نذر عباس 

پاک وائسز، رحیم یار خان

ججہ عباسیاں میں قیمتی اعلی کھجوروں کی80 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں لیکن عدم توجہی کے باعث بہت سی اقسام خطرے کی زد میں آ کر نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔
پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور سے ظاہر پیر کی جانب 13 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کھجوروں کا نخلستان کہلایا جانے والا قصبہ ججہ عباسیاں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
 کھجوروں کی اعلی اقسام کی پیداوار کے حوالے سے ملک بھر میں منفرد پہچان کے حامل رحیم یار خان کی کھجوریں بھی اپنا تاریخی پس منظر رکھتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سن 712عیسوی میں جب محمد بن قاسم ملتان فتح کرنے کے لیے لشکر کے ہمراہ اس مقام سے گزرا تو سفری آرام کی غرض سے یہاں کچھ وقت قیام کیا۔
 جنگی لشکر کے پاس کھانے پینے کی اشیاءمیں دیگر خشک میوا جات کے علاوہ عرب روایت کے مطابق خشک کھجوریں بھی تھیں جن کے استعمال کے بعد پھینکی گئیں گھٹلیوں سے قصبہ ججہ عباسیاں میں 80 سے زائد اقسام کی کھجوریں پیدا ہوئیں جن میں سے بعض نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

 رحیم یار خان کے اس چھوٹے سے قصبہ میں تاحد نگاہ سینکڑوں ایکڑ پر محیط کھجور کے باغات ہوتے تھے جو آبادی میں اضافے اور حکومتی عدم توجہی کے باعث ختم ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے کھجور کی یہ نایاب اور قیمتی اقسام بھی تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔
 علاقے کے سماجی کارکن احمد زبیر نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “حکومت اگر سرکاری سطح پر کھجوروں کا باغ بنادے تو نایاب قسم کی کھجوروں کو بچایا جاسکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ “ججہ عباسیاں کی کجھوروں کا اپنا ذائقہ ہے جو اور کہی نہیں ملے گا۔”
 مختلف اقسام کی کجھوروں میں قابل ذکر ڈینڈا، لعلو، سروں، ملوک، نلی، مسری، سوکڑ، روڑا،قلعہ، بسرا، تپاشہ، سوہارا، ناسلی،ناسل ، پلال، چھچڑا، پھونڈا، بھولنڑیں ،واڑوی، چھوٹڑی، ساوڑ، ڈنگل، کراڑ ، آسمانی، کنال، کال کٹانی، دھویلی،صندوری،خسی اور سمار والی شامل ہیں۔
 یہی وجہ ہے کہ رحیم یار خان کی اعلی نسل کھجور پورے ملک سمیت بیرون ممالک بھی برآمد کی جاتی ہے۔ محمد بن قاسم کا لشکر جن علاقوں سے گزرا وہاں اپنا نشان کھجوروں کی صورت میں چھوڑتے گیا جس کے نشانات آج بھی سندھ کی دریائی پٹی سے ملتان تک ملتے ہیں۔
رائیٹر کے بارے میں:نذر عباس پاک وائسز کے ساتھ رحیم یار خان سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY