نذر عباس 
پاک وائسز، رحیم یار خان 
رحیم یار خان کے کاشتکار نہروں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں۔
کاشتکار سراپا احتجاج:
نہروں کی مسلسل بندش اور مبینہ غیر منصفانہ وارہ بندی کے خلاف کاشتکاروں نے منگل کو ڈی سی چوک پر احتجاج ،کاشتکاروں نے ڈی سی آفس کا گھیراؤ کر لیا۔
لاکھوں ایکڑ پر کاشت کپاس اور گنے کی فصلیں تباہ:
احتجاج کرنے والے کاشتکاروں کے مطابق خریف سیزن کے دوران نہری پانی کی قلت کی وجہ سے نہروں کی مسلسل بندش اور غیر منصفانہ وارہ بندی کے شیڈول کے باعث لاکھوں ایکڑ پر تازہ کاشت کی جانے والی کپاس ،گنے اور مویشیوں کے سبز چارےکی فصلیں تباہ ہو کر رہ گئیں ہیں۔
چولستان کا زیر زمین پانی کڑوا:
رحیم یار خان کی چاروں تحصلوں میں 70سے 75فیصد اور خصوصا ملحقہ چولستان کے زرعی رقبہ کا زیر زمین پانی کڑوا ہے۔
درجنوں نہریں بند:
ہیڈ پنجند سے پانی کی کم فراہمی کی وجہ سے درجنوں نہریں مسلسل دو ماہ سے بند ہیں جبکہ دوسری نہروں میں ہفتہ میں ایک سے دو دن وارہ بندی کے لحاظ سے پانی چھوڑا جاتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ محکمہ انہار کی توجہ کئی بار مسئلہ کی طرف دلانے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوسکی۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ انہار کو متعدد بار درپیش مسئلے اور نقصان سے آگاہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔
محکمہ انہار کا ردعمل:
پاک وائسز کی طرف سے رابطہ کرنے پر ایکسئین انہار شوکت حسین ورک کا کہنا ہے کہ ارسا کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے تحت پانی کی تقسیم کی جارہی ہے ۔ “بارشیں نہ ہونے اور دریاوں، ڈیموں میں نہر ی پانی کی قلت کی وجہ سے خریف سیزن کی فصلوں کے لیے پانی کی فراہمی کم ہے ،آئندہ چند یو م تک صورتحال بہتر ہو جائے گی۔”
 کاشتکار سڑکوں پر؟
کاشتکاروں نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ضلع رحیم یارخان کے ساتھ نہری پانی کی فراہمی کے معاملے میں ناانصافی بند نہ کی تو ضلع بھر کے کاشتکار اپنے حق کیلئے سڑکوں پر انکل آئیں گے۔
 رائیٹر کے بارے میں:نذر عباس رحیم یار خان سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY