ذیشان علی 

پاکستان میں ایک عرصے سے سرکاری سطح پر تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے حکمراں طبقے کی جانب سے ہر برس وعدے سامنے آتے ہیں۔ ان مطالبات میں شدت اس وقت آئی جب ملک میں شدت پسند واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔

کیونکہ غربت، بے روز گاری، ناخواندگی اور سماجی ناانصافی انتہاپسندی و دہشت گردی کی بڑی وجوہات ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے سماجی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو بھی عام کیا جانا ضروری ہے۔

ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح خوشحال صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع کا ذکر بلخصوص نائن الیون کے حملوں کے بعد سے شروع ہونے والی انتہا پسندی کی لہر کے دوران اکثر اوقات سننے کو ملتا ہے۔ چاہے اس میں پنجابی طالبان کا ذکر ہو یا فرقہ وراریت پر مبنی انتہا پسندی۔

لیکن حکمراں طبقے کی جانب سے اس مسئلے کی بنیادی وجوہات یعنی غربت اور ناخواندگی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جا سکی اور آج بھی جنوبی پنجاب کا شمار ان علاقوں میں ہوتا جو تعلیمی شعبے میں سب سے پیچھے ہے۔

مختلف غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے تین شہروں بہاولنگر میں 32 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 34 فیصد، 48 فیصد راجن پور اور 56 فیصد بہاولپور میں فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو جنوبی پنجاب کے تین ڈویژن ملتانت بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان پنجاب کے مجموعی رقبے کا تقریباً اڑتالیس فیصد ہے لیکن دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کی مد میں مہیا کیحے جانے وسائل صوبے کے دیگر ڈویژن کے برعکس 50 فیصد سے بھی کم ہے۔

ان علاقوں میں بڑے صنعتی شعبے نہ ہونے کی وجہ سے فی کس آمدن بھی کم ہے جس کی وجہ سے آبادی کی ایک بڑی تعداد خاص کر دیہی آبادی نجی سکولوں کی بھاری کم فیس ادا کرنے سے قاصر ہے۔

دوسری جانب پنجاب میں حکومت کی جانب سے ہر برس تعلیم کے شعبے میں مختص بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اگر صوبے کے سالانہ بجٹ میں اضافے کو دیکھا جائے تو اوسطاً اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مثال کے طور پر سال 2013-2014 میں پنجاب کے مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے 26 فیصد مختص کیا گیا تھا تاہم یہ شرح سال 2016-2017 کے بجٹ میں کم ہو کر 18 فیصد ہو گئی

رواں برس مالی برس کے لیے پنجاب کے تعلیمی بجٹ کے لیے مختص کردہ 312 ارب روپے میں سے جنوبی پنجاب کو اس میں سے صرف دس فیصد ملے گا۔ یہ تو صرف حکومت کے وہ اعداد و شمار ہیں جن کوخرچ کرنے کا کہا جاتا ہے لیکن ہر مالی برس میں سامنے آنے والی مختلف رپورٹس میں معلوم ہوتا ہے کہ مختص کی جانے والی رقم پوری طرح خرچ بھی نہیں ہو پاتی ہے۔

اکنامنسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2015/16 کے مالی سال میں پنجاب حکومت تعلیم کے بجٹ میں سے 36 ارب روپے خرچ کرنے میں ناکام رہی۔

پنجاب حکومت کی اپنی ایک رپورٹ کے مطابق چھبیس ہزار نو سو چار لڑکیوں کے سکولوں اور دس ہزار چار سو پچاس لڑکوں کے سکولوں میں بینادی سہولیات کا بھی فقدان ہے جس میں پینے کا صاف پانی، بجلی، ٹوائلٹس وغیرہ شامل ہیں اور ان سکولوں میں سے اکثریت جنوبی پنجاب میں واقع ہے۔

ان سارے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کو جہالت کے اندھیرے سے نکالنے کے لیے ایک سنجیدہ پالیسی کی ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ برس کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر پنجاب میں سکولوں سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد آئندہ پندرہ برسوں میں بڑھ کر ایک کروڑ تیرانوے لاکھ سے تجاوز کر جائیں گی جس میں جنوبی پنجاب سرفہرست ہو گا کیونکہ اس وقت راولپنڈی اور چکوال میں سکولوں سے باہر بچوں کی شرح بلترتیب پانچ اور سات فیصد ہے تو راجن پور میں چھ سال سے سولہ برس کی عمر کے بچوں کی سکولوں سے باہر رہنے کی شرح 38 فیصد کے قریب ہے۔

اگرچہ حکومت نے جدید سہولتوں سے آراستہ دانش سکولوں کو تین ارب روپے کی مالیت سے بھکر، تونسہ، اور ڈیرہ غازی خان اضلاع میں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ان اضلاع میں پہلے سے موجود سینکڑوں سرکاری سکولوں کی حالتے زار کو بہتر کیا جائے اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں سکولوں میں لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ حقائق بھی سامنے ہیں جس میں گذشتہ برس فیڈرل ایجوکیشن منسٹری کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مدارس داخلہ لینے والے طالب علموں کی تعداد انیس لاکھ ہے یعنی 2013-2014 میں ہر دس میں سے ایک بچہ مدرسے میں گیا۔

جنوبی پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں ضرورت کے مطابق توجہ نہ دینے کی وجہ سے ایک تو سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب غربت کی وجہ سے ان بچوں کی ایک بڑی تعداد میں والدین مدارس میں داخل کرانے پر مجبور ہیں جو کہ باعث تشویش ہے کیونکہ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب میں اس وقت ایک سو پچاس مدارس کسی نہ کسی شکل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے اور ان میں اکثریت جنوبی پنجاب میں ہے۔

1 COMMENT

  1. A good research based article. A brilliant work with the facts. Would you mind provinding me the references of above mentioned facts?

LEAVE A REPLY