ارشد وحید چودھری

چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) گیم چینجر ہے۔ یہ صرف ایک منصوبے کا نام نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا نسخہ ہے۔ ون بیلٹ ون روٹ کے چینی تخیل کا عکاس یہ عجوبہ خطے کی جغرافیائی ہئیت بھی تبدیل کرنے کا گر ہے۔ یہ صرف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو ہی یقینی نہیں بنائے گا بلکہ یہ سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی پاک چین دوستی کو ایک تزویراتی شراکت داری میں بھی تبدیل کر دے گا۔ بل کھاتی،نشیب و فراز سے ہوتی ہوئی یہ راہداری جہاں سے گزرے گی اپنے پیچھے کامیابیوں کی ایک داستان رقم کرتی جائے گی۔ آئندہ 13 سالوں میں 51 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنے والی یہ راہداری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہو گی۔

کیا سی پیک واقعی گیم چینجر ہے؟

کاریڈور کے نام سے معروف یہ منصوبہ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ پاکستان کے دوردراز علاقوں کو ترقی یافتہ شہروں سے جوڑنے والا یہ بندھن ملکی تجارت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ کردے گا۔ سی پیک روزگار کی تلاش میں انتہا پسندی کی طرف بھٹکنے والے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بن جائے گا۔ روایت پسندوں پر نئی دنیاوں کے در وا کر دے گا۔

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے تمام ستے پاکستان کے پسمنادہ ترین علاقے گوادر سے پھوٹیں گے ۔ جی ہاں وہی گوادر جو خلیج اومان پر واقع اور خلیج فارس کے دہانے کو چھو رہا ہے۔ وہی گوادر جہاں گہرے پانی کی عظیم بندرگاہ بننے کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اسی غیر معمولی حیثیت کی وجہ سے گوادر مشرق وسطی ،افغانستان،وسط ایشیائی ریاستوں او یورپ تک پہنچنے والا نزدیک ترین راستہ فراہم کرے گا۔ اسی گوادر کی بندرگارہ کو سی پیک کے تحت خطے کا اہم ترین گیٹ وے بنانے کےلیے ایسی جدید ترین بندرگاہ میں تبدیل کیا جائے گا جہاں دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے۔ صرف ایک ہفتے میں 1 ہزار تجارتی کنٹینر شاہراہ قراقرم کے ذریعے اس بندرگاہ تک پہنچیں گے۔ 100 ملین ٹن سالانہ کارگو کی استعداد کار والی بندرگاہ 300 سے 400 ملین ٹن کارگو سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔ اسی گوادر سے ملحقہ دو ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پہ ٹیکس فری زون بنے گا۔

رواں سال کے آخر تک گوادر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مختلف منصوبوں پر 1 ارب ڈالرز خرچ کئے جا چکے ہوں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے بنے گی۔ نیو گوادر انٹر نیشنل ائر پورٹ تعمیر کیا جائے گا۔ پانچ ملین گیلن پانی کی ٹریٹمنٹ کے لیے پلانٹ نصب کیا جائے گا۔ پانی کی ترسیل کے اقدامات ہوں گے۔ گوادر میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر قائم کیا جائے گا۔ تین سو بستروں کا پاک چین فرینڈ شپ اسپتال بنایا جائے گا۔ ٹیکس سے چھوٹ کے لیے فری زون ہو گا۔ نئی برتھ اور چینلز کی تعمیر کی جائے گی، گوادر سمارٹ پورٹ سٹی بنے گا۔ اسٹیل اور کیمیکل سمیت دیگر صنعتیں قائم کی جائٰں گی۔ گوادر یونیورسٹی کو جدید بنایا جائےگا۔ ماہی گیری کو ترقی دی جائے گی،کشتی سازی اور مرمت کی صنعت کوفروغ دیا جائے گا۔ کوئلے سے چلنے والا 300 میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگایا جائے گا۔ غرض گزشتہ 15 سال سے نظر انداز بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر آئندہ 13 سال میں دبئی اور سنگا پور میں تبدیل ہو جائے گا ۔

 گوادر کے مقامی لوگوں کے خدشات

یہ ہے تصویر کا ایک رخ جو گزشتہ دوسال سے وفاقی حکومت فخریہ انداز میں پیش کر رہی ہے اور ایسے ظاہر کیا جا رہا ہے جیسے سی پیک کی صورت میں قارون کا کوئی خزانہ ہاتھ لگ چکا ہے لیکن وہیں اسی تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جس میں قارون کے اسی خزانے کو گوادر کی مقامی آبادی سے بھی چھپایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کی خوف کے مارے نیندیں اڑ چکی ہیں کہ دبئی اور سنگا پور میں تبدیل ہوتے ساحلی شہر گوادر میں ان کی جھونپڑیوں کی جگہ کہاں ہو گی۔ ماہی گیری کے ذریعے اپنا اور اہلخانہ کا پیٹ بھرنے والے اسی فیصد لوگوں کو لالے پڑے ہوئے ہیں کہ سیکیورٹی کے باعث گوادر جیٹی تک ان کی رسائی ختم ہونے کے بعد وہ اپنی چھوٹی کشتی کس پانی میں اتاریں گے۔

