برکت اللہ بلوچ

پاک وائسز، گوادر

ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن نے بلوچستان کے 26 سے زائد کالجز میں بی ایس پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں ڈگری کالج گوادر بھی شامل ہے۔

 یہ چار سالہ پروگرام ہے جو یونیورسٹی کی ایم اے/ ایم ایس سی ڈگری کے برابر ہوگا۔ اسی طرح 2020 تک صوبے کی تمام یونیورسٹیز سے ایم اے اور ایم ایس سی کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ جب کہ یونیورسٹیز میں صرف ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم دی جائے گی اور اس نئے ویژن کے تحت بتدریج انٹر یعنی ایف اے/ایف ایس سی کو اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔

ڈگری کالج گوادر میں بی ایس پروگرام شروع ہونے پر طلباء نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مثبت تبدیلی قرار دیا ہے۔ پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے ڈگری کالج گوادر کے طالب علم بالاچ بلوچ کا کہنا تھا کہ “بی ایس پروگرام تعلیمی میدان میں ایک مثبت تبدیلی ہے، یہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام ہے۔ اس لئے اب ہماری ڈگریوں کو بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک میں قبولیت مل سکتی ہے۔”

ڈگری کالج کے ایک اور طالبعلم ارمان اکبر کا کہنا ہے کہ “بی ایس پروگرام وقت کی ضرورت اور طلباء کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔اس پروگرام کے زریعے طلباء کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔اور تعلیمی نظام میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔”

ڈگری کالج کے پرنسپل خورشید بلوچ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ایک سیمسٹر سسٹم اسٹڈی ہے جس میں سمسٹر وائز امتحان لیا جائے گا۔جن علاقوں میں یونیورسٹی کی سہولت موجود نہیں ہے ان علاقوں کے لوگ بھی اس پروگرام کے زریعے یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرسکیں گے۔”

بی ایس پروگرام کو ایک طرف انقلابی اقدام قرار دیا جارہا ہے لیکن  پروگرام کے نفاذ میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

بی ایس پروگرام کے لیے پہلی شرط اکیڈمک اسٹاف کی فراہمی ہے جبکہ اس وقت ڈگری کالج گوادر کو اچھے پروفیسرز کی کمی کا سامنا ہے۔

ڈگری کالج کے پرنسپل خورشید بلوچ کا کہنا تھا کہ گوادر ڈگری کالج 1991 سے لیکر 2017تک انٹر سے ڈگری کا سفر تو طے  کرچکا ہے لیکن کالج کا اسٹاف اسٹرکچرابھی تک 90 کی دہائی کا ہے۔

اکیڈمک اسٹاف کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈگری کالج میں اکیڈمک اسٹاف کی تعداد صرف 20 ہے جن میں 17 اسکیل کے لیکچرارز کی تعداد سترہ، ایسوسی ایٹ پرفیسرز کی تعداد دو اور ایک آئی ٹی لیکچرار شامل ہیں۔

کالج میں اس وقت ایک پروفیسر، دو ایسوسی ایٹ پروفیسرز، چھ اسسٹنٹ پروفیسرز، ایک اسسٹنٹ پروفیسر فزیکل ایجوکیشن کی آسامیاں خالی ہیں۔

ڈگری کالج گوادر کے لیکچرار حنیف حمل نے ہمیں بتایا کہ “بی ایس پروگرام میں ڈیپارٹمنٹس قائم کئے جاتے ہیں اور ہر ڈیپارٹمنٹ میں ایک مضمون کےکم از کم 6 پروفیسرز ہونے چاہیے اور ان پروفیسرز کا ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول کا ہونا بھی ضروری ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ “بی ایس پروگرام کے لئے جدید ڈیجیٹل لائبریری ، جدید سائنس لیبارٹری کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔”

گوادر ڈگری کالج میں بی ایس پروگرام کے لیے صرف دو ڈیپارٹمنٹ کی منظوری دی گئی ہے جس پر کالج کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ  “بی ایس پروگرام میں ہم نے پانچ ڈیپارٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہمیں صرف دو ڈیپارٹمنٹ کی منظوری ملی ہے اور ہر ڈیپارٹمنٹ میں صرف تیس سے زیادہ اسٹوڈنٹس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔”

کالج کے لیکچرار حنیف حمل بلوچ کا کہنا تھا کہ “بی ایس پروگرام جو کہ ایک سمسٹر سسٹم پروگرام ہے جبکہ کالج کے لیکچرار صاحبان تقریبا اس سمسٹر سسٹم سے نا واقف ہیں لہذا ان کے لیے بھی تربیتی پروگرام یا ٹریننگ کا بندوبست کیاجائے۔”

بی ایس پروگرام کے اجراء سے گرلز کالج گوادر میں بھی ڈگری کلاسز کا خاتمہ کردیا گیا ہےاور ڈگری کالج انتظامیہ کے مطابق گرلز کو بھی بی ایس پروگرام میں داخلہ دیا جائے گا جن کے لئے علحیدہ کلاسز کا بندوبست بوائز کالج میں کیا جائے گا۔

۔ گوادر کے مقامی صحافی اللہ بخش دشتی کا کہنا تھا کہ بی ایس پروگرام کو اس کی روح کے مطابق شروع کرانے کی بلوچستان کے کسی بھی کالج میں استعداد کار نہیں ہے۔ اگر اسی انفراکسٹریکچر کے ساتھ بی ایس پروگرام لانچ کیا گیا تو اس کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہوں گے۔ “

رائیٹر کے بارے میں: برکت اللہ بلوچ پاک وائسز کے لیے گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY