عطاالرحمان سمن

دستورِ پاکستان
قانون، امنِ عامہ اور اخلاقیات
الف۔ ہر شہری کو اپنے مذہب پر قائم رہنے ، اُس پر عمل اور تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
ب۔ ہر مذہبی گروہ فرقے اور مسلک کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے انہیں برقرار رکھنے اور چلانے کا حق حاصل ہو گا۔
آرٹیکل نمبر20
انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ
ہر شخص کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں مذہب کو تبدیل کرنے کی آزادی کے علاوہ کسی شخص کے تنہا یا کچھ افراد کا اجتماعی طور پر نجی حدود میں یا سر عام تعلیم ، افعال اور عبادت کے ذریعے اپنے مذہب کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
آرٹیکل 18

جبری تبدیلیِ مذہب
قومی اسمبلی میں مشہورِ زمانہ رنکل کماری کا کیس زیر بحث تھا۔ سابق صدر آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا فضل ارکانِ قومی اسمبلی کو بتا رہی تھیں کہ سندھ کے متعدد مدرسوں میں ہندو لڑکیوں کو جبری طور پر رکھا جا تا ہے اور بعد ازاں اسلام قبول کروا کر مسلمان مردوں کے ساتھ اُن کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقلیتوں کی جبری تبدیلی مذہب کے رجحان کو روکنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ سا بق وزیر اعلیٰ سندھ کی بیٹی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ڈاکٹر عذرا افضل کے موقف کی تائید کی۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کا تناسب 3فیصد ہے۔ مذہبی اقلیتوں کی برادریوں کی اکثریت کمزور اور پست حال طبقات پر مشتمل ہیں۔ معاشی بدحالی، تعلیم و صحت کی سہولیات تک رسائی سے محروم طبقات جینے جیسے بنیادی حق سے بھی بعض اوقات تہی دامن دکھائی دیتے ہیں ۔

مذہبی اقلیتوں کو اپنے بنیادی حقوق کے استحصال کے علاوہ جبری تبدیلیِ مذہب کی صورت مذہبی آزادی کے حق کو بھی خطرہ درپیش ہے۔ کچھ برسوں سے پاکستان میں جبری تبدیلیِ مذہب کے واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آ رہے ہیں جس کے باعث ملک اور بیرون ملک اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بالعموم اور صوبہ سندھ میں بالخصوص یہ رجحان ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ اِس کی باز گشت قومی و صوبائی اسمبلی میں سنائی دینے لگی ہے۔ ہندو اقلیت کی اکثریت سندھ کے دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔

صوبہ سندھ سے متصل جنوبی پنجاب کے اضلاع اور قریبی علاقوں میں ہندو برادری کثرت سے آباد ہے۔ جنوبی پنجاب میں بالعموم اور سندھ کے ساتھ متصل علاقہ جات میں جبری تبدیلی مذہب کی صورت حال نہایت تشویش ناک ہے۔پست حال اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں اور عورتوں کو اغوا کر کے تبدیلیِ مذہب کے بعد نکاح کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ سرکاری طور پر جبری تبدیلیِ مذہب کے واقعات کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں چنانچہ اِس کے لئے غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

