صہیب اقبال

انسان اب دور جدید میں داخل ہوچکا ہے لیکن ابھی بھی معاشرے میں انسانی تقسیم موجود ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ طبقہ بھی اوپر اسکے ۔


معاشرے میں اونچ نیچ کے فرق کو ختم کرنے کے لیے جنوبی پنجاب میں پہلی بار زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے خانہ بدوشوں کی زندگی بارے معلومات اور ان کے دم توڑتے قدیم روایتی فنون کو بھی اجاگر کیا دلت میلے میں خاکے ، سرائیکی جھومر ، جوگی ، کٹھ پُتلی تماشا سمیت خانہ بدوشوں کے مختلف ثقافتی رنگ بھی دکھائی دیے ۔ میلے میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ اس میلے میں مختلف شعراء کرام اور فنکار بھی شریک ہوئے شاندار اور منفرد تقریب کے انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کی تعریف کی

دلت طبقے سے وابستہ پیر بخش نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرے میں وہ جگہ نہیں دی جارہی جس کے ہم حقدار ہیں ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے اس صورتحال میں ہمارے طبقے کے لیے اس میلے کا انعقاد پر خوشی ہے ۔ زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں عزت دی۔ تاہم سرکاری سطح پر بھی اس طرح کی تقریبات منعقد کی جانی چاہیے تاکہ ہمارے طبقے کے افراد خوشی محسوس کرسکیں۔


میلے میں شریک کرن حسن نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میلے میں آکر بہت خوشی ہوئی ہے ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس طبقے کو حقیر سمجھتے ہیں جو قطعاً درست نہیں ہے۔ اگر ان کو اہمیت دی جائے ان کے فن کی حوصلہ افزائی کی جائے تو تو یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔

زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ معاشرے میں رہنے والے سب افراد برابر ہیں ۔ تمام طبقے کے افراد کو عزت دی جانی چاہیے۔ دلت میلے کا مقصد معاشرے کا نظرانداز طبقے کی حوصلہ افزائی کرنا اور طبقاتی فرق کو ختم کرنا ہے اس حوالے سے یونیورسٹی کے طلباء کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس طبقے کی زندگی اور ان کے فنون کو اجاگر کرنے کے لیے میلے کا انعقاد کیا اس طرح کے میلوں کا انعقاد ضروری ہے۔

میلے میں شریک طلباء وطالبات نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کی تاریخ میں پہلے کبھی دلت کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ۔ اس طبقے کو اہمیت دینے کے لیے دلت میلے کا انعقاد احسن اقدام ہے تاہم حکومت کی جانب سے بھی ان کو تمام انسانی حقوق پورے کرنے چاہیے ان کو کم تر سمجھنا تعجب کی بات ہے۔

LEAVE A REPLY