تحریر : صہیب اقبال

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان عرصہ دراز سے اپنی سیاسی جدو جہد کے دوران تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے دکھائی دیے ۔ اپنے منشور میں بھی تعلیم کو اہم جزو قرار دیا 2018 کے انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عوام سے وعدے کیے گئے کہ اقتدار میں آتے ہی سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنائیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کے لیئے وعدے کیئے گئے ۔ وزیر اعظم کی جانب سے کہا گیا کہ سرکاری سکولوں کے نظام تعلیم کو بہتر کریں گے تاکہ غریب کا بچہ بھی وکیل ، ڈاکٹر ، انجینئراور وزیر اعظم بن سکے لیکن اقتدار ملنے کے کئی ماہ بعد بھی جنوبی پنجاب کے متعدد سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار نہیں بدل سکی ۔

تعلیم کے شعبے کو تحریک انصاف کی جانب سے منشور کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو نئے سرکاری سکول ، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی لیکن اقتدار ملنے کے کئی ماہ بعد صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوتی جاری ہے ۔بیشتر سرکاری سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ، دروازے تک موجود نہیں جبکہ کئی سکول ایسے ہیں جن کے کمرے بھی پورے نہیں ہیں ۔

لیہ ، مظفرگڑھ ، خانیوال ، لودھراں سمیت جنوبی پنجاب کے بیشتر سرکاری سکولوں کی صورتحال ابتر ہے ۔جہاں کئی سکولوں میں کمرے کم ہیں تو کہیں عمارت پر ہی قبضہ ہو چکا ہے ۔

جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کی بات کی جائے تو وہاں کے سرکاری سکولوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے ۔ سرکاری سکولوں کی عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں جبکہ کچھ سکول ایسے ہیں جن کی عمارتیں انتہائی خطرناک ہے لیکن اس کے باوجود ان سکولوں کی حالت کو ٹھیک کرنے کے لیئے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کیئے جا رہے ۔ سرکاری سکولوں کو بہتر کرنے کے لیئے فنڈز کی فراہمی کے لیئے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے جس پر بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی تشویش ہے ۔

ضلع مظفرگڑھ کے علاقے کوٹ ادو کے سرکاری پرائمری سکول کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ دیواریں ٹوٹ چکی ہیں ، مرکزی دروازہ موجود ہی نہیں ہیں۔ کھڑکھیاں غائب ہیں لیکن اس کے باوجود طالبلعم دور دراز سے تعلیم حاصل کرنے کے لیئے یہاں آتے ہیں ۔

سرکاری سکول میں زیر تعلیم چوتھی جماعت کے طالبعلم نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئگ کہا کہ وہ پڑھنے کے لیئے جس سکول میں جاتا ہے۔ اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے ، بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے انہیں حصول تعلیم میں مشکلات ہیں ۔ عمیر نامی طالبعلم کا کہنا ہے کہ اسے پڑھنے کا بہت زیادہ شوق ہے ، وہ چاہتا ہے کہ اس کے سکول کی عمارت بہتر ہو جائے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن سکے ۔

خانیوال کے سرکاری سکول کے استاد عبد الصمد کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے سکولوں میں میں سہولیات کا فقدان ہے۔ اچھی سہولیات کی فراہمی کے لیئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہیئں تاکہ سرکاری سکولوں کے طالبعلم بھی پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کا مقابلہ کر سکیں اور زندگی کی ڈور میں آگے نکل سکیں ۔

ایک رپورٹ کے مطابق ضلع ملتان میں بیشتر سرکاری سکولوں کی عمارتیں انتہائی بوسیدہ اور خستہ حال ہیں جن کو ٹھیک کرنے اور تعمیر کرنے کے لیئے محکمہ تعلیم کو 33 کروڑ روپے کے فنڈز درکار ہیں لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث خستہ حال عمارتوں کی تعمیر مشکل ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں زیر تعیم بچے خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ملتان شمشیر خان نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کی بوسیدہ حالت کو ٹھیک کرنے کے لیئے فنڈز کی کمی ہے جیسے ہی فنڈز ملیں گے سکولوں کی حالت بہتر کردیں گے۔ سرکاری سکولوں میں خستہ حال ، بوسیدہ کمروں کو ٹھیک کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں گے۔

رکن قومی اسمبلی ندیم قریشی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں تعلیم اور یکساں تعلیمی نظام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ اور اسی لیئے جلد ہی سرکاری سکولوں میں جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیئے فنڈز جاری کر دیں گے۔

LEAVE A REPLY