جی آر جونیجو
مٹھی: تھرپارکر کے ھیڈ کوارٹر والے شہر مٹھی میں حکومت نے 2016 میں شہر کو گیس کی سہولت فراھم کرنے کی منظوری دی تھی اور مٹھی کی بائے پاس پر ایل پی جی ایئر مکسر پلانٹ لگانے کے لیئے زمین مختص بھی کی گئی تھی
 شہر کے سروے بھی کی گئی مگر ابھی تک کوئی کام شروع نہیں ھو سکا اور پورا منصوبہ تاخیر کا شکار ھو گیا تین سال گذرنے کے بعد  مختص کی گئی زمین پر قبضے بھی ھو گئے ھیں مگر حکومت نے کوئی تحرک نہیں لیا۔  تھر کا مرکزی شہر مٹھی کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ھے اور گھر میں کھانے وغیرہ پکانے کے لیئے گئس نہ ھونے کے باعث مقامی لکڑیوں کا استعمال ھوتا ھے جو مقامی نایاب نسل کے درخت کاٹ کر حاصل کی جاتی ھیں اور ھزاریں من لکڑیاں فروخت ھوتی ھیں اور اس کے حوالے سے ھی بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی ھو رھی ھے جس باعث تھرپارکر کی ماحولیات پر بھی کافی اثر پڑا ھے اور ماھریں بتاتے ھیں کہ تھر میں بارشیں کم پڑنے کا ایک سبب درختوں کی کٹائی بھی ھے۔
 
شہر باسیوں نے اس منصوبے کے متعلق شکایتیں بھی کی مگر ابھی تک کوئی بھی عمل نہیں ھو سکا ھے۔
تھر کے سماجی ورکر اکبر درس کا کہنا ھے کہ میں نے وزیراعظم پاکستان کے آن لائن پورٹل بھی شکایت کی ھے امید ھے کہ یے منصوبہ مکمل ھو جائے۔  گئس کی سہولت نہ ھونے کے باعث ھماری درخت ختم ھو رھے ھیں جس سے تھر پر خطرناک ماحولیاتی اثر پڑے ھیں اگر تھر کو گئس کی سہولت مل جاۓ تو تھر کے درختوں کو بچایا جا سکتا ھے۔

LEAVE A REPLY