ولید خان
کرسچن برادری نے چرچ پر مبینہ قبضے کے خلاف رحیم یار خان کے ڈی سی چوک پر مظاہرہ کیا ہے۔                   
 جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان کی کرسچن برادری نے چالیس سال پرانے چرچ پر قبضے کے خلاف ڈی سی چوک بلاک کر کے احتجاج کیا ہے۔
خواتین سمیت مسیحی برادری کی بڑی تعداد نے پروٹیسٹنٹ آرتھوڈکس چرچ (اے آر پی لیاقت پور) پر مقامی بااثر افراد کے مبینہ قبضے کے خلاف احتجاج میں شرکت کی اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ حالیہ دنوں میں قبضے کے بعد بااثر افراد نے گرجا گھر کو تالے لگا کر بند کر دیا ہے۔
مقامی کرسچن برادری نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے چیئر مین میونسپل کمیٹی چوہدری راشد رفیق پر گرجا گھر پر مبینہ قبضے کا الزام لگایا ہے۔
5 کنال زمین ہڑپ:
گرجا گھر انتظامیہ کے مطابق 5 کنال سے زائد زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔                                   
اے آر پی چرچ رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے گرین ٹاؤن شہر کے وسط میں واقع ہے۔ چرچ انتظامیہ کے مطابق گرجا گھر 5 کنال سے زائد رقبہ پر قائم ہے جسے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کے عوض گرجا گھر کو اپنے نام منتقل کروایا گیا ہے۔
 پس منظر:
گرجا گھر کی انتظامیہ کے مطابق ساہیوال سے آئے چند مسیحی افراد جو اپنے آپ کو پادری کہلواتے ہیں 2012 کے آغاز میں بھی چرچ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔اس پر مقامی مسیحی برادری نے چرچ کے تحفظ کے لئے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔
ڈسٹرکٹ مینیورٹی ایڈوائزری کونسل کے ممبر عمانوئیل عمومی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چند سال قبل یہی گروہ رحیم یار خان کے علاقے فیروزہ میں بھی جعلی کاغذات بنا کر گرجا گھر کی اراضی کو فروخت کر چکا ہے.
فیصلہ آنے تک چرچ کو کھلا رکھا جائے:
13اگست 2012 میں مسیحی برادری نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ عدالت کا فیصلہ آنے تک گرجا گھر کو عبادت کے لئے کھلا رکھا جائے گا۔عدالت کے واضح احکامات کے باوجود گرجا گھر کو بند کر دیا گیا ہے۔
ادھرچیئرمین میونسپل کمیٹی راشد رفیق نے ساہیوال گروپ سے مبینہ طور پر سازباز کر کے گرجا گھر کی آراضی اپنے اور اپنے بھائی کے نام منتقل کروالی ہے.
کرسچن کمیونٹی سراپا احتجاج:
چرچ پر قبضے کے بعد تالا لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ علاقے کی کرسچن برادری عبادت گاہ سے محروم۔              
یہ انکشاف ہونے پر مقامی مسیحی برادری نے چرچ کی غیر قانونی خرید وفروخت کے خلاف رحیم یار خان میں ڈی سی چوک کو بلاک کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے.
مظاہرے میں شریک مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے یونس مسیحی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی چرچ کے معاہدہ کو ختم کر کے مسیحی برادری کو عبادت کے لئے ان کے حوالے کیا جائے.انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے واقعہ کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی ہے۔
“مذہب کا لبادہ اوڑھے قبضہ مافیہ”
عمانوئیل عمومی کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔  “حکومت فوری طور پر
ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر قبضہ مافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔”
رائیٹر کے بارے میں: ولید خان رحیم یار خان سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان   

1 COMMENT

LEAVE A REPLY