نذر عباس
پاک وائسز، رحیم یار خان
کیا آپ نے کسی محل کا ماہانہ کرایہ 35 روپے سنا ہے؟ پاک وائسز کے سٹیزن رپورٹر نذر عباس آپ کو رحیم یار خان کے ایک ایسے ہی محل کی کہانی اپنی اس فیچر رپورٹ میں پیش کر رہے ہیں۔
یہ فرید محل کا مرکزی دروازہ ہے جو دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اپنی اصل حالت کھوتا جا رہا ہے۔ فوٹو:نذر عباس
 
یہ محل کسی نواب کا نہیں بلکہ شہنشاہ روہی خواجہ غلام فرید کا ہے جو اپنی زندگی میں بھی ہر طرح کی دنیاوی شان و شوکت سے بے نیاز تھے۔ صوفی بزرگ کے نام پر فرید محل کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے نواب مرید صادق عباسی نے خود تعمیر کرایا تھا۔
8 کنال پر مشتمل محل 1894 میں تعمیر کیا گیا جس میں مہمان خانہ، باغیچہ اور مسجد بھی شامل تھی۔
یہ وہی محل ہے جہاں نواب آف بہاولپور صادق عباسی اپنے پیر و مرشد سے ملنے آیا کرتے تھے لیکن آج سرائیکی شاعر کے فرید محل کا کوئی پرسان حال نہیں۔ محل کے مہمان خانے اور باغیچہ کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ چاچڑاں شریف کے رہائشی عطاالرحمان نے پاک وائسز کو بتایا: “یہ محل سرائیکی علاقہ کی پہچان تھا لیکن اج یہ تباہ ہو گیا ہے نہ تو محکمہ اوقاف نے توجہ دی ہے اور نہ ہی پنجاب حکومت نے۔”
محل کے اندر مسجد کا ایک منظر جہاں چراغ جلانے کے باعث دیوار پر تحریر قرآنی آیات دھندلی پڑتی جا رہی ہیں۔ فوٹو:نذر عباس
 
 محل کے اندر ایک اور محل حضرت خواجہ غلام فرید کے بڑے بھائی اور حضرت کے پیر حضرت خواجہ فخر کا محل بھی تھا جہاں پاک وائسز کی تحقیقات کے مطابق مختلف قبضہ مافیا گروہوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں۔
دس سے زیادہ علاقے کے پرانے رہائشیوں اور دیگر حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ خواجہ فرید کے دربار کے دعوے دار سجادہ نشین خواجہ مظہر فرید کوریجہ کا خاندان محل کو وراثتی جائیداد سمجھ کر آپس میں بانٹ رہا ہے۔ جی ہاں یہ ہی خاندان صرف 35 روپے ماہانہ کرائے پر محل پر قابض ہے۔
رہی سہی کثر محل کو تین حصوں میں تقسیم کر کے کوریجہ خاندان نے پوری کر دی ہے۔ محل نما گھروں میں اب کسی عام شہری کا داخلہ تو دور کی بات، اس تاریخی عمارت کو دیکھنا بھی ناممکن ہے۔ چاروں اطراف سے محل کو بند کر دیا گیا ہے۔
محل کے در و دیوار خستہ حالی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ فوٹو: نذر عباس
جب پاک وائسز نے محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام کا موقف جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ آج کل ڈسٹرکٹ آفیسر کی پوسٹ پر کوئی تعینات نہیں۔ ٓ
اس پر پاک وائسز نے سابق ڈسڑکٹ آفیسر محکمہ اوقاف محمد ایوب سے گفتگو کی تو انہوں نے کہا: “قانون کے مطابق فرید محل کو لیز پر دیا گیا ہے اور محل کی لیز وقت پر ادا کر دی جاتی ہے۔”
سرائیکی دانش ور اور فریدیات پر رسرچ کرنے والے مجاہد جتوئی نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “فرید محل ہمارے سرائیکی خطے کی پہچان ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس کو لیز پر دینے کے بجائے اس کی حفاظت کرے۔”
 انہوں نے مزید کہا: “محل کو لیز پر دینا قومی ورثہ کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔”
خواجہ غلام فرید کی پالکی بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں پائی جاتی ہے۔ فوٹو: نذر عباس
 
محل کے اندر ایک کمرے میں حضرت خواجہ غلام فرید کی پالکی بھی موجود ہے اور وہ چار پائی بھی جس پر آپ کو غسل دیا گیا لیکن اس کمرے کی چھت بھی گر چکی ہے اور یہ تاریخی اثاثے مکمل طور پر مٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
آج بھی ساری روہی دھرتی فرید کی ہی مانی جاتی ہے اور اس دھرتی کے ایک قیمتی ورثے کو بچانے کی ضرورت وقت کا اہم تقاضا ہے۔
  مصنف کا تعارف: نذر عباس پاک وائسز کے لیے رحیم یار خان سے بطور سٹزن رپورٹر کام کرتے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان
  

LEAVE A REPLY