ارشد وحید چودھری

علاقے کے با اثر وڈیرے نے غریب کسان کی مونچیں مونڈھ کر گدھے پر بٹھا دیا، احکامات کی بجا آوری میں تاخیر پر بے چارے ہاری پر کتے چھوڑ دئیے گئے۔ زمیندار نے بیٹی کا ہاتھ نہ دینے پر مزارعے کے گھر کو آگ لگا دی اور بیٹی کو اٹھوا لیا۔ مخالفین کو ووٹ دینے پر سائیں نے جھوٹی ایف آئی آر درج کرا کے سفید پوش خاندان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حوالات میں بند کرا دیا۔ پسند کی شادی کرنے والے تعلیم یافتہ نوجوان کی بہنوں کو ونی کر دیا گیا۔راستہ نہ دینے پر وڈے سائیں کے چاکروں نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور گنجا بھی کر دیا۔ یہ اور اس جیسی بے شمار خبریں ہمیں ہر روز پاکستان میں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں جو شاخسانہ ہے اس جاگیرداری نظام کا جو جونک کی طرح ملک کو چمٹا ہوا ہے۔

ملک کے ہر صوبے میں جاگیرداری نظام کے تحت غریبوں ،مظلوموں،بے کسوں،بے بسوں ، خود داروں حتی کہ تعلیم یافتہ طبقات کا استحصال جاری ہے۔جاگیرداری نظام معاشرے میں اس حد تک سرایت کر چکا ہے اور بالا دست طبقات اور اداروں کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ متاثرہ شخص کی کہیں شنوائی نہیں ہو سکتی نتیجہ کے طور پر اسے یا تو خود کو اسی نظام کے سپرد کرنا پڑتا ہے یا پھر بغاوت کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔

:بھارت نے پہلے دن ہی جاگیرداری کا خاتمہ کر دیا

قیام پاکستان کے بعد ملکی معیشت کی بنیاد زراعت پر رکھی گئی تھی کیونکہ اس وقت صنعتی ڈھانچے کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا جبکہ سیاست میں بھی جاگیرداروں کا اثر و رسوخ تھا ۔ بھارت نے تقسیم کے بعد جاگیرداری نظام کا خاتمہ کردیا لیکن پاکستان میں جنہوں نے فیصلہ کرنا تھا ان کی جڑیں خود جاگیرداری نظام سے جڑی ہوئی تھیں۔

:جاگیرداروں اور حکمران اشرافیہ کا گٹھ جوڑ

جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی بجائے زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا ،سول،ملٹری بیورو کریسی اور مذھبی طبقے کو ساتھ شامل کر کے مل کر ایسا غیراعلانیہ اتحاد بنا لیاگیا جس میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنا دیا گیا۔ نتیجہ پاکستان کے کسان اور مزدور کو ریاست پاکستان سے کہیں دور کھڑا کر دیا گیا جو پالیسیوں میں حصے دار ہے اور بطور انسان ہی کوئی اہمیت رکھتا بلکہ قیام پاکستان سے اس کا جو استحصال شروع ہوا وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔

زرعی اصلاحات غیر اسلامی؟

پاکستان میں ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ان سے پہلے اور ان کے بعد جاگیرداری نظام کبھی اصلاحات کے لیے زیر بحث نہیں رہا ۔ جاگیرداروں نے مسلم لیگ کنونشن بناکر ایوب خان کی سر پرستی حاصل کی اور انعام میں وہ تمام زمینیں واپس لے لیں جو کبھی قومیائی گئی تھیں۔ بھٹو دور میں نوکر شاھی نے زرعی اصلاحات کو ناکام بنانے میں بھرپور ساتھ دیا جبکہ ضیا الحق کے دور میں شریعت کورٹ نے زرعی اصلاحات کو غیراسلامی قرار دیا تو وہ زمینیں بھی ہاریوں سے بھی واپس لے لی گئیں جو بھٹو دور میں جاگیرداروں سے لی گئی تھیں ۔

جاگیرداری نظام نے ملک توڑ دیا؟

قیام پاکستان کے بعد جاگیرداری کا خاتمہ اس لیئے بھی ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ مسلم لیگ نے خودساختہ اسلامی تصور اور فلسفے کو بنیاد بناکر جاگیرداروں کی لامحدود ملکیت کو جائز قراردیا۔۔ مشرقی پاکستان میں جاگیرداری موجود نہیں تھی۔ اس لیئے مشرقی پاکستان کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے پیچھے ایک خوف یہ بھی لاحق تھا کہ اگر ملک کی 56 فیصد آبادی کی نمائندہ حکومت اقتدار میں آگئی تو وہ پاکستان سے جاگیرداری کو جڑ سے نکال پھینکے گی ۔ ایوب خان نےمارشل لا نافذ کیا تو انہوں نے پہلی بار زرعی اصلاحات کے تحت زرعی زمین کی حد ملکیت پانچ سو ایکڑ مقرر کی۔  1972میں ذوالفقار علی بھٹو نے یہ حد ملکیت کم کرکے ڈیڑہ سو ایکڑ اور بعد میں 1973 میں 1سو ایکڑ کردی ۔ لیکن جاگیرداروں اور نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اس پر بھی مکمل عملدآمد نہ ہوسکا۔

اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 1960کی دہائی میں ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں آزاد پارٹی نے صوبائی اسمبلی کی 80 فیصد نشستیں جیتیں ،کامیاب ہونے والے تمام جاگیردار تھے۔ جبکہ کسی کسان کو ایک سیٹ بھی نہ ملی۔ ملک میں 6 ہزار جاگیردار پاکستان کی 15 فیصد زمین کے مالک ہیں ۔ 2 ہزار کے قریب ایسے جاگیردار ہیں جو 10 فیصد زمین کے مالک ہیں۔ پاکستان کے 65 فیصد عوام کے پاس جتنی زمین ہے اس کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم جاگیردار اتنی زمین کے مالک ہیں۔

 :آج بھی پارلیمان میں جاگیرداروں کی اولاد

آج بھی پاکستان کے ایوان بالا اورایوان زیریں کا جائزہ لیا جائے تو اکثریتی نشستوں پہ جاگیرداروں کی دوسری اور تیسری نسل براجمان ہے ۔ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں جاگیرداری نظام کے خاتمے کا کوئی نکتہ ہے اور نہ ہی نعرہ، ملک کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت کی قیادت اسی نظام سے تعلق رکھتی ہے جو ملک میں مسائل کی جڑ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ایسی جماعتوں میں سر فہرست ہے جس نے جاگیرداری کی لعنت کے خاتمے کے بجائے اس کی طاقت میں مزید اضافہ کیا ہے۔

:خاندانی بادشاہت جاگیردارانہ نظام کی پیداوار

موروثیت اسی جاگیرداری کا ورثہ ہے جو اب سیاسی جماعتوں کا خاصہ بن چکا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جاگیرداری کی جڑیں مضبوط ہونے کے باعث عام آدمی کا کردار اب صرف ووٹر کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک طرف جاگیردار اپنی جاگیر میں ہاری اور اس کے خاندان کا معاشی اور سماجی استحصال کرتا ہے تو دوسری طرف پالیسی سازی کے عمل میں بھی یہی جاگیردار کرتا دھرتا ہے۔

کیا جاگیرداری کا خاتمہ ممکن ہے؟

جاگیر داری نظام کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقیت پسندی پہ مبنی زرعی اصلاحات نہ صرف متعارف کرائی جائیں بلکہ ان پہ عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ہمسایہ ملک کی طرز یہاں زمین کی حد ملکیت کا قانون وضع کیا جائے۔ بڑی جاگیریں رکھنے والوں کے لئے خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے۔ باندڈ لیبر پہ پابندی عائد کر کے سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

غریب افراد کو جاگیردار کے استحصال سے بچانے کے لیے انہیں سماجی اور اقتصادی طور پہ مضبوط کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ زیر تسلط ملازم ،مزارعے ،ہاری یا مقامی رہائشی کے خلاف کسی بھی ظلم پہ قانون بلا امتیاز حرکت میں آئے اور جرم میں ملوث با اثر افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خواتین، ٹیکنو کریٹس اقلیتوں اور علمائے کرام کی طرز پہ کسانوں اور مزدوروں کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نشستیں مخصوص کی جائیں۔

 :کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo :ٹوئٹر اکاؤنٹ

LEAVE A REPLY