ذیشان علی

پاکستان میں چند ہی دنوں کے اندر اندر دہشت گردی کے مختلف حملوں کا ہونا شدت پسندوں کی طاقت اور ان کی منظم انداز میں کی جانے والی کارروائیوں کی بھرپور صلاحیت رکھنے کا پتہ دیتی ہے۔شدت پسندی کے ان واقعات میں بیسیوں جانوں کو کھونے کے بعد حکومت ایک بار پھر حرکت میں ہے اور ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات کے بعد سخت اقدامات اٹھانے کے اعلانات اور ان پر  ایک مخصوص مدت کے دوران عمل درآمد بھی ہوتا آیا ہے۔ لیکن اصل مسائل اور ان واقعات کے پیچھے کارفرما سوچ اور شدت پسندوں کو ملک بھر میں دستیاب سہولت کاروں اور ہمدردوں کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ عرصے بعد ہم دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں بلخصوص جنوبی پنجاب میں شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کی موجودگی کے بارے میں انکاری رویے سے مستقبل میں حالات کے خطرناک موڑ پر پہنچنے کے خطرے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سال دو ہزار سات میں جب ملک میں شدت پسندی کے واقعات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تو جنوبی پنجاب میں موجود شدت پسندوں کے بارے میں خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں جنھیں اس وقت پنجابی طالبان کہا گیا لیکن حقیقت میں صوفی کی دھرتی جنوبی پنجاب میں جنرل ضیا کے دور حکومت میں شدت پسندوں کی ایک زرخیز نرسری کو ایک منظم طریقے سے تیار کیا گیا جہاں سے نہ صرف پہلے افغانستان اور کشمیر میں لڑنے والے شدت پسند دستیاب ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ یہاں سے ملک میں فرقہ واریت پر مبنی دہشت گردی اور ملک کے اندر ہی شہری دہشت گردی کی جنگ کے لیے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد دستیاب ہونے لگی۔

سال دو ہزار سات میں جب معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیے تو جنوبی پنجاب میں آپریشن کے مطالبات سر اٹھانے لگے لیکن اس کو صرف بیان بازی اور مغرب کا پروپیگنڈا قرار دے کر دبانے کی پالیسی جاری رہی۔

مئی دو ہزار دس میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے میں سو کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بیان دیا جنوبی پنجاب میں چھپے ہوئے شدت پسند اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں لیکن پنجاب حکومت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

اس کے بعد جون میں اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو کہنا پڑا کہ جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان اور مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد ملک میں کارروائیوں میں ملوث ہیں اور یہ  پنجابی ہیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نئی نویلی دلہن کی طرح اپنے شوہر کا نام لینے سے شرماتی ہے بالکل اِسی طرح پنجابی طالبان کا نام لینے سے شرماتی ہے۔

اس وقت کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان  جو اب بھی وزیر قانون ہی ہیں جنوبی پنجاب میں شدت پسندی کی اطلاعات کو پراپیگنڈہ قرار دیے دیا اور اس کے بعد جھنگ میں کالعدم شدت پسندی تنظیم کے جلسے میں شرکت کرنے پر ان پر کڑی تنقید بھی ہوئی لیکن اس کو بھی سیاسی رنگ دے کر مسترد کر دیا گیا جبکہ چند برس بعد گورنر پنجاب اسلام آباد میں مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

وقت گزرتا رہا اور پاکستانی مرتے رہے لیکن پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مگر جون دو ہزار چودہ میں فوج کی جانب سے اچانک شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے نتیجے میں اور اس کے بعد دسمبر دو ہزار چودہ کو پشاور میں بچوں کے سکول پر ہونے والے حملے کے بعد جب سکیورٹی اور سیاسی اسٹبلمشنٹ نے ملک کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا عزم کیا تو عوام کو حوصلہ ہوا کہ اب شاید معاملات درست سمت میں چلنا شروع ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا سوائے ایک وقتی ٹھہراؤ کے اور اس دوران جنوبی پنجاب میں آپریشن بھی متنازع بنا رہا ہے۔

مارچ دو ہزار سولہ میں عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر لاہور کے گلشن اقبال پارک میں دھماکے میں درجنوں انسانی جانیں گئیں تو صوبے میں وسیع آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن اس بار بھی مسلم لیگ نون کی پنجاب حکومت فوج یا رینجرز کی قیادت میں کسی بھی کارروائی سے کتراتی رہی تاہم فوج نے اعلان کیا کہ اس نےجنوبی پنجاب میں آپریشن شروع کر دیا ہے اور یہ آپریشن اس خطے کے مشہور ڈکیت چھوٹو کی گرفتاری کے ساتھ ہی منظرعام سے غائب ہو گیا۔

LEAVE A REPLY