By Dharminder Kumar Balach

گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول امان گڑھ رحیم یار خان شہر سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے سکول کی بلڈنگ انٹرنیشنل مینجمنٹ کنسلٹنٹس کے پراجیکٹ کا نام ہم قدم ہے انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس سے سکول کی عمارت تعمیر کرنے کے لیے آڈر حاصل کیے گئے ٹهیکہ سلیم اینڈ کمپنی کو دیا جو صرف روڈ بناتی تھی انہوں نے پرانے سکول کی عمارت کو توڑ کرنئی بلڈنگ تعمیر کرنے کا آغاز 2015 میں کیا.سکول کی تعمیر کے دوران زیرِ تعلیم بچوں کو مقامی زمیندار رئیس غلام رسول مہر کے ڈیرے پر

عارضی طور پر ڈیڑھ سال تک سکول قائم کیا گیا جہاں پر سخت سردی اور گرمی میں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی سکول کی ٹیچرکاکہنا ہے ہمیں اس ڈیرے پر کئی مشکلات بهی برداشت کرنا پڑی لیکن ہم نے سوچا کہ نیا سکول بن جانے سے ہم پہلے سے کچھ بہتر ماحول ملے گا جہاں ہم بچوں کو اچھے طریقے سے تعلیم اور تربیت کرسکیں گے لیکن بچوں کی آس اور امید ادھوری رہے گئی .گزشتہ سال گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے سکول کی عمارت مکمل تعمیر کرکے دینی تھی لیکن ٹهکے دار اپنا کام ادھورا چھوڑ کر غائب ہوگیا ہے. بعد میں پتہ چلا کہ
ایک سال قبل ہم قدم کی طرف سے ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر صادیہ پروین نے،ہم قدم کے ڈی ایم او سلیم بخاری اور دیگر نے شرکت کی جہاں پر سکول کی انتظامیہ کو بتایا گیا کہ آپ کے سکول کی عمارت خطرناک ہے لہذا آپ سکول میں تعلیمی عمل جاری نہ رکھیں کسی نا خوشگوار واقعہ کے زمیندار آپ خود ہوں گی. انتظامیہ نے وجہ پوچھی تو بتایا سکول کی عمارت میں  ناقص میٹیریل استعمال ہوا ہے. جو کسی بھی وقت گرسکتا ہے. ایک سال میں تعمیر ہونے والا سکول کی عمارت چار سال میں بھی نامکمل ہے اس سکول میں زیرے تعلیم 160بچوں کا مستقبل تباہ ہونے لگا ہے. سکول کی ہیڈ ماسٹر نےکہا کہ جب تک اس سکول کا کوئی منصب حل نہیں نکلتا سکول فنڈ میں جمع رقم سے ہم نے گزشتہ سال ایک برامدا بنایا تھا جہاں پر سردیوں سے بچنے کے لیے بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے اور دوبارہ سردیوں کا موسم شروع ہے.

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے ملنے کے لیے ہمارے رپورٹ نے کئی بار کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں مل سکا. ان کا کہنا تھا کہ ہم آرڈر جاری کرتے ہیں جب تک کوئی حل نہیں نکلتا ہم سکول میں ٹینٹ فراہم کرتے ہیں جس میں بچوں کو تعلیم دی جائے گی اور اس بات کو بھی ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ٹینٹ فراہم نہیں ہوسکا. ہم قدم  جب ہم قدم نام پروجیکٹ کے ڈائریکٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کئی بہانے بنائے لیکن جواب نہیں ملا اس سکول کی تعداد تعمیر سے پہلے 210تھی لیکن اب 160 طالبات زیرے تعلیم ہیں کیونکہ کچھ بچے سکول کی عمارت ناہونے کی وجہ سے دوسرے پرائیوٹ سکولوں میں چلےگئے
بستی والوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور معصوم بچوں کے سکول میں کرپشن کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے اس ملک میں پہلے ہی ایک کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اگر محکمہ تعلیم اس طرح سے آنکھیں بند کر کے ان مجرموں کا ساتھ دیتا رہا تو ہمارے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ پهر خدا کے ہاتھ میں ہے. ہم حکومتِ وقت سے درخواست کرتے ہیں اس سکول کا جلد از جلد حل نکالا جائے مجرمانہ غفلت برتنے پر کرپشن میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے.

LEAVE A REPLY