ظریف بلوچ
 
پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی اکثریت کو ان کے کام کا معاوضہ تک نہیں دیا جاتا۔ گنتی کے چند صحافی ہوں گے جنہیں ان کے ادراے کی جانب سے تھوڑا بہت معاوضہ مل جاتا ہے۔
صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک ایسے ہی ورکنگ جرنلسٹ اکرم خان سے پاک وائسز نے بات چیت کی ہے۔
اکرم خان گزشتہ تقریبا تین دہائیوں سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن آج تک بقول ان کے انہیں ان کی فرائض کی انجام دہی کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔بلوچی مزاحیہ شاعری اور آرٹسٹ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی صحافت سے اپنا تعلق نہیں توڑا جیسے صحافت ہی ان کی پہلی اور آخری محبت ہے۔  “جرنلزم وہی کرسکتا ہے جس کو شوق ہو کیونکہ اس میں نہ جان کا تحفظ ہے اور نہ پیسہ ہے۔”
ضلع گوادر کی تحصیل پسنی میں گنتی کے مقامی اخبارات رہ گئے ہیں جن کی مالی حالت کافی پتلی ہے۔ ایسے میں صوبے کی نوجوان نسل کی مقامی میڈیا میں عدم دلچسپی حیرت کی بات نہیں۔
پسنی پریس کلب کے صدر ساجد نور نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان کی مقامی اخبار کی صنعت سے دوری کی وجہ بھی معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔
مقامی صحافیوں کو پریس کارڈ کے سوا کچھ نہیں ملتا لیکن پھر بھی وہ صبح شام معلومات کا خزانہ عوام تک پہنچانے کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
ساجد علی نے ملکی میڈیا سے شکایت اس طرح کی : “ملکی میڈیا چونکہ پسماندہ علاقوں کی کوریج میں دلچسپی نہیں رکھتا اور انکے زیادہ تر نامہ نگار کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے بلوچستان کو کور کرتے ہیں۔”
 صوبے میں رونما ہونے والے بڑے واقعات تو ملکی میڈیا میں جگہ لیتے ہیں جبکہ روزمرہ کے واقعات لیکن اہم خبریں صرف مقامی
اخبارات کی زینت بن پاتی ہیں۔
رائیٹر کے بارے میں: ظریف بلوچ پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ پسنی سے کام کر رہے ہیں۔
 ایڈیٹنگ:حسن خان 

LEAVE A REPLY