پاک وائسز
سلیمان ہاشم 
زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال گوادر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ضلع گوادر کے مقامی حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 10افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
 حکام نے مزید کہا کہ یہ واقع گوادر کے علاقہ پشکان گنز روڈ پر ہفتے کی صبح پیش آیا ہے۔
عینی شاہد کے مطابق نجی کمپنی کے مزدوروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پشکان اور گنت کے علاقوں میں سڑک پر تعمیراتی کام میں مصروف تھے۔
لیویز ذرائع نے پاک وائسز کے نمائندہ سلیمان ہاشم کو بتایا کہ دو افراد ایک موٹر سائیکل پر آئے اور سب کو ایک قطار میں کھڑا کر کے گولیاں برسانا شروع کر دی۔
زخمی ہونے والے مزدوروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گوادر منتقل کیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت خطرے میں بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیم اور مقامی لوگ  ذخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کرنے میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔
پاک وائسز کے نمائندے ظریف بلوچ  نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 9 مزدوروں کی شناخت کر لی گئی ہے جن میں محمد خان، علی دوست، شعبان، عبداحکیم، رسول بخش، وحید، ظہیر ، صدام، آصف کے نام شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والے مزدوروں کی نمازے جنازہ پڑھانے کے بعد ان کی میتوں کو سی 130 کے ذریعے ان کے آبائی علاقے بھیج دیا گیا ہے۔
بی بی اردو سروس نے لیویز حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہلاک ہونے والے مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقہ نوشہرو فیروزسے ہے۔
 یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب وزیر اعظم نواز شریف چین کے دورے پر ہیں۔
52 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے حوالے سے گوادر بندر گاہ کو مرکزی حثیت حاصل ہے۔ بندر گاہ کو گزشتہ سال فعال کیا گیا تھا تاہم سیکیورٹی کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں نائب چئیرمین سینٹ عبدالغفور حیدری کے قافلے کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں مقامی میڈیا کے مطابق  25افراد ہلاک جبکہ حیدری سمیت 42 فراد زخمی ہوگئے تھے۔

LEAVE A REPLY