نذر عباس 
پاک وائسز، چولستان
خشک سالی سے چولستان میں ہلاک ہونے والے جانور کا ایک منظر ۔ہلاک ہونے والے جانوروں میں گائے سرفہرست ہے۔
چولستان میں بارشیں نہ ہونے اور گرمی کی شدت میں اضافہ کے باعث ٹوبے خشک ہونے لگے اور گھاس پھوس کا بھی نام و نشان تک مٹتا جا رہا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق خشک سالی کی زد میں آ کر گائے سمیت دو سو سے زائد جانور پانی اور چارہ نہ ملنے کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
چولستانی روہیلے عبدالجبار کہتے ہیں: “ہم بہت پریشان ہیں، خشک سالی سے ہمارے جانور مر رہے ہیں لیکن انہیں کئی دنوں
سے بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔”
چولستان کے باسی  زندہ رہ جانے والے مال مویشی ساتھ لے کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک طرف چولستان کا صحرا بارش کی بوند بوند کو ترس رہا ہے تو دوسری طرف واٹر سپلائی کی لائنیں بھی بند ہیں۔ ایسے میں سارے ٹوبے خشک، ہریالی غائب اور زندہ جانور دور دور تک نظر نہیں آرہا۔
 ادھر صحرا میں ہر طرف ہلاک جانوروں کی باقیات پڑی نظر آتی ہیں۔
خشک سالی کے بعد چولستان کے صحرا کو چھوڑ کر جانے والوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مقامی آبادی گاڑیوں پر سامان لادے نقل مکانی کرتی نظر آتی ہے  جبکہ پانی کی کمی کے باعث چولستان کا جہاز اونٹ بھی سست اور بیمار پڑنے لگا ہے۔
چولستانی روہیلے عبدالمجید نے کہا: “پانی نہ ہونے کہ وجہ سے چولستان میں سبز گھاس ختم ہو گئی
ہے ٹوبے خشک ہو گئے ہیں۔”
مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر ہنگامی طور پر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو چولستانیوں کو عنقریب قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس رحیم یار خان سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔ 
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY