عارف نور
پاک وائسز، گوادر

 

گوادر کے ابھرتے آرٹسٹ ہاشم عثمان نے ماہی گیری کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔
“ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ گوادر میں آرٹ کا سامان دستیاب ہی نہیں ہوتا۔یہ سامان ہمیں کراچی سے منگوانا پڑتا ہے” یہ کہنا ہے گوادر کے 29 سالہ ابھرتے آرٹسٹ ہاشم عثمان کا جو شہر میں رضاکارانہ مصوری کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے گوادر کے نوجوانوں کو آرٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے ہاشمی اکیڈمی کے ایک پلیٹ فارم کو فعال بنایا جہاں وہ رضاکارانہ تربیت فراہم کرتے ہیں۔
 ہاشم نے جب کینوس پر رنگ بکھیرنا شروع کیے تو گوادر یا اس کے آس پاس بھی کہی ایسی اکیڈمی نہیں تھی۔ اسکول کی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیا اور ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔
گوادر میں عرب تہذیب کی جھلک اس پینٹنگ میں دکھائی گئی ہے
“بچپن میں رنگوں سے پیار نے مجھے مصور بنا دیا۔۔۔تب میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں ایک پروفیشنل آرٹسٹ بن جاؤں گا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر ایک آرٹسٹ چھپا ہے جو احساسات کو آرٹ کی شکل میں ایکسپریس کرتا ہے۔”
ڈرائنگ اور پینٹنگ کی باقاعدہ تربیت کے لیے انہیں کوئٹہ جانا پڑا ہے جہاں انہوں نے ادارہ ثقافت میں اپنے فن کو مزید نکھارا۔ان کا زیادہ تر کام آئل پینٹنگ، واٹر کلر اور پینسل اسیکیچز کی صورت میں موجود ہے۔
ہاشم نے مصوری کے ذریعے گوادر کے بہت سے سماجی مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔  2009 میں جب ان کی پینٹنگز کی پہلی نمائش گوادر میں منعقد ہوئی تو اس میں انہوں نے سمندر اور ماہی گیروں کو اپنی مصوری کا موضوع بنایا۔
2011 میں بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی پس منظر میں بنائی گئی ان کی پینٹنگ کو امریکہ کی  یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن کے سالانہ میگزین “ساوتھ ایشیا” نے شائع کیا۔
امریکی یونیورسٹی کی جانب سے ہاشم کی مصوری کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اسے یونیوسٹی میگزین میں شائع بھی کیا گیا۔
2013 میں آرٹ کے میدان میں بہترین کارکردگی پر ہاشم عثمان کو امام داد ایوارڈ سے نوازا گیا۔گوادر کی سماجی تنظیم رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل کی جانب سے  ہرسال فنون لطیفہ کے مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو “امام داد” ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ 2015 میں یوتھ افیر ڈپارٹمنٹ آف بلوچستان کی جانب سے بہترین کارکردگی پر خصوصی ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
ہاشم نے ماہی گیر اور ان  کے طرز زندگی کو اپنی پینٹنگ میں نمایاں جگہ دی ہے۔
اس کے باوجود ان کے مطابق گوادر میں آرٹ کی وہ قدر نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔”ادھر آرٹ کی اتنی اہمیت اور مارکیٹ نہیں ہے، ہم بس اپنے شوق کے لیے پینٹنگ کرتے ہیں۔”
گوادر کے علاوہ ان کی پینٹنگز کی نمائش کسی اور شہر میں نہیں کی گئی۔ “آرٹسٹ کے پاس اتنے وسائل کہاں ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آرٹ کی کوئٹہ کراچی، اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں نمائش کروا سکیں۔”
رائیٹر کے بارے میں: عارف نور گوادر سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY