گوادر ڈیپ سی بندرگاہ دوبئی اور سنگاپور کی طرح فری پورٹ جانے کب بنے، ابھی تو پاک چائنا کاریڈور اور پھر اس کے ساتھ ساتھ خصوصی  اکنامک زونز بننے میں بھی خاصا وقت ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ جب یہ سب ہوجائے گا تو بلوچستان کی صدیوں کی پسماندگی چند برس میں ہی قصہ پارینہ ہو جائے گی اور اتنی ترقی ہوگی کہ خود اہلِ بلوچستان کہیں گے ہائیں  کیا یہ وہی سنگلاخ  بے آب و گیاہ زمین ہے جہاں ہم نے جنم لیا۔

مگر خواب سے تعبیر تک سفر مکمل ہونے کا انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ  کچھ کام فوراً ہوجائیں تو صرف ان سے ہی بلوچستان کی شرحِ غربت آدھی ہوسکتی ہے۔ نہ تو میں زیرِ زمین معدنیات کے خزانے کو اوپر لانے والا اربوں ڈالر کا نسخہ تجویز کررہا ہوں اور نہ ہی ان معدنی رائلٹیوں کی بات کررہا ہوں جنہیں دے کر نہ مرکز مطمئن ہوتا ہے اور نہ وصول کے صوبے کو چین پڑتا ہے۔wusat

میں تو بس چند چھوٹے چھوٹے کم خرچ بالا نشیں ٹکاؤ منصوبوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ زمین کے اوپر جو کچھ خام شکل میں اگ رہا ہے اگر وہی سلیقے سے ذیلی مصنوعات میں تبدیل کرکے بیچنے کا کوئی راستہ نکل آئے تو سستے میں خوشحالی کا دروازہ کھل جائے گا۔

اس وقت بلوچستان کے صرف دو اضلاع میں نہری نظام ہے۔ باقی اضلاع چشمے، کاریز اور ٹیوب ویل پر گزارہ کرتے ہیں اور وہاں زیرِ زمین پانی کی اوسط گہرائی سات سو فٹ تک ہے۔ یہ بارانی علاقے بارش اور خشک سالی کے درمیان غیر یقینی کے رسے پر جھولتے رہتے ہیں۔ اس پے مستزاد لوڈ شیڈنگ کا مسلسل مرض۔ ایسے میں بھی یہ صوبہ تقریباً اکتیس زرعی اجناس پیدا کرتا ہے۔ ملک کی پانچ فیصد کپاس اور گندم ، دس فیصد چاول ، سولہ فیصد سبزیاں بلوچستان میں اگتی ہیں۔ سندھ کے بعد سب سے زیادہ پیاز یہاں ہوتی ہے۔

پھلوں کا حساب دیکھا جائے تو پاکستان کی نوے فیصد چیری، بادام، انگور، ستر فیصد کھجور، ساٹھ  فیصد آڑو، انار، خوبانی، چونتیس فیصد سیب اور اٹھارہ فیصد خربوزے کی پیداوار بلوچستان سے حاصل ہوتی ہے۔ گیارہ اقسام کا زیتون اور چار اقسام کا چلغوزہ یہاں پایا جاتا ہے۔

مگر ہوتا کیا ہے۔ غیر تربیت یافتہ افرادی قوت ، ناکافی فارم ٹو مارکیٹ روڈ نیٹ ورک ، خرید و فروخت کے ڈائریکٹ مراکز کا عدم وجود ، کولڈ اسٹوریج ، پیکیجنگ اور ائیر کنڈیشنڈ ٹرانسپورٹیشن کی قلت اور مہنگا پن ، قرضوں تک محض بڑے اور بااثر کاشت کاروں کی رسائی کے سبب پینتیس فیصد پھل اور سبزیاں آخری گاہک تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوجاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب کچھ کرنا اکثر  کاشتکاروں کی اوقات سے باہر ہے اس لئے کاشتکار کے ہاتھ صرف اتنی ہی رقم آتی ہے جو آڑھتی پیشگی فصل خریدنے کے احسان کے طور پر تھما دیتا ہے۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر گندم ، چاول اور چینی کی خریدار ریگولیٹری کارپوریشنوں کی طرح صوبائی سطح پر خود مختار فروٹ اینڈ ویجیٹیبل کارپوریشن بھی ہوتی تاکہ پھلوں اور سبزیوں کے کم ازکم بنیادی ریٹس فصل سے پہلے طے ہوجاتے اور کاشتکاروں کے استحصال میں ذرا  کمی آجاتی۔ مگر یہ ہو نہ سکا۔

اگرچہ گزشتہ پانچ برس کے دوران یو ایس ایڈ کی مدد سے صوبے میں کولڈ اسٹوریج ، پھل پکانے اور میوے خشک کرنے کے اٹہتر یونٹ لگائے گئے ہیں۔ حکومتِ بلوچستان نے بھی زیارت اور قلات میں ایپل گریڈنگ اور پیکیجنگ اور مکران میں کھجور کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کا پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ مگر صوبے کے رقبے ، دور دور پھیلی آبادی اور ذرائع آمدورفت کی حالت دیکھتے ہوئے اب تک اس ضمن میں جو کچھ ہوا ہے وہ غنیمت ضرور ہے پر ناکافی ہے۔

آخر کیوں ممکن نہیں کہ بلوچستان کے  اضلاع میں ایک خاص مدت کے لئے ٹیکس و ڈیوٹیز میں رعائیت دے کر ایگرو بیسڈ فیکٹریوں کی حوصلہ افزائی کر کے بیس روپے کلو کے سیب کو پانچ سو روپے کلو کے جام ، جیلی ، مارملیڈ یا جوس کی شکل دی جاسکے( یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسا کرکے ہر خام پھل اور سبزی کی قدر میں سو گنا اضافہ ہوسکتا ہے )۔

اس سے نہ صرف پھل اور سبزیاں محفوظ و منافع بخش مصنوعات کی شکل اختیار کریں گی جنہیں ملکی و بین الاقوامی منڈی میں زیادہ بہتر انداز میں بیچا جاسکے گا بلکہ خالص زرعی اضلاع میں صنعت کاری کی بنیاد بھی ڈالیں گی۔ اب تک اس بارے میں بس اکا دکا دھیان دیا جارہا ہے۔ مثلاً حکومتِ بلوچستان پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ٹماٹو پیسٹ بنانے کے ایک منصوبے کے علاوہ زیتون کے تیل کا ایک یونٹ لگانے کا بھی سوچ رہی ہے ( آخر سوچ زیادہ اور کام کم کا فارمولا کب الٹے گا )۔

کانکنی ، بندرگاہیں ، ہائی ویز ، انڈسٹریل زونز بڑے آدمیوں کی بڑی باتیں  ۔ فوری سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی عام آدمی کی کایا کلپ ہوئی وہ بڑے بڑے منصوبوں سے نہیں چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہوئی اور پھر یہی چھوٹے چھوٹے کام آہستہ آہستہ خوشحالی کے تن آور سایہ دار چھتر بنتے چلے گئے۔ سوچ بڑی رکھنے میں کوئی حرج نہیں مگر ہاتھ میں جو چڑیا ہے وہ سامنے کی جھاڑیوں میں موجود دو چڑیوں سے بہرحال زیادہ قیمتی ہے۔۔

LEAVE A REPLY