برکت اللہ بلوچ
پاک وائسز، گوادر
گوادر میں مسقط سٹی گوادر کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم جہاں حالیہ دنوں میں ترقیاتی کاموں میں کافی تیزی دیکھی گئی ہے۔
چین پاکستان اکنامک کوریڈر منصوبے کے بعد ایک بار پھر گوادر میں پراپرٹی کا کاروبار عروج پر ہے۔ ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں اور سرمایہ کاروں نے پھر سے گوادر شہر کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
پس منظر:
2002میں جنرل( ر) پرویزمشرف کے دور حکومت میں گوادر پورٹ کی بنیاد رکھنے کے بعد گوادر کی زمینیں راتوں رات مہنگی ہو گئیں۔ وہ زمینیں جو کل تک کوڑیوں کے دام بھی نہیں بکتی تھیں ان کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگ گئیں اور ریئل اسٹیٹ کا کاروبار عروج کو پہنچ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں اسٹیٹ ایجنسیاں کھلنے لگیں۔لیکن گراؤنڈ پر بہت سی ہاؤسنگ اسکیموں نے ترقیاتی کام نہیں کیا۔
سادہ لوح لوگوں سے ان کی قیمتی زمینیں اونے پونے بھاؤ لگا کر خرید کر باہر مہنگے داموں میں فروخت کیں۔اور یوں ایک تو مقامی لوگ اپنی قیمتی زمینوں سے بھی محروم ہو گئے اور دوسرا ان کو بہتر معاوضہ بھی نہیں ملا۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال مارچ میں گوادر کے دورہ کے دوران مقامی لوگوں کی اس حق تلفی کے ازالے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
گوادر میں زمین کے کاروبار میں بے قاعدگی کے بھی انکشافات ہوتے رہے ہیں۔ایک ہی زمین کو کئی دفعہ فروخت کرنے اور خریدنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔اور ایک ہی زمین پر کئی لوگ  ملکیت کے دعویدار نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی گوادر کے ایک رہائشی نصیر کلانچی کا کہنا ہے کہ “نیوٹاؤن فیز 4 میں واقع میرے پلاٹ کی ملکیت کا دعوے دار ایک دوسرا شخص بھی ہے۔ (مبینہ طور پر) اس پلاٹ کے مالک نے پلاٹ مجھے فروخت کرنے کے بعد اس کے جعلی کاغذات بناکر زمین کسی اور کو بھی فروخت کر دی۔”
پراپرٹی مارکیٹ کی تیزی مندی:
آج کل پاکستان کے بڑے شہروں میں  گوادر ریئل اسٹیٹ سے متعلقہ دفاتر اور اور بڑے بل بورڈز دیکھنے کو ملیں گے۔اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ گوادر میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں مقامی لوگوں سے  زیادہ غیر مقامیوں نے فائدہ اٹھایا۔
گوادر ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں تیزی اور مندی کے  رحجان نے بھی لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔ایک دن زمین کی قیمتیں بلندی کی آخری سطح پر ہوتی ہیں تو دوسرے دن انتہائی نیچے گرجاتی ہیں۔ گوادر سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر نواحی علاقے زیارت مچی کے رہائشی غلام حیدر کا کہنا ہے کہ “ایک سال قبل انہوں  نے جو زمین 1لاکھ فی ایکٹر فروخت کی وہی زمین آج 10لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔”

 

برج ال گوادر ہاأؤسنگ اسیکم کا ایک منظر
جب سے گوادر میں دوبارہ زمین کی قیمتیں اوپر جانا شروع ہوئیں ہیں ،ایک ہی زمین کے کئی والی وارث سامنے آگئے ہیں۔ ملکیت کے دعوے کرنے والوں کے اشتہارات سے مقامی اخبارات بھرے پڑے ہیں۔ مقامی صحافی جاوید بلوچ کا کہنا ہے کہ “ہمارے پاس آنے والے اشتہارات میں سے 40 فیصد اشتہارات ملکیت کے دعوے کرنے والوں کے ہوتے ہیں جن کی شکایت ہوتی ہے کہ ان کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔”
ساحل سمندر بھی الاٹ: 
زمینوں کے کاروبار سے سب سے زیادہ فائدہ مبینہ طور پر پٹواریوں نے اٹھایا ہے جن پر با اثر افراد کی جانب سے قیمتی زمینوں پر قبضہ میں معاونت کرنے کا الزام ہے۔ آج بھی لوگوں کو یاد ہے کہ کس طرح سے ساحل سمندر کو بھی لوگوں کے نام الاٹ کر دیا گیا جسے بعد میں حکومت نے ایکشن لے کر منسوخ کر دیا۔
زمین کے کاروبار سے وابستہ افراد کہتے ہیں کہ آج بھی زمینوں کی نمائش سے لیکر پیمائش تک پٹواریوں کی جیب بھرے بغیر ممکن نہیں ہے۔
“سرکاری قبضہ”
گوادر کے نواحی علاقہ زباد ڈن میں صوبائی حکومت نے کئی ہزار ایکڑ الاٹمنٹ منسوخ کرکے زمین کو سرکاری قرار دے دیا ہے۔ جس پر مقامی لوگوں کا دعوی ہے کہ یہ انکی جدی پشتی زمینیں ہیں۔ زباد ڈن ایک غیر آباد اور سب تحصیل پشکان کا قریبی علاقہ ہے۔ پشکان کے سابق ناظم بابا آدم کا کہنا ہے کہ “یہ زمینیں صدیوں سے لوگوں کی ملکیت چلی آرہی ہیں انھیں یک جنبش قلم منسوخ کرنا کسی بھی طرح جائز اقدام نہیں قرار دیا جاسکتا۔” مقامی لوگ اسے “سرکاری قبضے” کا نام بھی دے رہے ہیں۔
پراپرٹی میں بوم کے بعد درجنوں نجی ہاؤسنگ اسکیموں کو بحال کیا جا رہا ہے۔لیکن ان میں سے کئی ہاؤسنگ اسکیموں کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب مطلوبہ شرائط پوری نہ کرنے کے باعث معطل بھی کیا جا چکا ہے۔
گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کےڈائریکٹر ٹائون پلاننگ شاہد علی کا کہنا ہے کہ “معطل کی جانے والی ہاؤسنگ اسکیم کے مالکان جی ڈی اے کے شرائط پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے ان کےلائنسس کو معطل کیا گیا ہے۔” این او سی معطل ہونے والی ہاؤسنگ اسکیموں میں گوادر کے نواحی علاقوں میں چٹی شمالی میں واقع گلبرگ سٹی ہائوسنگ اسکیم ، پراہیں توک میں واقع فالکن ہومز، کیا کلات میں واقع رابعہ سٹی اور شابی میں واقع گوادر رائل گارڈن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سرکاری ہاؤسنگ اسکیموں نیوٹائون اور سنگار ہاؤسنگ اسکیم میں بھی لوگوں کی جانب سے بے قاعدگیوں کے الزامات  سامنے آتے رہے ہیں۔
متاثرین کی ایک جیسی کہانی:

 

پراپرٹی بوم کے بعد گوادر میں اسٹیٹ ایجنٹوں کے نئے دفاتر بھی کھل رہے ہیں۔
گوادر کے رہائشی محمد حنیف نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “فرنٹ پر واقع میرے ایک پلاٹ کو نیوٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کے زمہ داران نے (مبینہ) گھپلہ کرکے کسی اور کو الاٹ کیا اور مجھے بیک سائیڈ کا پلاٹ الاٹ کیا گیا میں نے اس پر سخت احتجاج کیا لیکن کہی شنوائی نہیں ہوئی۔”
ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ گوادر کے مقامی نوجوان محمد اکبر کا کہنا ہے کہ سنگار ہاؤسنگ اسکیم میں واقع ان کے ایک کلائنٹ  یوسف دیوان کے ایک ہزار گز کمرشل پلاٹ کو اس کے مالک نے دیوان کو فروخت کرنے کے بعد اس کے جعلی کاغذات بناکر اسے کسی اور کلائنٹ کو دوبارہ فروخت کردیا۔ دیوان کی جانب سے متعلقہ اداروں کو شکایت درج کرانے کے باوجود ابھی تک انہیں انصاف نہیں مل سکا۔
زمینوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متعلق ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک مقامی تاجر نصیر احمد کا کہنا ہے کہ “یہ سب ریئل اسٹیٹ والوں کا کھیل ہوتا ہے وہ زمینوں کا ریٹ گراکر زمینیں سستی داموں میں خریدتے ہیں اور جب انھیں اپنی زمینیں نکالنی ہوتی ہیں تو قیمتوں کو بڑھا دیا جاتا ہے یا کسی مخصوص فیز یا ایریا کی زمینوں  کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی جاتی ہے اور اس طرح زمین کی قیمتیں  بڑھ جاتی ہیں اور کروڑوں کے فائدے حاصل کئے جاتے ہیں۔”
گوادر کا نیا ماسٹر پلان خفیہ کیوں ؟
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے مرکزی رہ نما عبدالعزیز بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کے لئے ہزاروں ایکڑ زمین درکار ہے۔انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ نئے ماسٹر پلان جسے ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے جس میں اولڈسٹی کو مکمل طورپر اپنی جگہ سے منتقل کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔
 مقامی لوگوں کے مطابق گوادر کے علاقہ ملا بند ایریا کے ایک حصے کو نئی جگہ شفٹ کیا جاچکا ہے۔اس کے علاوہ گوادر پورٹ کے شمال میں واقع علاقہ ڈھور کو بھی عنقریب شفٹ کرنے کا منصوبہ ہے لیکن اس حوالے سے لوگوں کا سب سےبڑا اعتراض معاوضوں پر ہے۔ڈھور کے علاقے کو فری زون ڈیکلیئر کیا ۔گیا ہے
ڈھور کے رہائشی عبدل کا کہنا ہے کہ “ہمیں مارکیٹ ویلیو کے حساب سے معاوضہ نہیں دیا جارہا ہے جو ہماری حق تلفی ہے اور کم معاوضہ پر ہم اپنی زمینیں کسی بھی صورت خالی نہیں کریں گے۔”
گوادر کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ایک خاص معاوضے پر شفٹ نہ کیا جائے بلکہ ان کی زمینوں کو لیز پر لیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے آباؤ اجداد کی زمینوں سے بے دخلی کی صورت میں ایک بہتر معاوضہ مل سکے۔ گوادر کے معروف صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ “گوادر سے سب سے زیادہ فائدہ  ریئل اسٹیٹ  کے کاروبار سے وابستہ لوگوں نے اٹھایا ہےجبکہ بہت سے عام لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے خریدی زمین سے محروم ہو گئے ہیں۔”
رائیٹر کے بارے میں: برکت اللہ بلوچ گوادر سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY