بالاچ قادر
گوادر، پاک وائسز
بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں مشکیزے کا استعمال آج بھی کیا جا رہا ہے۔
آپ یہ سن کر یقینن حیران ہوں گے کہ بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں مشکیزے کی روایت آج بھی زندہ ہے۔  بلکہ گوادر کی طرح بعض شہروں میں بھی مشکیزے کے پانی کو فریج پر ترجیحی دی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ مشکیزے کے پانی کا الگ ہی ذائقہ ہوتا ہے اور پھر ٹھنڈا بس اتنا ہی کہ گلہ بھی نہ پکڑا جائے۔
تاریخی پس منظر:
مشکیزہ کو بلوچی زبان میں مشک کہتے ہیں۔ مشکیزہ کی تاریخ بہت قدیم اور ہزاروں سال پرانی ہے بلکہ روایت کے مطابق بلوچ زمانہ قدیم سے اسے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ بلوچ تاریخ دان کہدہ الیاس کہتے ہیں، ’’ مشکیزے کی ایک طویل تاریخ ہے جس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں تاہم ہمارے(بلوچ) آباؤ اجداد ہزاروں سال پہلے مشکیزے کو استعمال کرتے آرہے ہیں۔‘‘
بلوچ لکھاریوں نے بھی بلوچی ثقافت میں مشکیزے کی افادیت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسےبلوچ قوم کا ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔
معروف صحافی و بلوچ دانشور نور محسن نے پاک وائسز کو بتایا کہ’’بلوچ قوم ایک مضبوط ثقافتی تاریخ کی مالک ہے اور مشکیزے کو بھی کبھی دل سے نہیں نکالا جاسکتا۔”
مشکیزہ تیار کیسے ہوتا ہے؟
اچھی کوالٹی کے مشکیزہ کو کیکر کے جھلکوں والے گرم پانی میں  ابالا جاتا ہے۔
مشکیزہ چمڑے سے تیار کیا جاتا ہے جو عموما بکری کی کھال کا ہوتا ہے ۔کھال نکالنے کے بعد اسے کئی دنوں تک سورج کے نیچے رکھا جاتا ہے تاکہ یہ مکمل خشک ہوجائے۔خشک ہونے کے بعد کیکر کے درخت کے چھلکوں کو گرم پانی میں ابالا جاتا ہے جو کھال کو رنگنے کے اور مضبوط بنانے کے کام آتے ہیں۔
اس حوالے سے مشکیزہ بنانے والی عورت گُلاتوں بی بی نے کہا کہ’’کیکر کے درخت کے چھلکوں کو گرم پانی میں ابال کر اس میں کھال کو ڈال دیتے ہیں تاکہ یہ مضبوط ہوجائے اور پانی بھرنے سے پھٹے بھی نہ۔‘‘
کھال کو تقریباّ 20 یا 25 دن تک چھلکوں کے رنگین پانی میں رکھنے کے بعد ریشم کی رسی سے اس کے سوراخ بند کیے جاتے ہیں اور پانی نکالنے کا راستہ بنایا جاتا ہے۔
بازار میں قیمت:
مشکیزہ بنانے والی نابینا خاتون بی بی لالین نے پاک وائسز کو بتایا کہ’’مشکیزہ کی قمیت اس کے معیار پر انحصار کرتی ہے ۔اچھے قسم کے مشکیزوں اور سست قسم کی مشکیزوں کی قیمت میں فرق ہوتا ہے،ہم اپنے بنائے ہوئے مشکیزوں کو 1000سے لیکر 3000تک فروخت کرتے ہیں۔”
بلوچو ں کی ثقافت کو اجاگر کرنے والے ادارے بلوچ کلب کے رکن اور بلوچی زبان کے نوجوان شاعر اکبر جنگیان نے بتایا کہ ’’ مشکیزہ بلوچ قوم کا فریج ہے، جیسا کہ دنیا کے ممالک اپنی شاہکار ٹیکنا لوجی پر فخر محسوس کرتے ہیں اسی طرح بلوچ کو بھی اس شاندار ثقافتی ورثے پر فخر ہے۔”
رائیٹر کے بارے میں: قادر بالاچ پاک وائسز کے ساتھ گوادر شہر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY