ثوہیب اقبال

جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں کاشتکاروں نے گندم نہ خریدنے پر حکومت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ڈی جی خان ، لیہ راجن پور اور مظفرگڑھ سمیت پنجاب کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ رواں سال پانی کی کمی کے باعث گندم کی فصل کم ہوئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے امدادی قیمت تیرہ سو روپے من مقرر کی گئی لیکن حکومت نے دعوؤں کے باوجود کسان سے گندم نہیں خریدی ہے۔

 کاشتکار اوپن مارکیٹ میں گیارہ سو روپے من گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔ پاک وائسز نے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ملتان ریجن اشفاق احمد سے گفتگو کی تو ان کا کہنا تھا کہ رواں سال جنوبی پنجاب میں بہنے والے دریاؤں میں پانی کی سطح کم رہی جس کیوجہ سے گندم کی پیداوار کم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال گندم کی پیداوار بیس سے تیس فیصد کم ہوگی۔

ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے کاشتکار شیراز مگسی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے زرعی شعبہ کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

پانی کی قلت کے باعث گندم کی اوسط فی ایکڑ پیداوار چالیس من سے تیس من تک کم ہوگئی ہے جبکہ حکومت نے کسان سے وعدہ کیا کہ وہ تیرہ سو روپے من گندم خریدے گی۔

 

اس کے باوجود پنجاب حکومت کے گندم خریداری مراکز کسان سے گندم نہیں خرید رہے جس کی وجہ سے کاشتکار مجبوراً گیارہ سوروپے فی من گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

اس حوالے سے پاک وائسز نے صوبائی وزیر زراعت نعیم اختر بھابھہ سے بات کی تو ان کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کی شکایت کچھ حد تک درست ہے تاہم  گندم خریدنے کے لیے عملے کو مزید متحرک کردیا ہے۔

LEAVE A REPLY