سلیمان ہاشم 

گوادر کے آغا خان کمیونٹی کے نام سے ایک صدی قدیم اسکول کی عمارت زبوں حالی کا شکار ہے

 گوادر۔1905میں گوادر میں قائم کیے جانے والے آغا خان کمیونٹی اسکول کو آج شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ 2004 میں اسکول کو بند کر دیا گیا لیکن پھر ایک باہمت اور کمیونٹی کی خدمت سے سرشار ٹیچر  یاسمین عزیز نے  2008 میں اسکول کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اسکول  گوادر کے ماہی گیروں کے بچوں سمیت طلبا کو سستی اور میعاری تعلیم فراہم کر رہا ہے لیکن  حکومتی اور آغا خان فاؤنڈیشن کی  سرپرستی  نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔

:پس منظر 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ گوادر شہر میں علم کی پہلی شمع روشن کرنے کا سہرا تقریبا ایک صدی قدیم اسکول کے سر ہی جاتا ہے۔ آغا خان کمیونٹی  اسکول نے اسماعیلی برادری کے علاوہ  مقامی ماہی گیروں کے بچوں کے لیے بھی اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔

 :فنڈز کی کمی اسکول لے ڈوبی 

اسکول میں مقامی ماہی گیروں کے بچوں کے لیے سستی مگر میعاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

گوادر پاکستان میں شامل ہونے کے بعد  اسماعیلی برادری نے بھی دیگر اقلیتوں کی طرح آہستہ آہستہ کراچی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ رہی سہی کثر  بلوچستان کے خراب ہوتے حالات نے نکال دی۔ ان حالات میں 2004 میں اسکول کو فنڈز کی کمی کے باعث بند کر دیا گیا جس سے تقریبا ہزار بچے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

:ماہی گیروں کےبچوں کے روشن مستقبل کی آخری امید: یاسمین عزیز

آغا خان یونیورسٹی کی گریجویٹ یاسمین عزیز نے 2004 میں اسکول کی بحالی کا بیڑا اٹھایا لیکن آغا خان فاؤنڈیشن یا حکومت کی جانب سے آج تک کسی قسم کا تعاون نہیں کیا گیا۔

ایسے میں اسی اسکول سے تعلیم حاصل کرنے والی  یاسمین عزیز نے کمیونٹی اسکول دوبارہ کھولنے کا بیڑا اٹھایا۔

یاسمین جو اسکول کی موجودہ پرنسپل بھی ہیں نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : “میں ہمیشہ سے اپنے اسکول کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی ،کیونکہ آج میں جو بھی ہو اسی اسکول کی وجہ سے ہوں۔”

اپنی کمیونٹی کی خدمت کے جذبے سے سرشار  آغا خان یونیورسٹی کراچی کی فارغ التحصیل ٹیچر یاسمین کے لیے مواقعوں کی کمی نہ تھی لیکن انہوں نے گودار کے پسماندہ علاقے کے بچوں کے مستقبل کو  ترجیح دی۔

ان کی آغا خان اسکول میں آمد گوادر شہر کے جنوب میں پسماندہ کماڑی محلے کے بچوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری کا پیغام لے کر آئی۔

:ماہی گیروں کا اسکول کو فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ

کمیونٹی اسکول میں ماہی گیروں کے بچوں کی بھی قابل ذکر تعداد زیر تعلیم ہے۔ماہی گیری سے وابستہ ایک ایسے ہی والد مولا بخش کا بیٹا پانچویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ انہوں نے پاک وائسز کو بتایا  کہ وہ مہنگے اسکول میں اپنے بچے کو تعلیم کے لیے بھیجنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔”میرے جیسے بہت سے ماہی گیر اپنے بچوں کے لیے میعاری تعلیم کا صرف خواب دیکھ سکتے ہیں لیکن کمیونٹی اسکول نے ہمیں ہمارے خواب کی تعبیر دکھائی ہے”۔

اسکول میں نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک بچے بڑھ رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق اس وقت اسکول میں تقریبا  120زیر تعلیم ہیں۔ سات گریجویٹ اساتذہ ٹیچنگ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ اسکول کی عمارت کی طرف بھی کسی نے توجہ نہیں دی جس کے باعث یہ زبوں حالی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اسکول پرنسپل کہتی ہیں: “اسکول کی عمارت بہت پرانی ہے، اس کی مرمت اور رنگ و روغن کی ضرورت ہے”۔

رائیٹر کے بارے میں : سلیمان ہاشم گودار سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY