سلیمان ہاشم 

 آر سی ڈی سی کے زیر اہتمام گوادر فیسٹول میں فنکاروں اور آرٹسٹوں نے اپنے فن کا جادو خوب جگایا۔طالبات نے بھی مٹی کے مجسمے بنا کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔

سمندری مٹی کے مجسمے

سمندری مٹی سے آرٹسٹوں نے اپنے تخلیقی جوہر دکھائے۔ تصویر :سلیمان ہاشم

 کتب میلے میں گوادر والوں کے لیے تفریح کا بھی خوب سامان کیا گیا۔فنکاروں نے ساحل سمندر پر چکنی مٹی سے نادر نمونے کے مجسمے بنا کر سب کے دل جیت لیے۔اسکولوں کی طالبات نے بھی سینڈ آرٹ کے شاہکار بنا کر اپنے فن کے جوہر دکھائے۔

 پسنی کے آرٹسٹوں نے تعلیم یافته نوجوانوں کی بے روز گاری جیسے موضوع پر ایک ڈرامه بھی پیش کیا گیا جسے بہار علی گوهر اور زبیر بلوچ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔

ڈرامے میں گوادر کے حقیقی حالات کی جھلک 

ڈرامے میں گوادر میں پانی کے بحران، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے موضوعات کو زیر بحث لا کر سب کی توجہ انتہائی اہم مسائل کی طرف دلانے کی کوشش کی گئی۔

گوادر کا تعلیم یافتہ نوجوان ڈرامے کے اس سین میں بے روز گار دکھایا گیا ہے۔تصویر:سلیمان ہاشم

ڈرامے کے ایک سین میں دکھایا گیا کہ ایک هوٹل میں ہر چیز دستیاب ہے لیکن یہاں پینے کا پانی نہیں ملتا،هوٹل کے مالک اپنے بار والے سے کہتے هیں جو بهی هوٹل میں آئے اسے بتا دو کی پانی اپنے ساتهه لائے کیونکه گوادر میں ڈیم خشک هے پانی نایاب چیز بن گئی هے۔

غیر ملکی سیاح کی حیرانی اور اردو بلوچی مشاعرہ

گوادر گھومنے پھیرنے کے لیے آیا ایک غیر ملکی سیاح شہر کی اصل  صورتحال دیکھ کر حیران و پریشان رہ جاتا ہے۔اسے یہ غلط فہمی تھی کہ گوادر دبئی یا سنگا پور جیسی بندر گاہ میں تبدیل ہو چکا ہو گا۔

اردو بلوچی کے مشاعرے نے کتب میلے کو چار چاند لگا دئیے۔اردو کی ممتاز شاعرہ فاطمہ حسن یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ وہ بلوچی زبان سیکھیں گی۔

مصنف کا تعارف: سلیمان ہاشم پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹزن جرنلسٹ وابستہ ہیں۔

ایڈیٹنگ:حسن خان

LEAVE A REPLY