عارف نور
ایڈیٹر نوٹ: پاک وائسز نے گوادر کی ثقافت اور سی پیک جیسے میگا منصوبے کے مقامی ثقافت پر پڑنے والے اثرات پر رپورٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ رپورٹ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
سیاح گوادر کے حلوے کی سوغات دوستوں کے لیے ساتھ لے جانا نہیں بھولتے۔
جب سے سی پیک کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے گوادر بندر گاہ کا چرچا پورے پاکستان میں ہے۔ میگا پراجیکٹ قومی میڈیا کی شہ سرخیوں کی بھی زینت بنا رہتا ہے۔ لیکن اگر بات کی جائے گوادر کے لوگوں اور ان کی ثقافت کے بارے میں تو میڈیا کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
اسی لیے پاک وائسز نے مقامی مشہور خدا بخش حلوے پر ایک خصوصی رپورٹ تیار کی ہے۔
 سبز رنگ کا حلوہ گوادر کی مشہور سوغات ہے۔یہ حلوہ اپنے مخصوص ذائقے اور مٹھاس کی وجہ سے مکران۔کراچی ۔اندرون بلوچستان سمیت خلیج کے مختلف ممالک اور ایران میں بھی کافی پسند کیا
جاتا ہے۔ اور بطور تحائف اسے بھیجاجاتا ہے۔
حلوے کی اصل کہانی!

مقامی لوگوں کے مطابق گوادر میں 60 یا 70سال پہلے حلواہ بنانے کی ابتدا ہوئی۔

گوادر میں حلوے کے کاروبار سے منسلک فیض بلوچ نے پاک وائسز کو بتایا کہ، “ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ”بندالی” نامی حلوائی نے پہلی دفعہ گوادری حلواہ بنایا جبکہ خدابخش نامی نوجوان نے اس کی دکان میں کام کیا۔”

کہانی کچھ یوں ہےکہ خدا بخش نے بندالی حلوے کی ریسی پی میں اپنا فارمولا ملایا تو گوادری حلوے کا ذائقے کی الگ پہچان ملی۔ اس طرح خدا بخش نے اپنی دوکان کھولی جو آج بھی ان کی اگلی نسل چلا رہی ہے۔

خدا بخش حلوائی:

گوادر میں ویسے تو تقریبا ایک درجن حلوے سے سجی دکانیں ہیں مگر گوادر کے شاہی بازار میں موجود خدابخش حلوائی کے پاس گاہکوں کا رش زیادہ ملے گا جہاں ملک اور اندرون ملک سے آنے والے سیاح گرم اور لذیذ حلوہ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ثقافتی ناقد میران قاضی کا کہنا ہے کہ “گوادری حلوہ اپنی مٹھاس اور لذت کی وجہ سے زمانہ قدیم سے مشہور ہے۔اور خوشی اور غم کے موقع پر مہمانوں کی خاطر تواضع گوادری حلوہ سے ہی کی جاتی ہے۔”

فیض بلوچ نے گوادری حلوہ کی ریسی پی کے بارے میں پاک وائسز کو بتایا: “گوادری حلوہ کی تیاری میں مکئ کا آٹا۔چینی گھی۔اور خشک میوہ جات کا استعمال کیا جاتا ہے۔خشک میوہ جات میں مونگ پھلی۔پستہ۔بادام۔ کاجو اور اخروٹ گوادری حلوہ بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کہ کراچی اور کوئٹہ سے منگوائے جاتے ہیں۔”

حلوے کا موجودہ رنگ سبز ہے جو روایت کے مطابق کبھی سفید اور زرد ہوتا تھا۔

 حلوے کے رنگ:

فیض نے حلوے کے رنگوں کے بارے میں بتایا: ” شروع میں گوادری حلواہ سفید رنگ کا ہوتا تھا۔اور پھر زرد رنگ کا۔ اب سبز رنگ گوادری حلوہ کی پہچان بن چکا ہے۔”

تیاری کا مرحلہ:

” تانبے سے بنی بڑی گول سی دیگچی حلوہ بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اور ہر دیگچی سے دس کلو حلوہ تقریبا ایک گنھٹے میں تیار ہوجاتا ہے۔ “

“حلوے کی دوکان میں کام کرنے والے ملازم مجیب بلوچ نے کہا کہ گوادری حلوہ کی ایک خوبی یہ ہے، “اگر ایک سال تک اسے رکھا جائے تو بھی خراب نہیں ہوگا۔اور حلوے کی لذت اور ذائقہ برقرار رہتا ہے۔”

گرما گرم حلوہ:

انہوں نے مزید بتایا: “مارکیٹ میں چونکہ گرم حلوہ کی ڈیمانڈ ہوتی ہے اس لئے حلوہ روزانہ اتنا بنایا جاتا ہے کہ شام تک ختم ہوجائیں۔”

“نیک شگون”:

گوادر میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب کوئی کشتی تیار ہوتی ہے تو اسے سمندر میں اتارنےکے وقت ماہی گیروں میں گوادری حلوہ بانٹا جاتا ہے کیونکہ مقامی لوگوں کے مطابق اسے ایک نیک شگون سمجھا جاتا ہے۔

خدابخش حلوہ مارکیٹ فی کلو حلواہ 220 روپے کے حساب سے ملتا ہے۔

گوادر کے ادیب اور سماجی کارکن کے بی فراق نے حلوے کے بارے میں کچھ یوں کہا: “ہر کلچر کے کھانے کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے اور گوادری حلوے کا ذائقہ بھی یہاں کے لوگوں کی مٹھاس کو ظاہر کرتا ہے۔”

رائیٹر کے بارے میں :عارف نور پاک وائسز کے ساتھ گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ اور کورڈینیٹر کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY