جنت حمید

پاک وائسز، گوادر

گوادر کے ملا بند وارڈ کے سب سے پرانے رہائشی علاقے میں گندگی کے ڈھیر کا ایک منظر

یہ مناظر بلوچستان کے کسی دور دراز علاقےکے نہیں بلکہ گوادر شہر کے ہیں جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے میں مرکزی حثیت حاصل ہے۔گوادر کے لوگوں کی اصل حالت سے بے خبر حکمران ٹولہ بندر گاہ کو مستقبل قریب میں دوبئی اور سنگاپور بنانے کے خواب دکھا رہا ہے جبکہ زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔

گوادر جو اپنے محل وقوع لحاظ سے ایک دلکش جزیرہ نما  شہر ہے جس کے تین اطراف سمندر خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ آج سے چند سال پہلے گوادر شہر کا شمار صاف ترین شہروں میں کیا جاتا تھا مگر آبادی میں تیزی سے اضافے اور صفائی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث آج شہر کی حالت خراب ہے۔
 شہر کی گلیاں گندگی کا ڈھیر بنی ہوئی ہیں کوئی گلی نکڑ، کوئی چوراہا،چوک یا بازار ایسا نہیں جہاں گندگی کا ڈھیر نہ ہو۔شہر میں کوڑے دان جیسی چیز کہیں نظر نہیں آتی اور یہی وجہ ہے کہ جس کا جہاں دل چاہتا ہے کچرا پھنک دیتا ہے۔
جگہ جگہ کچرے کے ساتھ گٹر کا پانی بھی کھڑا نظر آتا ہے۔
ملا بند وارڑ گوادر میں 30 سال سے رہائش پذیر ماسی سکینہ نے پاک وائسز کو بتایا کہ “محلے میں کچرا ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی کوڑے دان ہیں اس لیے ہم اپنے گھروں کا کچرا سڑک اور گلی کے کناروں پر پھنیکنے پر مجبور ہیں”
کوڑے کے اس ڈھیر کو مقامی زبان میں سمات کہا جاتا ہے۔گلی محلوں میں نظر آنے والا یہ کوڑے کا ڈھیر علاقے میں نہ صرف بدبو پھیلانے کا باعث ہے بلکہ یہی کچرا مچھروں کی افزائش کی وجہ بن کر مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔
 صفائی کے لیے گوادر شہر میں بلدیہ کا ادارہ موجود ہونے کے باوجود صفائی کا فقدان نظر آتا ہے۔
ملا فاضل چوک کی رہائشی زیبا یعقوب نے پاک وائسز کو بتایا کہ “بلدیہ کے نمائندے صفائی کی غرض سے شازونادر ہی علاقے میں نظر آتے ہیں اور کبھی اگر صفائی کریں بھی تو برائے نام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ  “گٹر کا پانی کئی کئی ہفتوں کھڑا رہتا ہے اور آنے جانے والے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔”
گوادر بندر گاہ کا مشرقی علاقہ بھی گندگی کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں پاک وئسز نے میونسپل کمیٹی گوادر کے وائس چیرمین حاجی مولابخش سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا کچھ یوں تھا کہ “گوادر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس نفری،مشینری اور وسائل کی کمی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ  “یہی وجہ ہے کہ صفائی کا نظام حوصلہ افزا نہیں۔ہم اپنی مختصر سی نفری کو روزانہ کی بنیاد پر3 یونین کونسلز میں تقسیم کرکے صفائی کے لیے بھجواتے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ “ہمیں اور بھی مسائل کا سامنا ہے جیسے مختلف سرکاری اداروں کی صفائی کے لیے بھی ہماری مدد لی جاتی ہے اور ہماری نفری کو ہی طلب کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ  “اگر گوادر میونسپل کمیٹی کو کارپوریشن کا درجہ دے دیا جائے تو ہمارے وسائل بڑھ جائیں گے اور نتجتہ ہم صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔”
رائیٹر کے بارے میں: جنت حمید پاک وائسز کے ساتھ گوادر شہر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY