عوام کو اخبارات تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے ۔
اس بار کلعدم تنظیموں کے نشانے پر صرف صحافی ہی نہیں بلکہ  ہاکرز اور نیوز ایجنسیاں بھی ہیں جن پر اخبارات کی ترسیل کے نظام کا دارومدار ہوتا ہے۔ حب پریس کلب پر دستی بم  اور تربت کی ایک نیوز ایجنسی کے دفتر پر حالیہ حملوں کے بعد ہاکرز کمیونٹی میں بھی خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔
کلعدم تنظیموں نے میڈیا کوریج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اخبارات کی ترسیل بند کرنے کے لیے 24 اکتوبر کا الٹی میٹم دیا تھا جس کے بعد کوئٹہ، گوادر سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اخبارات کی سپلائی روک دی گئی تھی اور ہاکر ایسوسی ایشن نے اخبارات لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔
اس کے باوجود بعض ہاکرز نے اخبارات کی ترسیل کا کام جاری رکھا جن میں تربت کی ایک نیوز ایجنسی شامل ہے۔ کلعدم تنظیم نے تربت میں اخبارات کی کاپیوں فروخت کرنے والی نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملہ کر کے ہاکرز کو مزید خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
محمد سچل، ہاکر، گوادر
پاک وائسز نے گوادر میں کام کرنے والے ایک ہاکر محمد سچل سے خصوصی بات چیت کی ہے جو گزشتہ 10 برسوں سے اخبارات کی ترسیل کا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ “میں شہر کے کئی دفاتر اور دکانوں سمیت گلی محلوں میں سائیکل پر اخبارات سپلائی کرتا آ رہا ہوں۔ لیکن گزشتہ دس سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شہر میں اخبار سرے سے ہی غائب ہو جائیں۔”
 سچل مزید کہتے ہیں کہ “قارئین موبائل پر کال کر کے بار بار ان کو کسی طرح اخبار پہنچانے کا کہ رہے ہیں لیکن تین دن سے گوادر میں اخبارات نہیں آ رہے ہیں۔”
گوادر میں اس وقت اخبار فروشوں کے دوکانیں اور پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا کے دفاتر سمیت گوادر پریس کلب بند ہیں۔ تاہم گوادر پریس کلب کی سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔
  ایک طرف جان کے خطرات تو دوسری جانب سچل کو غم روز گار کی فکر کھائے جا رہی ہے جیسا کہ انہوں نے کہا کہ ”ہاکروں کا ذریعہ معاش صرف اخباروں کی فروخت سے ہی ہے جس کی بندش سے ہم بیروزگارہو جائیں گے۔”
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY