برکت اللہ بلوچ

پاک وائسز، گوادر

بجلی کے بحران کے باعث گوادر میں لوگ توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک )کے منصوبے میں گوادر کی بندر گاہ کو مرکزی حثیت حاصل ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو بھی اس کی ترقی سے جوڑا جا رہا ہے۔سی پیک کے تحت گوادر میں صنعتی زون اور فری زون بھی بنائیں جانے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب بجلی کے بغیر ممکن ہو سکے گا؟
سی پیک کے تحت 30 مئی 2017 کو حکومت پاکستان اور ایک چینی کمپنی کے درمیان گوادر میں 300 میگاواٹ بجلی گھر کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا ہے۔150میگا واٹ کا پہلا پلانٹ 2022 تک مکمل کیا جائے گا۔
گوادر کی بجلی کی موجودہ ضرورت 40 میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ شہر میں موجودہ پیداوار اس کا نصف بھی نہیں ہے۔صنعتی زون کے بعد بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صنعتی زون اور فری زون کے قیام کے لیے درکار سرگرمیاں بجلی کی عدم دستیابی میں کیسے ہوں گی۔
 گوادر کے ایک ٹیلر صلاح کار چمن داس بجلی کی آنکھ مچلی سے کافی پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کے پاس سلائی کے آرڈرز کی کمی نہیں لیکن کمی ہے تو بس بجلی کی۔ “لوڈشیڈنگ کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں اٹھانا پڑرہا ہے۔ہمارا کام کا انحصار بجلی پر ہے جب بجلی ہی نہیں ہوگی تو ہمارا کام کیسے چلے گا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ “وولٹیج کی کمی بیشی کے سبب ہماری قیمتی مشینیں جل رہی ہیں اور جنریٹر فیول کا اضافی خرچہ بھی ہمیں اٹھانا پڑرہا ہے۔”
سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں گوادر، کیچ اور پنجگور کو بجلی کی فراہمی کے لیے  پڑوسی ملک ایران سے 70 میگاواٹ بجلی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں سے 15 میگاواٹ گوادر کو ملتے ہیں۔
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی ( کیسکو) گوادر کے ایکسیئن حسن علی مگسی نے پاک وائسز کو بتایا کہ “بجلی کی رسد میں کمی کے باعث بجلی کا بحران پیدا ہورہا ہے اس وقت مکران کو 100 میگاواٹ بجلی  فراہم کی جارہی ہے جبکہ بجلی کی طلب 150میگاواٹ ہے۔ طلب اور رسد میں فرق کے باعث صارفین کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔”
بجلی کی بندش کے باعث لوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہورہا ہے۔ انجمن تاجران جنت بازار کے صدر ماجد بلوچ کا کہنا ہے کہ “بجلی کی کمی کے باعث ہمارے کاروبار پر کافی منفی اثر پڑا ہے اور بہت سے کاروبار بند ہونے لگے ہیں۔”
گوادر بندر گاہ میں ترقیاتی کام جاری ہے لیکن کیا صنعتی زون کا قیام بجلی کی فراہمی کے بغیر ممکن ہے۔
 گوادر کے عوام کو اس وقت اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا  بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔حکومت کی جانب سے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 گھنٹے ہے جبکہ شہر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔
اس حوالے سے کیسکو کے حسن علی کا کہنا ہے کہ “غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ فنی خرابی ہے۔شہر میں اس وقت صرف 3 فیڈر کام کررہے ہیں جبکہ ضرورت 6 فیڈروں کی ہے۔”
بجلی کی طویل بندش کے باعث گوادر شہر میں اس وقت جنریٹر اور شمسی توانائی فراہم کرنے والی پلیٹس کی مانگ ہے۔اور جگہ جگہ جنریٹر اور شمسی توانائی فراہم کرنے والی پلیٹس کی دکانیں کھل گئی ہیں۔
گوادر کےایک مقامی دکاندار علی جان کا کہنا ہے کہ بجلی کے متبادل ذرائع کے طور پر جنریٹر کے استعمال سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کا بوجھ عام شہری بھی اٹھاتے ہیں۔”
ایک بزرگ شہری عبدالرحمن حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ “یہ کیسی ترقی ہے جس میں ہم بجلی کے لئے تڑپ رہے ہیں؟ “
گوادر کے عصاء وارڈ کے ایک رہائشی نواب خان کے مطابق کیسکو کی جانب سے لوگوں کی شکایت پر اس وقت تک نوٹس نہیں لیا جاتا جب تک وہ سڑکوں پر نہ نکلیں۔” گزشتہ ماہ جب ہمارے ایریا کا ٹرانسفارمر جل گیا تھا تو کیسکو اہلکاروں کو آگاہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود ایکشن نہیں لیاگیا۔”
کیسکو کے حسن علی کہتے ہیں: “کیسکو کو نفری کی کمی کا سامنا ہے اور شکایات کے انبار ہیں، ایسے واقعات کا فوری نوٹس لینا ممکن نہیں ہے۔”
کیسکو اہلکار قادر بلوچ نے پاک وائسز سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ “ٹرانسفارمر کے جلنے کی ایک بڑی وجہ اوور لوڈنگ ہے۔ کمرشل اور رہائشی دونوں کا لوڈ ایک ہی ٹرانسفارمر پر ہوتا ہے جس کے باعث ٹرانسفارمر لوڈ برداشت نہیں کرتا اور فنی خرابی پیدا ہوتی ہے۔”
بجلی کے بحران کے حوالے سےچیئر مین گوادر پورٹ  اتھارٹی دوستین خان جمالدینی نے پاک وائسز کو بتایا کہ “ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی کا معاہدہ ہوچکا ہے لیکن ایران پر پابندیوں کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہ ہوسکاہے۔” ایران نے تقریبا 80 فیصد کام مکمل کر لیا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے کام باقی ہے۔ ایران سےاقتصادی پابندیاں اٹھنے کے بعد ایک بار پھر اس منصوبے کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: برکت اللہ بلوچ پاک وائسز کے ساتھ گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 
ایڈیٹنگ: حسن خان 

LEAVE A REPLY