صداقت بلوچ

حکومت بلوچستان کا 1985 سےآباد سمارٹ پورٹ سٹی کا کلانچی محلہ کے باسیوں شہر سے شفٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے
گوادر کا ایک علاقہ کلانچی پاڑا جو گوادر پورٹ سےتقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلےپر ہےاور یہ مین روڈ پرواقع ہے۔یہ محلہ گوادرکےاندر ہی واقع ہے

اسکےایک طرف پاکستان نیوی کا کالج اور دوسری طرف گورنمنٹ ڈگری کالج واقع ہےمگر یہاں ابھی تک بجلی پانی کی سہولت تک نہیں ہےیہ علاقہ کسی دور دراز کا دیہی قصبہ نہیں بلکہ سی پیک کے جھومر سمارٹ پورٹ سٹی گوادر کا ہی حصہ ہے

لیکن, حکومت کی ایک غلطی نے اس علاقے کو ہمیشہ کیلئے بجلی پانی سمیت بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کردیا۔ اس وقت کی حکومت نے علاقےکے اردگرد کی زمینوں کو سرکاری قرار دے دیا اس سے قبل ریونیو کے سٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس چراگاہ کو جہاں غریبوں کے گھر بھی واقع تھے ان سمیت ہزاروں ایکڑ زمین کو ایک با اثر شخصیت کے نام کیا مگر بعد میں حکومت نے اس کو رد کرکے صوبائی حکومت کے نام کردیا یہاں رہائش پزیر غریبوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے

موجودہ وزیر اعلیٰ نے حکم پر ڈپٹی کمشنر گوادر اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا کہ یہاں کہ آبادی کو ایڈجسٹ کیا جائے جس پر گوادر سے تیس چالیس کلومیٹر دور گراب میں شفٹ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے تو دوسری جانب کیسکو اور آبنوشی کا محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بھی پانی اور بجلی کی فراہمی سے انکاری ہیں اس جدید دور میں بھی کلانچی پاڑہ کے مکین بجلی پانی کے بغیر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جب کہ واپڈا کا یہ کہنا ہے کہ سرکاری زمین پر ہم کچھ کام نہیں کر سکتے۔ اگر اس علاقے کو بجلی دینا ہے تو پہلے سرکاری زمین الاٹ کرانی ہوگی

کلانچی پاڑا کے لوگ پچھلے 1985 سے اس تکلیف کو جھیل رہے ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان اور وزیراعظم پاکستان کلانچی محلہ کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کلانچی محلہ کو بجلی پانی فراہم کیا جائے

LEAVE A REPLY