بالاچ قادر، پاک وائسز، گوادر 
گوادر کتب میلہ 2018اپنے تمام رنگ اور رونقیں بکھیرے پیر کی رات گئے اختتام ہوگیا۔
آر سی ڈی کونسل گزشتہ پانچ سالوں سے تسلسل کے ساتھ گوادر میں کتب میلے کا انعقاد کرتا چلا آرہا ہے اور اس سال بھی گوادر کتب میلے میں بڑی تعداد میں ملک بھر سے ادیب و دانشوروں،سیاسی و سماجی شخصیات سمیت خواتین کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی۔
آر سی ڈی کونسل کے سربراہ ناصر سہراب کا کہنا تھا کہ اس سال ملک کے مختلف پبلشرز کی جانب سے 23بک اسٹالز لگائے گئے تھے جس میں اردو،بلوچی اورانگریزی کے کتابیں دستیاب تھیں جبکہ تیرہ لاکھ سے زائد کی کتابیں فروخت کی گئیں۔
گوادرکتب میلے میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی ۔
کراچی سے آئے ہوئے ایک طالبعلم اویس بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کے دوران کہا ” اس کتب میلے میں طلباء کو بہت سی نایاب کتابیں بھی ملی ہیں۔”
گوادر کتب میلے کی اہمیت کے حوالے سے تربت یونیورسٹی میں شعبہ بلوچی کے پروفیسر و معروف قلمکار غفور شاد نے پاک وائسز کو بتایا”مکران کے لوگ کتابوں سے پیار کرنے والے اور ادب دوست ہیں۔”
معروف بلوچ و اردو افسانہ نگار جاوید حیات نے پاک وائسز کو بتایا، “گوادر کتب میلہ صرف ایک میلہ نہیں بلکہ علمی،سماجی و ثقافتی ایک سرچشمہ ہے جس میں عظیم شخصیات ہرسال شرکت کرتے ہیں۔”
گوادر کتب میلے کی افادیت کے حوالے سے پاک وائسز سے خصوصی بات چیت کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر انیس گورگیج کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں کتاب کی اہمیت کو ٹیکنالوجی شکست نہیں دئ سکتی جو اس کامیاب کتب میلے سے ثابت ہے۔
15مارچ سے شروع ہونے والے اس چار روزہ کتب میلے میں مختلف سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں سماجی،سیاسی،ادبی اور تاریخی موضاعات پر مباحثہ کیا گیا جبکہ بلوچی،اردو اور انگریزی زبانوں میں گیارہ نئی کتابوں کی تقریب رونمائی بھی کی گئی۔
میلے میں سماجی موضوعات و گوادر میں ہونے والی ترقی اور مقامی لوگوں کی حقوق کے حوالے سے ڈرامے پیش کئے گئے۔اس کے علاوہ حمل خان،زباد بلوچ،شاہینہ بلوچ اور صدف شے کی پینٹنگز کی نمائش بھی کی گئ۔
گوادر کتب میلہ 2018میں ہرسال کی طرح اس سال بھی اردو و بلوچی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھے جس میں دونوں زبانوں نے اپنے خوبصورت اور تخلیقی اشعار پڑھ کر سنائے۔
گوادر کتب میلہ و2018بلوچ قومی گیت کے خالق و ممتاز شاعر استاد عبدالمجیدکے نام سے منسوب تھا ،تقریب میں ان کی زندگی پر بام فلمز پروڈکشن کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوکلپ بھی چلایا گیا۔

LEAVE A REPLY