نذر عباس 
پاک وائسز، بہاول پور 
قلعہ دراوڑ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاول پور کی تحصیل احمد پور میں تقریبا شہر سے 100 کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے۔ صحرا چولستان کے دل میں واقع یہ قلعہ اپنے آپ میں ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے اور صحرا میں قلعے کی دیواریں اور عالی شان تعمیرات ماضی کی عظیم تہذیب کی گواہی دیتی ہیں۔ لیکن اگر قلعہ کی خستہ حالی کا بندوبست نہ کیا گیا تو جلد ہی اس تاریخی ورثہ کا کھنڈرات میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ 
 قلعہ دراوڑ کے نام اور تعمیر کے بارے میں مورخین کی آرا مختلف ہے۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس قلعہ کو نویں صدی میں رائے ججا نے تعمیر کروایا جو راجپوت حکمران تھا۔ یہ ڈیرہ راول کے نام سے جانا جانے لگا۔ 
 
بعض مورخین کے مطابق قلعہ کو راول دیو راج بھاٹی نے تعمیر کروایا جو جسلمیر اور بہاول پور ریاست کا خودمختار راجپوت حکمران تھا۔ اسی لیے قلعہ کو دیوراول کہا جانے لگا۔ دیو راول سے دیو راور دراوڑ بن گیا جو اس کا موجودہ نام بھی ہے۔
 
  یہ قلعہ جسلمیر ریاست کا حصہ تھا۔ 1733میں نواب آف بہاولپور نواب محمد خان اول نے اس قلعہ پر حملہ کیا اور راجہ راول سنگھ کو شکست دے کر اس قلعہ پر قبضہ کرلیا اور یہ قلعہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا۔ 
 
 جسلمیر کے راجہ راول سنگھ نے 1747میں قلعہ پر دوبارہ قبضہ جما لیا۔ 1808میں نواب آف بہاولپور دوبارہ قلعہ پر حملہ کرتے ہوئے راجہ راول سنگھ کو شکست دی اور یہ قلعہ دوبارہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا اور تب سے آج تک یہ قلعہ نواب
آف بہاوپور کی حکمرانی میں رہا ہے۔  
 
 قلعہ دراوڑ کی 30میٹر بلندوبالا بل کھاتی مربع شکل کی دیواریں قلعہ کے جاہ و جلال کی ایک عظیم داستان بیان کرتیں ہیں۔ قلعہ میں 40 پلوں سمیت ایک کنواں، ایک مرکزی دروازہ ہے ایک بڑا تالاب ہے جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔
البتہ تالاب اب خشک ہو چکا ہے۔ 
 
قلعہ میں موجود اکثر کمروں کی دیوریں اور چھتیں گر چکی ہیں جبکہ مرکزی دیواریں بھی کمزور پڑ چکی ہیں جن کا کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔ چولستان کی دلچسپ تاریخ پر نظر رکھنا والے ریاض بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “اگر ہم نے اپنے تاریخی ورثہ کے ساتھ یہ سلوک (عدم دلچسپی اور لاتعلقی کا رویہ) جاری رکھا تو اس کے ساتھ ہمارا بھی
“نام و نشان مٹ جائے گا۔
 قلعہ کے صحن نما میدان میں ایک قدیمی اور تاریخی توپ بھی موجود ہے جو جنگ کے دوران دشمنوں کے لیے استعمال کی
جاتی تھی اور آج یہ توپ بھی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ توپ کے ساتھ ایک سرنگ بھی بنائی گئی تھی جو قلعہ کے خفیہ راستوں سے ہوتی ہوئی جسلمیر تک جاتی تھی جسے بعد میں بند کر دیا گیا تھا۔
 بلوچ کہتے ہیں کہ “قلعہ دراوڑ کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کا ہنگامی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ورنہ اسی قلعہ کے ساتھ ایک پوری تہذیب دفن ہو جائے گی۔” 
رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس پاک وائسز کے لیے جنوبی پنجاب سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں 
ایڈیٹنگ: حسن خان