ذیشان علی

پاکستان میں گذشتہ دنوں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف ردالفساد کے نام سے سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے تاہم ماہرین ایک بار پھر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس بار اچھے اور برے طالبان میں تفریق کی ریاستی پالیسی ختم ہو پائے گی کہ نہیں۔

اس تناظر میں گذشتہ دنوں بلوچستان کے وزیر داخلہ و قبائلی امور سرفراز بگٹی کا یہ بیان قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت ہزاروں افغان طالبان بلوچستان میں موجود دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بہت سے مدارس میں افغان طالبان تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ بہت سے مدارس ایسے بھی ہیں جو ان طالبان کی ملکیت ہیں۔

خیال رہے کہ چند ماہ پہلے حکومت بلوچستان نے ہی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ صوبے میں پائے جانے والے چھ ہزار مدرسوں میں پانچ ہزار سے زائد افغان شہری زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ امریکہ اور افغانستان پاکستان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ افغان طالبان کی اعلی قیادت جسے طالبان شوری یا کوئٹہ شوری کہا جاتا ہے، بلوچستان میں مقیم ہے اور وہاں موجود مدراس سے طالبان کو ’جنگجو‘ مہیا ہوتے ہیں جو مبینہ طور پر افغانستان جا کر افغان اور اتحادی افواج پر حملے کرتے ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں مقیم افغان امور کے تجزیہ نگار اور صحافی عقیل یوسفزئی نے پاک وائسز سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز بگٹی کے بیان سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست پاکستان نے اب تک ان مدارس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قائم ادارے نیکٹا کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جن صوبوں میں مدارس کی سب سے زیادہ چھان بین کی گئی ان میں خیبرپختونخواہ اور سندھ سر فہرست ہیں، جبکہ بلوچستان اور پنجاب میں بالترتیب سب سے کم جانچ پڑتال کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے حوالے سے دوغلی پالیسی کا شکار ہے۔حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوارڈینیشن کا فقدان ہے اور اسی لیے غیرقانونی مدارس کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

امریکہ اور افغانستان کے پاکستان پر افغان طالبان کو پناہ دینے کے الزام پر عقیل یوسفزئی کا کہنا تھا کہ القائدہ اور طالبان کی قیادت کو پاکستان میں نشانہ بنایا گیا ہے اوراس بات سے قطع نظر کہ ان ممالک کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں درست، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری امریکی موقف کی حمایت کرتی ہے ، جبکہ پاکستان کا کیس اس حوالے سے کمزور نظر آتا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ ا س مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں ممالک یہ پالیسی اپنائیں کہ پاکستان کا دشمن افغانستان کا دشمن ہے اور افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔

پاکستان میں ایک عرصے سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ حکومت تمام شدت پسند عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کرے اور ان میں شدت اس وقت سامنے آئی جب دسمبر دو ہزار چودہ میں پشاور میں بچوں کے سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

اس واقعے کے بعد حکومت نے اچھے اور برے طالبان کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کرنے کا عزم کیا لیکن اس ضمن میں بہت سے حلقے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔

دوسرا اس واقعے کے بعد پہلی بار ملکی اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا  کی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے حوالے سے بیانات دیے اور اس ضمن میں بلوچستان سے ایک مبینہ انڈین جاسوس کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا لیکن دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تانے بانے افغان سرحد کے اندر موجود شدت پسندوں کے ساتھ جوڑے گئے اور انھوں نے کئی واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستان نے نہ صرف اب افغان سرحد کو بند کر رکھا ہے بلکہ افغان سرحد کے اندر موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے۔

 یہ ساری وضاحت اس وجہ سے کرنا بنتی ہے کیونکہ افغان حکومت کا ایک عرصے سے اصرار رہا ہے کہ ان کے ملک میں ہونے والی شدت پسندی اور شورش کو پاکستان کی سرحد کے اندر سے کسی حد تک مدد اور حمایت ملتی ہے۔

اب اس صورتحال میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے کہ انھوں نے صوبے میں افغان طالبان کی موجودگی کو تسلیم کیا ہے جس سے نہ صرف افغان حکومت کے موقف کو تقویت ملتی ہے بلکہ ملک کے اندر امن کے خواہش مند حلقوں کے اندر ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جب تک ملک میں بلاتفریق آپریشن نہیں ہوتا اور اس میں ان عوامل کو بھی باہر دیکھلنے کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے جاتے تو ملک میں امن قائم ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے ماہرین قرار دیتے ہیں کہ درپردہ جنگ کے تحت پاکستان کے دشمن ملک افغانستان کے ذریعے ملک میں شدت پسندی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں یا کرتے ہیں اور اس صورتحال میں انھیں افغان حکومت کی اگر مکمل حمایت حاصل نہیں بھی ہوتی تو ایک خاموش رضامندی ضرور شامل ہو سکتی ہے کیونکہ افغان حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستان کے اندر بلخصوص قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں موجود شدت پسندوں کے محفوط ٹھکانے موجود ہیں۔

حکومت کو چاہیے  کہ بلوچستان جو پہلے ہی پسماندہ ترین صوبہ شمار ہوتا ہے وہاں موجود شدت پسند کے ٹھکانوں اور ان کو دستیاب سہولیات کو ختم کرنے کے علاوہ صوبے میں موجود ایسے مدارس کا مکمل صفایا کرے جہاں شدت پسندی جنم لیتی ہے۔

اس صورت میں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے اور ہمسایہ ممالک کو بھی ایک مثبت پیغام جائے گا بلکہ خود پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری مصنوبے سے جڑے روشن مستقبل کے خوابوں کی تعبیر صوبے میں بلاتفریق آپریشن کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

سی پیک کا مغربی روٹ بلوچستان کے شہروں تربت، پنجگور، بسیما، سراب، قلات، مستونگ، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ اور ژوب سے گزرتے ہوئے گوادر پہنچے گا اور اس طویل روٹ پر اگرچہ سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کے حوالے سے اعلانات ہو چکے ہیں لیکن صوبے میں شدت پسند عناصر کی موجودگی ہمیشہ سے اس روٹ پر لٹکتی تلوار ہو گی۔

اسی وجہ سے 16 مارچ 2017 کو وزیراعظم نواز شریف نے گوادر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے بارے میں کہا کہ یہاں لوگ ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے کے چکروں میں پھرتے تھے لیکن آج یہاں ہونے والی ترقی کی وجہ سے یہ شدت پسند یہاں سے بھاگ رہے ہیں اور ہم ان کو بھگا کر دم لیں گے۔

تاہم ماہرین کے مطابق شدت پسندی کو روکنے کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے جس میں حکومت نے خود افغان طالبان کی صورت میں شدت پسند عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جنیں دنیا ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتی ہے۔ اگر صوبے میں معاملات پسند اور ناپسند کے مطابق چلائے جاتے رہے تو اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں آنے والے مغربی ممالک کی افواج کی سپلائی پر جس طرح سے حملے اور لوٹ مار کی جاتی تھی اسی کہانی کو سی پیک کے کنٹینرز اور ٹرکوں کے ساتھ دہرائے جانے کا خدشہ ہے۔

اس میں پاکستان کسی پر الزام بھی عائد نہیں کر سکتا کیونکہ شیشے کے گھر میں رہتے ہوئے دوسروں پر پتھر نہیں پھینکے جا سکتے۔

LEAVE A REPLY