قادر بخش سنجرانی

گرلز ہائی اسکول کلگ پنجگور سالانہ دس لاکھ روپے کی بجٹ رکھنے کے باوجود کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے اسکول میں نہ
تدریسی عملہ دستیاب ہے اور نہ ہی دیگر ضروریات موجود ہیں اسکول میں اس وقت ایک سوسے زائد بچیاں زیر تعلیم ہیں لیکن دستیاب استانیوں کی تعداد 6 ہے جو جے وی ٹی ہیں سائنس، ریاضی، انگلش پڑھانے کے لیے کوئی بھی ٹیچر موجود نہیں ہے.
چھٹی سے لیکردسویں جماعت تک کے طالبات اسکول میں صرف وقت گزاری کے لیے آتی ہیں ٹیچرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کلاسوں میں زیر تعلیم طالبات کا مستقبل داو پر لگی ہوئی ہے اسکول کے مسائل پر توجہ نہیں دیا جارہا گرلز ہائی اسکول کلگ میں اسٹاف کی کمی کے ساتھ ساتھ بلڈنگ اور کمروں کی حالت بھی غیر تسلی بخش ہیں.
دروازے کھڑکیاں اور کمروں کے فرش جابجا ٹوٹے ہوئے ہیں بجلی پانی دستیاب نہیں شدید گرمی میں بچیاں کلاس رومز میں بیٹھ نہیں پارہی ہیں لیکن دوسری جانب حکومتی سطح پر تعلیم نسوان کی ترقی کے بڑے دعویے کیئے جارہے ہیں کلگ جو شہر سے 30 کلومیٹر دور ایک دہی علاقہ ہے تعلیمی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے یہاں کی اکثربچیاں بے علمی سے دوچار ہیں اگر اسکول کی حالت زار پر توجہ دیا جاتا تو تعلیم نسوان کا ریشو 100 فیصد رہتا کیونکہ یہاں کے بچیوں میں تعلیم سے دلچسپی اور شوق موجود ہے.
مگر انھیں مسائل سے دوچار کرکے تعلیم سے دور رکھا گیا ہے ایک اندازے کے مطابق یونین کونسل کلگ میں 2013 سے لیکر اب تک پانچ ہزار کے قریب بچیاں تعلیمی سہولتوں اور اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے پرائمری کے بعد اپنا تعلیمی سلسلہ ترک کرچکی ہیں انھیں شہر کے تعلیمی اداروں میں پہنچنے کے لیے معاشی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل درپیش تھے اگر مقامی اسکول میں ضروریات پر توجہ دیا جاتا تو اتنی بڑی تعداد میں بچیاں بے علم نہیں ہوتیں

LEAVE A REPLY