اپنے ہی گھر میں بتدریج اجنبی بننے والے مقامی بلوچوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں کہ وہ اپنی شناخت کو کیسے قائم رکھ پائیں گے۔ ان کے خدشات دور کرنے والا کوئی نہیں ہے جو انہیں دلاسا دے سکے کہ کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے ان کےعلاقے میں داخل ہونے کے بعد میخوں اور کیلوں سے مرمت شدہ ان کی بھدی کشتی مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نہیں ہو گی۔ اسلام آباد سے بیجنگ تک اجلاس منعقد کرنے اور رنگ برنگی سلائیڈوں سے بریفنگ دینے والے ان بلوچوں کوہرگز یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ماہی گیری کا واحد ذریعہ معاش ان سے چھن گیا تو وہ اپنی اور اہلخانہ کی سانسوں کی ڈوری کیسے قائم رکھ پائیں گے۔

گوادر میں پینے تک کا پانی نہیں

پینے کے پانی کی تلاش میں ننگے پاؤں میلوں سفر کرنے والے گوادر کے باسیوں کوکوئی منصوبہ ساز یہ سمجھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ خشک ہوتے پانی کی فراہمی کے واحد ذریعے آکڑہ ڈیم کا متبادل کیا ہو گا۔ مقامی حکومت کے کارپرداز بھی پانی کی بوند بوند کو ترستے اپنے غریب بھائی بندوں کے لیے تسلی کے دو بول بولنے کے روادار نہیں کہ ہزاروں روپے کی ادائیگی سے بندرگاہ پہ لائے جانے والے واٹر ٹینکروں میں ان کا بھی کوئی حصہ ہے ۔ ان کی قسمت کے مالک کبھی سنگا پور پورٹ اتھارٹی کے غیر ملکی بنا دئیے جاتے ہیں تو کبھی ان کی تقدیر کی ڈور چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کے بدیسی زبان بولنے والوں کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے لیکن اللہ کے ان بندوں سے کوئی پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ ان کی رضا کیا ہے۔

گوادر میں بنیادی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں

کوئی ان کے دکھ کا مداوا کرنے کو تیار نہیں کہ ان کے بچے تعلیم کی نا گفتہ بہ صورتحال کے باعث روایتی تعلیم کے حصول سے تو محرم ہیں ہی لیکن ان کے علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں کام کرتے چینیوں سے علیک سلیک کے لیے چینی زبان سیکھنے کا حق بھی پنجاب کے بچوں کا ہی کیوں ہے۔ انہیں کسی طور تشفی نہیں دی جاتی کہ گوادر کے واحد اسپتال میں کوئی گائنا کولوجسٹ نہ ہونے کے باعث ان کی خواتین نئی زندگی جنم دینے کے دوران خود موت کو گلے لگانے پہ مجبور نہیں ہوں گی۔

اکیسویں صدی میں بھی طاق میں دئیے جلا کر روشنی کرنے والوں کو کوئی یہ خوشخبری دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی یا کوئلے سے قائم کئے جانےو الے پاور پلانٹ سے نکلنے والی روشنی کی کرنیں ان تک بھی پہنچیں گی۔ بڑھتی ہوئی جائیداد کی قیمتوں کے باعث ملک بھر کے پراپرٹی ڈیلرز کے نرغے میں گھرے بلوچوں کو یہ یقین دہانی بھی نہیں کرائی جا رہی کہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین اور سر سے گھاس پھونس کی چھت کوئی نہیں چھینے گا۔

سی پیک کے جس گیم چینجر میں ان کے رہن سہن،بودو باش جیسی بنیادی سہولتوں کی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں ہے وہاں گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں رہائش پزیر تین لاکھ بلوچوں کی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کی یقین دہانی کون کرا سکتا ہے۔ پاکستان سے چین تک 3200 کلومیٹر پہ محیط سی پیک کی تصویر کا پہلا رخ یقینا بہت بھلا اور خوشنما ہے لیکن اگر اس تصویر کے دوسرے رخ پہ نظر نہ ڈالی گئی اور اسے بروقت نہ سنوارا گیا تو پہلے رخ کے رنگ بھی دھںدلا جائیں گے۔

کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo ٹوئٹر اکاؤنٹ

 

LEAVE A REPLY