علی ظیف

لیہ میں جب گزشتہ برس زہریلی مٹھائی کھانے سے بیسیوں اموات ہوئیں تو بہت سے سوالات ابھرے، گلے شکوے ہوئے، قیاس آرائیاں ہوئیں اور چلا چلا کر نڈھال ہو چکی عوام نے غالباً خاموش ہو جانے میں ہی عافیت جانی اور یوں رفتہ رفتہ اس معاملے پر مٹی پڑتی چلی گئی۔ ایک شکایت تو یہ سامنے آئی کہ تحتِ پنجاب پر براجمان حکمرانوں کو لاہور سے فرصت ملے تو وہ چھوٹے شہروں کا رُخ کریں۔ بہت سوں نے اسے ماضی میں جاری رہنے والی اس بحث سے جوڑ دیا کہ اگر سرائیکی صوبہ بنا دیا جاتا تو غالباً ایسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ یہ وہ شکایات ہیں، وہ دلائل ہیں جو ہم ہر ایسے سانحہ کے بعد سنتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ’’الف اعلان‘‘ کی جانب سے 2016ء میں جب پاکستان کے اضلاع کے تعلیمی معیار کے حوالے سے درجہ بندی جاری کی گئی تو اس وقت بھی ایسے ہی سوالات ابھرے تھے۔ اس درجہ بندی میں جنوبی پنجاب کے دو اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور پہلے 100 اضلاع میں بھی شامل نہیں تھے۔

شعبۂ صحت میں بھی حالات کچھ متاثر کن نہیں ہیں ۔ محکمۂ صحت پنجاب کے سرکاری اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرائیکی عوام کا شکوہ غلط نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں 23 ٹیچنگ ہسپتال قائم ہیں جن میں سے صرف پانچ جنوبی پنجاب میں ہیں اور ان میں سے بھی تین ملتان میں ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کے حوالے سے بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں صرف ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور ملتان ڈویژن میں تین ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہیں۔

صحت اور تعلیم وہ بنیادی شعبۂ جات ہیں جن سے عوام براہِ راست مستفید ہوتے ہیں ۔ اب اگر وہ لاہور میں اربوں روپے کی لاگت سے میٹرو بس اور پھر اورنج لائن ٹرین کے منصوبوں پر کام ہوتا دیکھتے ہیں تو ظاہر ہے ان کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جو ملتان میں میٹرو بس شروع کرنے سے دور نہیں ہو سکتیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء اور پنجاب اسمبلی کے رُکن مخدوم سید مرتضیٰ محمود نے ’پاک وائسز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:’’یہ درست ہے کہ جنوبی پنجاب کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبے کا سارا بجٹ بالائی پنجاب پر خرچ ہو جاتا ہے ۔ ‘‘

ان سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے رہنماء جب اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں رہیں گے تو عوام کے مسائل کس طرح حل ہوں گے تو انہوں نے کمال ’معصومیت ‘ سے جواب دیا:’’اگر جنوبی پنجاب میں سہولیات فراہم کی جائیں گی تو سب اپنے علاقوں میں ہی رہنے کو ترجیح دیں گے۔ اگر ملتان یا بہاولپور میں بہترین سہولیات دستیاب ہوں، سکول اور ہسپتال ہوں تو سیاسی قیادت کبھی لاہور، اسلام آباد یا کراچی نہ رہے۔‘‘

مخدوم سید مرتضیٰ محمود سابق گورنر پنجاب اور سینئر سیاست دان مخدوم سید احمد محمود کے صاحب زادے ہیں لیکن ان کے والد ضلع رحیم یار خان میں ایک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ یوں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جنوبی پنجاب کے رہنماؤں کو ہی اپنے عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے تو تحتِ لاہور کے حکمران ان کی فکر کیوں کریں گے؟

سینئر صحافی اور راجن پور پریس کلب کے صدر اے بی مجاہد کہتے ہیں:’’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی رہنماء قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے ان علاقوں سے منتخب ہونے کے بعد لاہور یا اسلام آباد جا کر آباد ہو جاتے ہیں۔‘‘

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے صوبہ کے 27 تعلیمی اداروں کو ڈگری جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جن میں سے صرف آٹھ جنوبی پنجاب میں ہیں اور ان میں سے بھی چار ملتان میں ہیں۔ دوسری جانب صرف لاہور میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے ایسے اداروں کی تعداد نو ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 25 تعلیمی اداروں کو ڈگری جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جن میں سے صرف ایک ادارہ ہی جنوبی پنجاب میں ہے اور وہ بھی ملتان میں ہے۔ یوں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں اگر ترقیاتی کام ہوئے بھی ہیں تو ساری توجہ صرف ملتان تک محدود رہی ہے اور دیگر شہروں کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث ان علاقوں میں عسکریت پسندی کو اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا۔

دوسری جانب جنوبی پنجاب کے سیاسی رہنماؤں کے مطابق یہ تمام مسائل سرائیکی بیلٹ پر مشتمل اضلاع کو الگ صوبہ بنانے سے حل ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن، حکمران اور قوم پرست جماعتوں کے نمائندے اس نکتے پر متفق نظر آئے کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا واحد حل یہ ہے کہ سرائیکی بیلٹ پر مشتمل اضلاع کو صوبہ بنا دیا جائے۔ مسلم لیگ نواز کے لیہ سے منتخب ہونے والے رُکن قومی اسمبلی سید ثقلین شاہ بخاری نے ’پاک وائسز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:’’جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا وقت کی ضرورت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی صوبہ بنایا جائے، دو صوبے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔‘‘ ان سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ آپ اس وقت حکومت میں ہیں، آپ نے اس حوالے سے کیا کردار ادا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا:’’ہم اس حوالے سے کوشش کرتے رہے ہیں لیکن ہم قانون سے تجاوز نہیں کر سکتے۔ ہم نے وفاقی و صوبائی قیادت کو قائل کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کی ہے۔‘‘

قوم پرست جماعت سرائیکی نیشنل پارٹی صوبہ سندھ کے صدر شاہد خان داہر بھی سید ثقلین شاہ بخاری کے مؤقف سے متفق نظر آئے، انہوں نے جنوبی پنجاب کے صوبہ نہ بننے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا:’’جنوبی پنجاب اسی وقت صوبہ بن سکتا ہے جب پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد منظور کی جائے گی۔ اگر وفاق کے پاس صوبے بنانے کا اختیار ہوتا تو ممکن ہے سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا دیا جاتا۔‘‘ مخدوم سید مرتضیٰ محمود بھی کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔

لیکن سینئر تجزیہ کار اور راجن پور پریس کلب کے صدر اے بی مجاہد نے مختلف رائے کا اظہار کیا، انہوں نے کہا:’’جنوبی پنجاب اگر الگ صوبہ بن بھی جاتا ہے تو کھر، مخدوم، گیلانی، قریشی وغیرہ ہی حکومت میں ہوں گے اور مسائل جوں کے توں رہیں گے کیوں کہ یہ رہنماء تو اب بھی اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ فنڈز کی منصفانہ تقسیم عمل میں لائی جائے کیوں کہ صوبہ تو بلوچستان بھی ہے لیکن وہ بھی تو اسی قسم کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔‘‘

حکومت کی اسی بے حسی کے باعث جنوبی پنجاب میں بڑی تعداد میں مذہبی مدارس کھل گئے جنہوں نے ایک پوری نسل کو انتہا پسند اور مسلح کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرے تا کہ آنے والے دنوں میں پنجاب میں بھی بلوچستان یا اندرونِ سندھ کی طرح کے حالات پیدا نہ ہوں۔

LEAVE A REPLY