بالاچ قادر
پاک وائسز، گوادر
ڈیسالینیشن پلانٹ کا صرف ایک یونٹ فعال کیا گیا ہے جس سے گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
 
بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے ) کی جانب سے 984ملین روپے کی لاگت سے تعمیرکردہ کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔
 یاد رہے کہ گوادر کو چوتھی مرتبہ اس وقت پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ گوادر میں پانی کی عدم دستیابی کے خلاف آل پارٹیز گوادر کے پلیٹ فارم سے عوام نے دھرنا دیا تھا جو بعد میں انتظامیہ کی یقین دہانی پر ختم ہوگیا۔
: منصوبے کا پس منظر
کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ کا کام 2007میں شروع ہواتھا جو 2015میں تیار ہوا تاہم اس سے گوادر شہر کو پانی فراہم نہیں کیا جا سکا لیکن اب اسے فنکشنل کر دیا گیا ہے۔
 گزشتہ ایک سال سے کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ کے کام نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(اے ڈی سی جنرل) گوادر قربان علی مگسی نے کہا ’’کچھ تکنینکی وجوہات کی وجہ سے یہ ایک سال تک کام نہیں کرسکا لیکن اس وقت گوادر میں پانی کے شدید بحران کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اسے دو ہفتوں کے اندر فعال کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرز نے دو ہفتوں سے مسلسل اس پر کام کیا ہے۔
واضح رہے ڈیسالینشن پلانٹ گوادر کے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام ہے۔
سمندر کے  کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے  ڈیسالینیشن پلانٹ کا منسوبہ دس سال بعد بھی مکمل فعال نہیں ہو سکا ہے۔
:گوادر میں پانی کا بحران 
گوادر میں پانی بحران کے حوالے سے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایکسئین شکیل احمد بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’پہلے گوادر کی آبادی کم تھی اور پانی کی ضرورت بھی کم تھی لیکن اب آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ پانی کی ضرورت میں اضافہ ہو گیا ہے۔” یاد رہے کہ گوادر میں پانی کا واحد ذرائع آنکاڑہ ڈیم ہے جس کی کل اسٹوریج صلاحیت 17ہزار ایکڑ فٹ ہے لیکن اب یہ صرف 6ہزار ایکٹر فٹ تک پہنچ چکا ہے جو گوادر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پانی اسٹور نہیں کرسکتا۔
شکیل احمد بلوچ نے موجودہ آبادی کی لحاظ سے گوادر میں پانی کی ضرورت کے حوالے سے پاک وائسز کو بتایا:’’اس وقت گوادر کو ایک دن میں 70سے 80لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے اورہم 12سے 15لاکھ گیلن پانی ٹینکروں کی ذریعے سے شہر کو سپلائی کررہے ہیں جو بہت کم ہے”۔
:ڈیسالینیشن پلانٹ جزوی طور پر بحال
اے ڈی سی قربان مگسی نے پاک وائسز کو بتایا: ’’ کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ کے کل 6موٹرز ہیں جن میں سے صرف ایک کو فعال کیا گیا ہے جو دن میں 3لاکھ گیلن پانی فراہم کرے گا اگر باقی تمام  موٹرز کام کرنا شروع کردیں تو 20لاکھ پانی فراہم کرسکتاہے۔
گوادر میں موجودہ پانی کے بحران کے پیش نظر انتظامیہ نے پلانٹ کے صرف ایک یونٹ کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’’ کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ اب تک مکمل رننگ میں نہیں ہے تاہم ہمارے انجینئرز کام کررہے ہیں اور جلد اس
کو مکمل فعال کر کے پانی بحران پر قابو پا لیں گے”۔
پانی بحران مسئلہ کا مستقل حل:میرانی ڈیم سے گوادر تک پائپ لائن؟
گوادر میں مسلسل پانی بحران کے حوالے سے بلدیہ چئیر مین عابد رحیم سہرابی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’2003میں میرانی ڈیم سے پائپ لائن بچھانے کے لیئے 3ارب روپے کی منظوری بلوچستان حکومت نے دی تھی اگراس پر عمل ہوتا تو آج کسی بھی صورت میں گوادر میں پانی بحران پیش نہیں آتا۔
ایکسئین شکیل احمد بلوچ نے میرانی ڈیم سے گوادر شہر کو پانی فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا:’’ہنگامی بنیادوں پر ٹینکروں کے زریعے سے گوادر شہر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میرانی ڈیم سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے کے لیے صوبائی حکومت سے بات ہوئی ہے، جب وہ منظوری دیں گے تو کام شروع ہوگا۔
رائیٹر کے بارے میں: بالاچ قادر بطور سٹیزن جرنلسٹ گوادر سے پاک وائسز کے لیے کام کر رہے ہیں۔
 ایڈیٹنگ: حسن خان
 

LEAVE A REPLY