ذیشان علی 

پاکستان کا مستقبل ان دنوں اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت ہونے والی ترقی سے تعبیر  کیا جا رہا ہے جس میں کلیدی حیثیت گوادر شہر کی ہے مگر جیسے جیسے منصوبے میں پیش رفت ہو رہی ہے تو شہر کے باسیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

گوادر کی اسی فیصد آبادی ماہی گیروں پر مشتمل ہے اور ان کے روزگار کا واحد ذریعہ سمندر ہے اور اس میں موجود مچھلیاں اور دیگر سمندری حیات ہیں لیکن اب ان ماہی گیروں کو متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔

پہلے جب گوادر کی تعمیر مکمل ہوئی تو ماہی گیروں نے خدشات کا اظہار کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ابھی ان تحفظات کو دور کیا جانا باقی تھا تو روز گار کے لالے پڑ گئے۔

اس وقت ماہی گیروں کو ایک جانب ان کے سمندر میں  مچھلیاں پکڑنے کے لیے آنے والے بڑے اور جدید فشنگ ٹرالر ہیں تو دوسری جانب گوادر میں دن بہ دن بڑھتی سکیورٹی کی وجہ سے ان کو خدشہ ہے کہ ماہی گیروں کے زیر استعمال واحد گودی تک ان کی رسائی محدود ہو جائے گی اور اس کے ساتھ سمندر میں آزادنہ نقل و حرکت بھی متاثر ہو گی۔

گوادر میں ماہی گیروں  کی تنظیم گوادر مید اتحاد کے صدر قادر بخش نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریشانیاں تو بہت ہیں لیکن اگر کل کھانے کو کچھ نہیں ہو گا تو اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھریں گے اس کی سب سے زیادہ پریشانی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ یہ پریشانی چند برس پہلے اس وقت شروع ہوئی جب کراچی اور سندھ  سے ماہ گیروں نے اپنی جدید کشتیوں کے ساتھ ہماری حدود میں آنا شروع کیا مگر اب چین کے جدید فشنگ ٹرالرز کو بھی حکومت کی جانب سے اجازت نامے دئیے جا رہے ہیں۔ 

انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت چالیس اجازت نامے جاری ہو چکے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد چار سو کے قریب پہنچ جائے گی۔ 

قادر بخش کے مطابق اس وقت گوادر اور اس کے مضافات میں 90 ہزار سے ایک لاکھ ماہی گیر آباد ہیں اور اکثریت انتہائی غریب ہیں جس کی وجہ سے وہ جدید اور بڑی کشتیاں حاصل نہیں کر سکتے لیکن دوسری جانب ان کو جدید فشنگ ٹرالرز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اب ہماری آمدن 70 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ 

انھوں نے کہا ہے  کہ پہلے ہم صبح سویرے مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے اور دوپہر تک واپس آ جاتے تھے لیکن اب پورا پورا دن گزار کر بمشکل چار پانچ سو روپے ہی حاصل کر پاتے ہیں۔ 

ماہی گیروں کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ان کے جال میں کم مچھلیاں آ رہی ہیں بلکہ اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صدیوں سے چلے آ رہے سمندری نظام کو شدید خطرات کا سامنا ہے کیونکہ غیر مقامی ٹرالر ایسے غیر قانونی باریک جال استعمال کر رہے ہیں جو ایسی مچھلیوں کو بھی پکڑ کر لے جاتے ہیں جنھیں اصولاً دو  سے تین ماہ بعد پکڑا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ان علاقوں کو آلودہ ہونے کا خدشہ ہے جہاں یہ مچھلیاں انڈے دیتی ہیں۔ 

ماہی گیروں کی کئی سالوں سے جاری ان مشکلات اور اب ان میں آتی شدت کی وجہ سے حقوق انسانی کی تنظیم ہیومین رایٹس کمیشن پاکستان نے بھی گذشتہ ماہ جنوری میں اس مسئلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل آئی اے رحمان کے میڈیا میں آنے والے بیان کے مطابق انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماہی گیروں کے خدشات کو ہنگامی بنیادوں پر دور کرنے کےلیے اقدامات کرے کیونکہ صوبے کے رہائشیوں کو پہلے ہی فرقہ واریت پر مبنی پرتشدد واقعات، بدعنوانی اور دیگر متعدد غیر انسانی رویوں کا سامنا ہے۔

ایک  تو گوادر کے باسیوں کو اپنے سمندر میں اجنبی ماہی گیروں کی اجارہ داری قائم ہونے کا خدشہ ہے تو دوسری جانب خشکی پر ایک دوسری قسم کی مشکل سے دوچار ہیں۔ 

جیسے گودار میں ترقیاتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں تو گوادر پورٹ اتھارٹی کو زیادہ زمین کی ضرورت پڑ رہی ہے اور یہ زمین ان ماہی گیروں کے علاوہ کس کی ہو سکتی ہے۔

اس وقت گوادر میں مچھلیوں کی فروخت کی صرف ایک مارکیٹ بچی ہے جبکہ ماہی گیروں کے مطابق ایسی دو سے تین  مارکٹیں بند ہو چکی ہیں جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ بچ جانے والی واحد مارکیٹ جس علاقے میں واقع ہے اس کا کنٹرول بھی بندرگاہ کی انتظامیہ کے پاس آ چکا ہے۔ 

اس پر ماہی گیروں کی تنظیم کے صدر قادر بخش نے پاک وائسز کو بتایا کہ کئی برس پہلے جب ہمیں گوادر کو جدید شہر بنانے کے منصوبے کا پتہ چلا تو ہم سب سے زیادہ خوش ہوئے اور ہم چاہتے بھی  ہیں کہ ہمارا شہر خوب ترقی کرے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اب یہ ترقی ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک  کر رہی ہے۔

گذشتہ ماہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے ماہی گیروں کے خدشات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ماہی گیر اس سے مطمئن نہیں کیونکہ گزرتا ہوا ہر پل ان پر سمندر تنگ اور جال خالی کرتا جا رہا ہے۔

LEAVE A REPLY