سلیمان ہاشم

آنکارا کور ڈیم گوادر شہر کو پانی کی سپلائی کا واحد ذریعہ جس میں پانی ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا ہے۔فائل فوٹو ۔پاک وائسز

آج کل جب ہر کوئی گوادر کو دبئی ، سنگاپور اور کبھی ہانگ کانگ انٹرنیشنل پورٹ جیسا بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن زمینی حقائق مختلف صورتحال پیش کر رہے ہیں جیسے گوادر کے باسیوں کو پانی جیسی بنیادی ضروریات تک دستیاب نہیں ہیں۔

بارش کی کمی کے باعث گوادر شہر کو ایک بار پھر پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

آئے روز شہری پانی کی کمی کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں لیکن حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بین القوامی بندر گاہ بنانے کا بھوت اپنی جگہ لیکن پانی کی فراہمی کا منصوبہ کہی نظر نہیں آتا۔

 ادھر معمولی بارش ہونے کی دیر ہے کہ سرکار سمیت سب ہی پانی کے مسئلہ کو بھول جاتے ہیں۔

گوادر کے یو سی جنوبی علاقے کے رہائشی کیپٹن خدا بخش گزشتہ تین دنوں سے سمندر میں شکار کے لئے نہیں گئے۔ اس کی وجہ جانئیے انہی کی زبانی:مجھے اپنے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے لئے پانی کی تلاش ہے۔

انہوں نے پاک وائسز کو بتایا کہ وہ شہر کے یوسی شمال میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر سے پینے کا پانی لانے پر مجبور ہیں۔

آنکارا کور ڈیم1992میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی توسیع کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے لیکن بارشیں نہ ہونے کے باعث ڈیم خشک ہو گیا ہے۔ فائل فوٹو۔پاک وائسز

گوادر کو پانی فراہم کرنے والے آنکارا کور ڈیم کو 1992 میں جب بنایا گیا تھا اس وقت گوادر کی آبادی 25/30ہزار سے زیادہ نہ تھی اور گوادر کے مصافاتی علاقوں کو سنٹ سر کور سے بورینگ سے میٹھا پانی سپلائی ہوتا تھا، جو گوادر کی قلیل آبادی کے لئے کافی تھا۔

 گوادر کے حالات 2017میں یکسر تبدیل ہو چکے ہیں جب گوادر کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 2لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

 طویل خشک سالی سے سال 2012 میں ڈیم پہلی بار خشک ہو گیا تھا جس کے بعد سال 2014 ،سال 2016 اور اب سال 2017میں مکمل خشک ہو چکا ہے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے انہیں ایک بوند پانی بھی نہیں مل رہا ہے۔

 ادھر گوادر کی خواتین مٹکے اور برتن لیکر گلیوں میں پانی کی تلاش میں دربدر ہو رہی ہیں۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجیرینگ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گوادر شہر کی پانی کی ضرورت یومیہ 30 لاکھ گیلن سے لیکر 50لاکھ گیلن تک ہے۔

محکمہ کے مطابق گوادر کے شہریوں کو تقریبا 8لاکھ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کا مطلب کم از کم 22لاکھ گیلن کی کمی ہے۔

گزشتہ بحرانوں کی طرح اس بار بھی انتظامیہ عارضی حل کے طور پر گوادر اور اس کے مضافاتی علاقوں کے لیے واٹر باوزر کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔

پانی بحران پر قابو پانے کے لیے ٹینکر کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔پانی کا ایک گیلن 150روپے کا فروخت کیا جاتا ہے۔فوٹو: سلیمان ہاشم

دوسری جانب واٹر ٹینکر مالکان کا رونا ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے کروڑوں روپے کی مقروض ہے۔ “جب سرکار ہمیں ہماری رقم واپس کرے گی تو ہم مزید پانی لانے کے لئے تیار ہیں”۔

پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے ایک ٹینکر مالک موسی بلوچ نے بتایا کہ انہیں ٹینکر کے پچھلے پھیروں کی رقم بھی ابھی ادا نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ایک ٹرپ کے 16 ہزار روپے کے حساب سے میرے 35 پھیروں کے5 لاکھ 60 ہزار روپے بنتے ہیں جو مجھے ابھی تک نہیں ملے ہیں۔

 فی الحال ٹینکر گوادر شہر سے 80کلو میٹر دور سوڈ ڈیم سے پانی لا رہے ہیں لیکن یہ پانی بھی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں ٹینکروں کو 160کلو میٹر دور میرانی ڈیم سے پانی کا بندوبست کرنا پڑے گا۔

اس بار بھی پانی کی منصفانہ تقسیم کا کام آرمی کے سپرد کیا گیا  ہے جس پر شہریوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ لیکن گوادر کے شہری اب بھی پینے کے صاف پانی کا ایک گیلن 150 روپے پر لینے پر مجبور ہیں جب کہ نہانے اور کپڑے برتن دھونے کے لئے بورنگ سے کھارے پانی کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

 رائیٹر کے بارے میں: سلیمان ہاشم پاک وائسز کے ساتھ گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کررہے ہیں۔

ایڈیٹنگ:حسن خان

LEAVE A REPLY