دھرمندر بالاچ 

ضلع رحیم یار خان میں گورنمنٹ بوائز اسکول چک 106 پچهلے9 سالوں سے بند ہونے کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے.

4 کلاس رومز پرمشتمل سکول میں پڑا لاکھوں روپے مالیت کا فرنیچر بهی وقت کے ساتھ ساتھ کباڑ ہوگیا ہے۔کلاس روم میں سانپ کے رینگنے کے نشانات موجود ہیں.

 سکول کارقبہ 2ایکڑ ہے جہاں ہر سال کرکٹ اور فٹبال کے میچ بهی منعقد ہوا کرتے تھے.سکول کے میدان میں اب لوگوں نے  جانور بهی باندھ رکھے ہیں۔ سکول کو الیکشن کے دنوں میں پولنگ اسٹیشن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

سکول میں میٹھا پانی کے لیے کمیونٹی کے سرکردہ افراد کے تعاون سے سکول میں 27000 روپے کی لاگت سے پانی کا روٹر بهی خرید کر دیاجو کسی وجہ سے نہیں لگ سکا.

سکول میں فرنیچر،بڑےکلاس روم، بجلی اور کھیلنے کے لئے بڑی میدان جیسی سہولیات موجود تھی. صرف چار دیواری نہ ہو نے کی وجہ سے سکول کی کلاسز چک نمبر 106 میں واقع دوسرے سکول میں منتقل کر دی گئی۔

جس کی دو منزلہ عمارت 1973 میں تعمیر کی گئی تھی 44سال پرانی عمارت خستہ حال ہے جس میں جگہ جگہ دراڑیں پڑی ہوئی ہیں.جو اب کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے .سکول میں باقاعدہ کلاسز جاری ہیں لیکن اب سکول میں بچوں کی تعداد 100 کے قریب ہے۔

 ایک طرف گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ سکولوں کی دیوار آٹھ فٹ اور خاردار تار کا ہونی چاہیے.لیکن اس سکول کی دیوار صرف چار فٹ ہے۔

نثار احمد نے بتایا کہ میں بهی اس سکول میں پڑھتا رہا ہوں 2001 سے 2008 تک اس میں باقاعدہ کلاسز جاری رہی۔  سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد اعجازحسن نے علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا جس سے اس سکول میں بچوں کی تعداد 450 تک پہنچ گئی جو محمد اعجاز حسن کی محنت کا نتیجہ تھا.

لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ سکول میں بدنظمی کی وجہ سے بچوں نے دوسرے سکولوں میں داخلہ ہوگئے.

LEAVE A REPLY