قادر بخش سنجرانی، پنجگور
پنجگور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں مریضوں کے لیے ادویات اور سٹی اسکین اور الٹرا ساونڈ تک میسر نہیں ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ادویات کا بحران گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے  جبکہ ایکسرے فلم اور کیمیکل بھی ناپید ہیں۔ اسپتال میں سٹی اسکن، ایم آر آئی اور الٹرا ساونڈز جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔  لوگ معمولی بیماری کے علاج معالجے کے لیے کراچی یا کوئٹہ جانے پر مجبور ہیں جو پنجگور سے بالترتیب 500 اور 700 کلومیٹر دور ہیں۔

اسپتال پرعلاقے کی پانچ لاکھ کی آبادی کا طبی سہولتوں کے حوالے سے انحصار ہے جبکہ اسپتال کو ڈاکڑوں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔  ڈاکٹروں کی 48 خالی پوسٹوں میں سے صرف نصف درجن ڈاکٹر دستیاب ہیں۔ کارڈیولوجسٹ، پیتا لوجسٹ اور انتھنزیا کے لیے کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے اور یہ اہم آسامیاں بھی خالی ہیں۔

 گزشتہ سال جو 14 کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی پوسٹنگ ہوئی تھی مارچ میں ان کا کنٹریکٹ ختم ہوچکا ہے اور ایوننگ شفٹ میں اسپتال کو پیرامیڈیکس چلاتے ہیں۔

سول اسپتال پنجگور جہاں روزانہ ایک ہزار مریض دوردراز علاقوں سے آتے ہیں لیکن اسپتال میں انھیں ایکسرے اور الٹرا ساونڈز کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔  لیبارٹری کا نظام 9 گریڈ کے ٹیکنیشنز کے حوالے ہے لیبارٹری کا تمام کام وہی انجام دیتے ہیں جو شاہد ملک کسی اور علاقے میں اس طرح کا ماحول ہو جو یہاں پیتالوجسٹ ڈاکٹر کےبغیر  انجام دیا جارہا ہے۔

پاک وائسز نےسول اسپتال کے مسائل پر ایم ایس سول اسپتال پنجگور ڈاکٹر مظہر سے بھی رابطہ ک ان کا موقف لیا ڈاکٹر مظہر بلوچ نے کہا کہ سول اسپتال میں اس وقت اسٹاف کی شدید کمی ہے اور اسپتال میں ڈاکٹرز کی کل 48 کے قریب آسامیاں ہیں جن میں 9 لیڈی میڈیکل آفیسرز کی ہیں اور 9 میں سے صرف ایک لیڈی ڈاکٹر کی پوسٹنگ ہوئی 8 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

اس وقت جو ڈاکٹرز اسپتال میں موجود ہیں ان کی تعداد 4 ہے  جو پانچ لاکھ کی آبادی کی طبی ضروریات کے پیش نظر ناکافی ہیں۔ ڈاکٹر مظہر نے کہا کہ اسپتال میں پیرامیڈیکس اسٹاف کی بھی کمی ہے لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود عوام کو طب کے حوالے سے ریلیف دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

LEAVE A REPLY