جبری تبدیلیِ مذہب
جبری تبدیلیِ مذہب ایسا عمل ہے جس میں کوئی فرد یا گروہ کسی قسم کا دباؤ، دھمکی، قوت ، ناجائز تشدد (ذہنی یا جسمانی) استعمال کر کے کسی فرد یا افراد کے گروہ کو اپنا مذہب قبول کرنے پر مجبور کرے ۔ مذ کورہ دھمکی آمیز اطوار صرف جبری تبدیلی کا شکار بننے والا ہی نہیں اُس کے خاندان کے افراد ، عزیز و اقارب اور برادری کے افراد بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے قانون کے تحت ہر شہری کو مذہب تبدیل کرنے کی آزادی ہے ۔ تا ہم پاکستان میں تبدیلیِ مذہب سے مراد کسی دیگر مذہب کو ترک کر کے اسلام کو قبول کرنا ہے ۔ قانون کے تحت کسی مسلمان کو مذہب تبدیل کر نے کی آزادی حاصل ہے لیکن یہ عملی طور پر ناممکن ہے کیونکہ مسلمان مذہبی رہنما اِس بات پر متفق ہیں کہ اسلام چھوڑ کر دیگر مذہب اختیار کرنے والا شخص ’’مرتد ‘‘ کہلاتا ہے جس کی شرعی سزا موت ہے۔ چنانچہ سماجی طور پر ایک مسلمان شہری کا اسلام قبول کرنے کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوتا ۔

پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب اور جبری نکاح جیسے سوال کا جواب مختلف سماجی تہوں کی کھوج کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان میں جس انداز میں مذہبی اقلیتوں کی خواتین کی جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کا دفاع کیا جاتا ہے وہ بجائے خود اقلیتی خواتین کے ساتھ امتیاز ہے۔جبری نکاح کی شکار خواتین کی صوت حال انتہائی بد تر ہوتی ہے ۔ ان واقعات کا شکار ہونے والی خواتین کبھی بھی خو شگوار ازدواجی زندگی کے تجربے سے روشناس نہیں ہوتیں ۔ درحقیقت وہ جدید دور کی غلامی کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک ہندو خاتون سماجی کارکن عامری کے مطابق یہ خواتین مردوں کے لئے ٹرافیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ اپنے لئے کم عمر اور خوبصور ت ترین لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ گھر کی دیکھ بھال کے لئے دوسری بیوی بنا لیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ جسم فروشی کے ذریعے پیسہ کمانے کے لئے بھی ہندو لڑکی کا اغوا کر کے نکاح کرتے ہیں اور بعض دفعہ وہ صرف لڑکی کو صرف اِس لئے اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

سماجی طور پر جاگیرداری نظام کے زیر اثر جنوبی پنجاب (اور سندھ) کے علاقوں میں ہندو برادری کی اکثریت رہائش پذیر ہے۔ یہ آبادی زیادہ تر دہی علاقوں میں ہے۔ یہ لوگ اپنی گزر و اقات کے لئے زراعت اور دیگر مزدوری کرتے ہیں۔ آئیے جبری تبدیلی مذہب کے عوامل کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:

ریاستی قوانین پر مذہبی جذبات کی فوقیت
مشاہدہ ہے کہ تبدیلی مذہب (چاہے وہ جبری ہی کیوں نہ ہو)کے واقعہ کو مسلمان برادری میں ایک اعزاز اور فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اغوا کرنے والے فرد کی مدد ایک دینی فریضہ سمجھ کر کی جاتی ہے ۔ والدین کو اپنی بچی تک رسائی کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اگر اغوا ہونے والی عورت شادی شدہ ہے تو مسلمان (جبری )ہو جانے کے بعد اُس کی شادی شدہ حیثیت مسلمان مرد سے نکاح کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔

2008ء میں مظفرگڑھ کے نواح میں 13سالہ صبا یونس اور 10سالہ انیلہ یونس کو اپنے چچا کے گھر جاتے ہوئے راستے سے اغوا کر لیا گیا ۔ اغوا کرنے والوں کا موقف تھا کہ لڑکیوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ مظفر گڑھ کی ضلعی عدالت کے جج نے بچیوں کو والدین کی تحویل میں دینے کی درخواست کو اِس بنا پر مسترد کر دیا کہ بچیوں نے قانونی طور پر اسلام قبول کر لیا تھا اور 13سالہ صبا کا نکاح جائز اور قانون کے مطابق تھا۔قطع نظر جبری تبدیلی مذہب ، قانون تبدیلیِ مذہب کے بعد والدین کو بچوں سے ملنے پر کسی طور پابندی عائد نہیں کرتا ۔

غربت
جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کاپہلا نشانہ غربت کا شکار خاندان ہو تا ہے۔پست حال اقلیتی برادری کے افراد زمینداروں کے ہاں کھیت مزدوری ، اینٹوں کے بھٹہ یا دیگر مزدوری کے کام کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔مشاہدہ ہے کہ ایسے خاندان زمینداروں یا بھٹہ مالکان کے ہاں مقروض ہوتے ہیں۔ اِن کے خاندان کے تمام افراد زمیندار یا بھٹہ مالک کے نوکر ہوتے ہیں۔ اِن کی عورتوں کو زد وکوب کرنا ، جنسی زیادتی کرنا بھی ایک معمول سمجھا جاتا ہے ۔ اپنا قرض چکانے کی سکت سے محروم غربت کے مارے خاندان استحصال کی چکی میں چپ چاپ پسنے پر مجبور ہو تے ہیں۔

ایک ہندو سماجی کارکن ویرو کولہی کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہندو ماں عامیری کے ساتھ اغوا کا مقدمہ درج کروانے تھانہ گئی۔تھانے والوں نے کہا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ لڑکی سے ہماری بات کروائی جائے۔انہوں نے انکار کر دیا اور اغوا کرنے والے کو بلا لیا ۔ اغوا کرنے ولا حمید بروہی لڑکی کے بغیر اکیلا ہی آیا۔ اُس نے تھانہ میں آ کر کہا کہ لڑکی میرے پاس اُس ایک لاکھ روپے کے عوض ہے جو انہوں (لڑکی کے خاندان) نے میرا دینا ہے۔اُس نے کہا کہ ’’ میں نے اِن کا قرض معاف کر دیا ہے اور زمین سے بے دخل کر دیا ہے۔‘‘

                                                                                                                     معاشی اسباب
جبری تبدیلی کے واقعات کے پس منظر میں معاشی عوامل بھی بعض اوقات جڑے ہوتے ہیں۔کسی خا ندان یا برادری کو کسی جگہ سے بھگانا یا نکالنا مطلوب ہو تو اُن کی بیٹی یا بیٹیوں کو اغوا کرکے جبری اسلام قبول کروانا نہایت سود مند طریقہ ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھنے میں آیا ہے کہ متاثرہ خاندان یا گروہ جگہ چھوڑ جاتے ہیں۔

مذہبی انتہا پسندی
ایک تحقیق کے مطابق صوبہ سندھ میں 2000سے 2015 تک 15سالوں کا تناسب 1947سے 1987 تک ہونے والے واقعات کے برابر ہے (مذہب کی جبری تبدیلی، SAP Pakistanصفحہ 6 ) ۔معاشرے کی اسلامائزیشن نے پاکستان کی سماجی بنت کے بخیے ادھیڑ کہ رکھ دئیے ہیں۔ ان سالوں میں ایک ایسی نسل جوان ہوئی ہے جو مذہبی اقلیتوں کے افراد کو دائرہ اسلام میں لانے کی مہم جوئی کرنے کے لئے پر جوش اور سر گرم دکھائی دیتی ہے۔ایسی صورت میں پست حال غریب مسیحی یا ہندو مزدور کی بیٹی آسان ترین شکار ہوتا ہے۔

تحفظ فراہم کرنے سے عاری نظام
ہندو یا مسیحی لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد جبری تبدیلی مذہب کے بعد اغوا کرنے والے یا دیگر مسلمان سے اُس کا نکاح کر دیا جاتا ہے جس میں لڑکی کی رضا شامل نہیں ہوتی۔ دوسری طرف جب متاثرہ لڑکی کے والدین اپنی اغوا شدہ بیٹی کی باریابی کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہیں تو سماجی، قانونی اور سیاسی اثر رسوخ رکھنے والوں کی جانب سے اغوا کرنے والے کی ہر ممکن امداد کی جاتی ہے۔ والدین کو ہر جانب سے بتایا جاتا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر چکی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کمزور اور شکستہ نظام کے باعث مہم جو حضرات کو تقویت اور ترغیب ملتی ہے ۔

لاہور میں ایک سرکاری پرائمری سکول میں ایک مسیحی بچی زیر تعلیم تھی۔ عمر کم تھی تاہم بچی خوبصورت ہونے کے علاوہ جسمانی اعتبار سے تھوڑی بڑی تھی ۔پڑھانے پر مامور مسلمان مرد استاد اُسے عجیب طرز سے برتاؤ کرتا۔ اُس کی والدہ استاد سے شکایت کرنے گئی تو اُس نے کہا،’’ آپ اتنی خوبصورت ہیں مسلمان کیوں نہیں ہو جاتیں۔‘‘ والدہ نے اُس کی شکایت ہیڈ ماسٹر سے کی تو اُس کا جواب تھا۔ ’’ تو اِس میں کیا برائی ہے۔ وہ آپ کو اچھی آفر ہی کر رہا ہے ‘‘۔ اِس کے بعد والدہ کے لئے بچی کو اسکول سے اٹھا لینے لے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا (ضرورت پڑنے پر متعلقہ خاتون کا حوالہ دیا جا سکتا ہے)۔ 2013 ء میں جنوبی پنجاب کے ایک شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں دو مسیحی بچیاں اور اُن کا بھائی زیر تعلیم تھا۔ ایک روز نویں جماعت کا طالب علم لڑکا گھر میں سہما سہما اور چپ تھا۔ ماں نے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ آج کلاس میں ایک جسمانی لحاظ سے بڑے لڑکے نے اُسے زمین پر گرا لیا۔ اور اُس کے اوپر بیٹھ کر گلا دباتے ہوئے کہنے لگا ، ’’ پڑھ کلمہ ‘‘ پڑھ کلمہ‘‘۔ بعد میں جماعت میں استاد آیا تو بچے کی جان چھوٹ گئی۔ سکول میں شکایت کی گئی تا ہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ خوش الحان ہونے کی وجہ سے دونوں مسیحی بچیوں سے سکول اسمبلی میں نعت پڑھوائی جاتی تھی۔ بعد ازاں اس بنا پر مسلمان والدین میں سے ایک نے دعویٰ کردیا کہ نعت پڑھنے کے باعث یہ بچیاں اب مسلمان ہو چکی ہیں۔ بچوں کی والدہ 18سالہ نوکری (پنشن والی) اور خاوند کا چھوٹا سا کاروبار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئی (ضرورت پر خاندان کا پتہ دیا جا سکتا ہے)۔
اثرات

ریاست پر شکستہ ہوتا ہوا اعتماد
جبری تبدیلی کے واقعہ کے بعد اگر متاثرہ خاندان کو سماجی، قانونی اور سیاسی حمایت مل جائے تو اُس کا ریاست پر اعتاد بحا ل ہو تا ہے ۔ تا ہم متاثرہ فریق ایک گھاؤ کھانے کے بعد ا نصاف کے حصول کی راہ میں ہر روز نیا گھاؤ کھاتا ہے جس کے باعث اُس کا ریاست پر اعتماد کا رشتہ چکنا چور ہو جاتا ہے ۔

احساس کمتری اور عدم تحفظ کا احساس
متاثرہ خاندان کے افراد ( بشمول عزیز و اقارب ) خود کوکمزور ، بے وسیلہ اور دیگر برادری کے درمیان کمتر اور مظلوم پاتے ہیں۔ ایسے میں والدین اور بچوں کی نفسیات پر نہایت دیر پا اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سارے عمل میں خا ندان عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں اگر گھر میں دیگر بچیاں بھی موجود ہوں تو کسمپرسی کی حالت بیان سے باہر ہوتی ہے ۔

اکثریتی برادری کے لئے ترغیب
جبری تبدیلی کے واقعات میں متاثرہ خاندان کی داد رسی نہ ہونے کے باعث اغوا کرنے والا اور اُس کی برادری کے لوگ اِس عمل کو جائز اور برحق تصور کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں دیگر نوجوانوں کے لئے یہ باعث تقلید عمل ہوتا ہے ۔

نقل مکانی
مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کسی خاندان کی بیٹی جب اغوا کر لی جاتی ہے اور بعد ازاں اُس کی باریابی کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی تو خاندان کے افراد اپنی برادری میں خود کو بہت پست اور بے حرمت جانتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ نقل مکانی کر کے کسی دوسری نئی جگہ چلے جاتے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق 2014میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے1000افراد نے تھائی لینڈ نقل مکانی کی۔ سری لنکا میں مسیحی اور احمدی افراد نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد1489ہے رپورٹ کے مطابق 5000ہندو اور سکھ خاندان سا لانہ بھارت نقل مکانی کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک سے نقل مکانی کی دیگر وجوہات میں لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب اور اِس معاملہ میں ریاست کا آنکھ بند کر کے حقائق سے چشم پوشی اور انکار کرنا بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق ، نقل مکانی کرنے والے افراد سے انٹر ویو کئے گئے جس میں انہوں نے بتایا کہ ہماری بچیاں سکول نہیں جا سکتیں ۔ انہیں اغوا کر لیا جاتا ہے ۔ ہمیں مذہبی آزادی نہیں ۔ چنانچہ ہم نے ملک چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی ۔اپریل 2015کو 192تنظیموں کے اتحاد ’’آواز‘‘ نے ایک تحقیقی مطالعہ جاری کیا جس کے مطابق احمدی ، مسیحی ، ہندو اور سکھ برادری کے افراد مختلف وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی کے مطابق
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ہندو رکن لال چند ملہی نے ایکسپریس ٹر بیون سے بات کرتے ہوئے بتایا ، ’’ ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے اور اُن کا مذہب تبدیل کرنے کے واقعات روزانہ ہوتے ہیں ۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی تعداد رپورٹ کئے جانے والے واقعات کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے واقعات خوشحال ہندو خاندانوں سے متعلق ہوتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ غریب ہندو خاندا نوں (جو ہندو برادری کا 95فیصد ہیں) کے واقعات ذرائع ابلاغ میں رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں 90فیصد واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

مسٹر ملہی نے بتایا کہ غلامانہ مشقت (Bonded Labor) کا شکار پست حال ہندو جو ایک وقت کی روٹی محض کما پاتے ہیں عموماً پولیس کے پاس جانے کی بجائے زمیندار کے پاس جاتے ہیں ۔ زمیندار کو بہرحال متاثرہ فریق کی بجائے اغوا کرنے والے سے ہمدردی ہوتی ہے (کیونکہ وہ زمیندار کے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں) ۔ چنانچہ ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔انہوں نے بتایا کہ تبدیلی مذہب کے اعدا و شمار جو ذرائع ابلاغ میں موجود ہین وہ مسیحی تنظیموں کی اکٹھے کئے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک واقعہ رپورٹ ہو تا ہے تو پولیس پر کارروائی کرنے کے لئے دباؤ ہوتا ہے ۔ تا ہم جب پولیس کو علم ہو تا ہے کہ مغوی لڑکی مدرسہ میں قیام پذیر ہے تو وہ چھاپا مارنے کی جرات نہیں کرتی۔پولیس مدرسہ انتظامیہ سے لڑکی تک رسائی کی منت سماجت کرتی رہتی ہے ۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اغوا کرنے والوں کو یقین نہیں ہو جاتا کہ اب لڑکی مکمل طور پر اُن کے زیر اثر آ چکی ہے اور وہ وہی بیان دے گی جو اُس کو بتایا گیا ہے ۔ تب مبینہ طور پر ملزمان لڑکی کو بیان ریکارڈ کرنے کے لئے پیش کر دیتے ہیں جس کے بعد باقی مقدمے میں اُن کی طرف جھکاؤ ہو جاتا ہے۔

اِس سارے عمل کے دوران لڑکی کو اُس کے خاندان سے الگ رکھا جاتا ہے۔ جب اُسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ پہلے ہی دباؤ کے زیر اثر ہوتی ہے۔چنانچہ اِس صورت حال میں بیان لیا جاتا ہے اور مقدمے کا فیصلہ اِس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔اُس کے بعد متاثرہ خاندان اپنی بیٹی کی کبھی شکل نہیں دیکھ پاتے۔

قانونی پہلو
مختلف قوانین میں جبری تبدیلی مذہب کو چھوا گیا ہے بشمول اِن قوانین میں جبری نکاح ، بچوں کا نکاح، کسی عورت کو نکاح کے لئے مجبور کرنا، اغوا ، غلامانہ مزدوری (Bonded Labor)اور دھمکی سے متعلق ہیں۔
ان قوانین میں سندھ چالڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013(Sindh Child Marriage Restraint Act 2013)، جبری نکاح کے خلاف سیکشن 498-Bتعزیرات پاکستان1860 ۔جنسی زیادتی کے خلاف سیکشن375اور376تعزیرات پاکستان 1860، غیر قانونی قید اور محدود کرنے کے خلاف XVI-Aتعزیرات پاکستان 1860، اغوا بشمول کسی عورت کو نکاح کے لئے مجبور کرنے کے خلاف سیکشن 365-B تعزیرات پاکستان 1860، ایک قانونی سرپرست سے اغوا کرنے کے خلاف سیکشن 361تعزیرات پاکستان 1860اور 14سال سے کم عمر بچے کو اغوا کر نے کے خلاف سیکشن 364-Aتعزیرات پاکستان 1860۔ تاہم ایسا کوئی خصوصی قانون موجود نہیں جس میں جبری تبدیلی مذہب کو جرم قرار دے کر سزا تجویز کی گئی ہو۔قوانین میں جبری تبدیلی کے ساتھ جڑے ہوئے پہلوؤں کے بارے قوانین موجود ہیں تا ہم جبری تبدیلی پر مرکوز کوئی قانون نہیں تھا ۔ گذشتہ برسوں میں جبری تبدیلی کے واقعات میں واضح اضافہ کے باعث یہ مسلہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ سال 2016ء میں سندھ حکومتت نے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف ایک قانون بھی منظور کیا جس کی مذہبی جماعتوں نے بھر پور مخالفت کی ہے تو دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں روشن خیال طبقات نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔ بعدازاں سندھ حکومت نے مذہبی جماعتوں کے دباؤکے سامنے گٹنے ٹیکتے ہوئے واپس لینے کا عندیہ دے دیا تھا ۔ چنانچہ یہ قانون گورنر سے تا حال دستخط نہ ہونے کے باعث موثر نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں ایسا بل پیش کرنے سے پہلے ہی روک دیا گیاتھا۔

سفارشات
صوبائی حکومتیں جبری تبدیلیِ مذہب کے مسئلہ پر مرکوز قانون سازی کریں ۔
متاثرہ خاندان اور قانونی امداد فراہم کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
سول سوسائٹی ، میڈیا ، سیاسی جماعتیں اِن معاملات پر آواز اٹھانے کے لئے رابطہ کاری پر توجہ دیں اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے وضع کردہ قوانین پر عمل در آمد کو یقینی بنانے میں فعال کردار کریں۔
مقدمات کی غیر جانبدار شنوائی کو یقینی بنایا جائے۔
کم عمری کے نکاح پر پہلے سے قانون موجود ہے چنانچہ اُس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
ملزمان کے خلاف موثر کارروائی کے ذریعے معاشرہ میں اس رجحان کو روکا جائے۔

LEAVE A REPLY