نذر عباس
ذرائع کے مطابق سوڑیاں واٹر سپلائی کا منصوبہ کاغذوں میں فعال دکھایا گیا ہے جبکہ گراؤنڈ پر صورتحال مختلف ہے۔             
30کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی سوڑیاں واٹر سپلائی سکیم 10 سال گزرنے کے باوجود فنگشنل نہ ہو سکی اور واٹر سپلائی کے لئے بنائے گئے کنوئیں اور کوارٹرز بھوت بنگلے کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔
دوسری طرف یزمان ،بہاولپور اور بہاولنگر کی واٹر سپلائی سکیموں کی توسیع کا منصوبہ بھی 4سال گزر جانے کے باوجود نامکمل ہے۔ بجنوٹ  ،کھارڑی کے چولستانی علاقے بھی پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
منصوبے کا پس منظر:
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں یزمان بہاولپور اور بہاولنگر کے چولستانی علاقوں میں پانی کی دستیابی کے لئے واٹر سپلائی سکیم کا منصوبہ 50کروڑ روپے کی خطیر رقم سے شروع کیا گیا۔ اس منصوبے میں چا ر واٹر سپلائی کی اسکیمیں شامل تھیں جس میں میر گڑھ سے چوڑی (فورٹ آباد ) کھتڑی سے طوفانہ چک 108سے کھارڑی اور چک111سے نواں کوٹ کے علاقوں تک 256کلو میٹر کی پائپ لائن بجھائی گئی لیکن یہ پائپ لائن چولستانی علاقو ں  میں پانی دینے کے لئے ناکافی تھی۔
2014 میں چولستانی علاقوں :
اسکیم کے تحت کنوئیں تو بنائے گئے ہیں لیکن ان میں پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔                             
 اسے مزیر بڑھانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے فروری 2014میں بجنوٹ میں چولستانی علاقوں کی ترقی اور واٹر سپلائی سکیموں کی توسیع منصوبہ  کے لئے 2ارب 37کروڑ روپے کا اعلان کیا لیکن چار سال گزر جانے کے باوجود واٹر سپلائی سکیموں کی توسیع نہ ہو سکی آج بھی بجنوٹ کے لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
 2007میں رحیم یارخان کے چولستانی علاقے سوڑیاں میں 30کروڑ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی اسکیم بنائی گئی۔ جس میں
چار واٹر سپلائی سکیمں شامل تھیں دس سال گزر جانے کے باجود یہ سکیم فنگشنل نہیں ہو سکی۔
چولستانیوں کا شکوہ:
توسیع منصوبہ بھی چار سال گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا اور چولستان کے باسی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔                                
چولستان کے رہائشی بلال لاڑ نے پاک وائسز سے گفت گو کرتے ہوئے ان تحفظات کا خیال کیا، “واٹر سپلائی منصوبہ مکمل نہ ہونے کے باعث ہم کنویں کا کڑوا پانی پینے پر مجبور ہیں اور ہمارے بچے ہر سال مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن حکومت سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔”
چولستان کے ایک اور باشندے جام شبیر بھی پینے کے پانی کی کمی کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ “ہمارا آدھا خاندان آبادی والے علاقے میں ہجرت کر گیا ہے جبکہ آدھا چولستان میں رہ گیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا: “ہر دوسرے روز ہم شہر سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں۔
سرکاری ردعمل:
سائیٹ آفس اور کواٹر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں                                        
اس سلسلے میں پاک وائسز نے جب کمشنر وائس چئیر مین چولستان ڈولپمنٹ اتھارٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے دعوی کیا کہ واٹر سپلائی منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے ہمیں بتایا: “فنڈ ہمارے پاس آچکے ہیں، جلد واٹر سپلائی کی توسیع کا منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا اور چولستان کے تمام علاقوں میں پانی پہنچایا جا رہا ہے۔”
واٹر سپلائی سکیم کے لئے بنائے گئے کوارٹرز کی کھڑکیاں چوری ہو چکی ہیں اور یہ عمارتیں بھوت بنگلہ کا منظر پیش کر رہی ہیں واٹر سپلائی سکیم کے لئے بنائے گئے کنویں بھی خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔
چولستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کے دعوے اپنی جگہ لیکن چولستانیوں کو صوبائی حکومت سے شکوہ ہے کہ ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے منصوبے التوا کا شکار ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ چولستان سے کام کررہے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY