ذیشان علی 

پاکستان میں ایک عرصے سے جہاں چینی مصنوعات کی اجارہ داری ہر جگہ نظر آتی ہے وہیں اب اقتصادی راہداری منصوبے کے ساتھ چینی زبان بھی ملک میں تیزی سے قدم جماتی نظر آتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں زبانیں سیکھانے والی سرکاری یونیورسٹی نمل یعنی نیشنل یونیورسٹی فار ماڈرن لینگوئجز میں قائم چینی زبان کے شعبے میں چند برس پہلے طالب علموں کی تعداد درجنوں میں ہوتی تھی وہاں یہ تعداد اس برس بارہ سو تئیس تک پہنچ چکی ہے۔

اسلام آباد میں ہی چینی زبان سیکھنے کا رجحان اب جنوبی پنجاب کے بھی کئی شہروں تک پہنچ چکا ہے جہاں طالب علم اس زبان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

آن لائن چینی زبان سیکھنے کے بعد انس خان بہاولپور میں چینی زبان کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور کے رہائشی انس خان نے بھی اس رجحان کو محسوس کرتے ہوئے اپنے گھر میں بچوں کو چینی زبان سیکھانے کا فیصلہ کیا جو ان کے بقول درست ثابت ہوا۔

انس خان نے کچھ عرصہ قبل چین کی ایک یونیورسٹی سے آن لائن چینی زبان سیکھی تھی اور یہ اب ان کے کام آ رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس ابھی چار طالب علم چینی زبان سیکھ رہے ہیں لیکن اب انھیں روز والدین کے فون آتے ہیں جو اپنے بچوں کو یہ زبان سیکھانا چاہتے ہیں۔

انس خان کے خیال میں اقتصادی راہداری منصوبے کی تشہیر کی وجہ سے لوگوں میں اس کا شوق پیدا ہوا ہے اور جو کوئی بھی ان سے ملا اس نے چینی زبان سیکھنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔

پاک وائسز سے بات کرتے انس خان نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں پسماندہ ہے اور جب پورے ملک میں اقتصادی راہداری منصوبے سے جڑی ترقی کی باتیں ہو رہی ہیں تو اسی وجہ سے یہاں بھی اس منصوبے اور چینی زبان سیکھنے میں لوگ دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ لوگوں کے نزدیک اگر کل کو روزگار کا کوئی موقع ملتا ہے تو زبان نہ آنے کی وجہ سے وہ اسے کھونا نہیں چاہتے۔

انس خان کے بقول اب مجھے ہی دیکھ لیں چونکہ میں نے بنیادی چینی زبان سیکھ رکھی تھی تو اب اس سے مجھے فائدہ پہنچ رہا ہے اور بچوں بڑوں کی اس میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے میں اپنی چینی زبان کی کوچنگ اکیڈمی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انس خان نے تو اپنے طور پر چینی زبان کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اسی شہر کی سرکاری اسلامیہ یونیورسٹی میں بھی چینی زبان کورس کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔

تاہم جنوبی پنجاب کے مرکزی شہر ملتان کی مرکزی یونیورسٹی بہاؤلدین زکریا یونیورسٹی میں جہاں چینی زبان کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب ملا کہ ابھی کوئی ایسا ادارہ نہیں تاہم اسی شہر میں اب نجی شعبے میں چینی زبان کی مانگ کو محسوس کرتے ہوئے انگش کے ساتھ اس کو پڑھایا جا رہا ہے۔

ملتان کے نجی تعلیمی ادارے فیئر انٹرنیشنل کے اہلکار اصغر نے پاک وائسز کو بتایا ہے کہ تین برس پہلے انھوں نے بنیادی کورسز کا آغاز کیا تو اس وقت زیادہ تر کاروباری افراد آتے تھے جو چین سے تجارت سے منسلک تھے لیکن اب ماحول بن رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ نوجوان ان کے پاس چینی زبان سیکھنے آ رہے ہیں۔

کیا نوجوانوں اور تاجر برادری کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اس پر انھوں نے کہا کہ بالکل ہمارے ہاں سے فارغ ہونے والے طالب علموں کی کئی کامیاب کہانیاں ہیں جس میں چین میں بہتر کاروباری مواقعے اور دوسرا ہمارے خطے کے طالب علموں کی چینی یونیوسٹیوں تک رسائی اور سکالرشپ ملنے کی صورت میں مفت تعلیم شامل ہے۔

دوسری جانب حکومت پنجاب نے بھی صوبے میں چینی زبان کو فروغ دینے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں جن میں ملتان میں سرکاری ٹیکنیکل تربیتی انسٹیٹیوٹ میں پروگرام شروع کیا گیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ جنوبی پنجاب میں عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں ہونے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں ان کے خطے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جس کی تلافی محض نجی اور سرکاری شعبے میں چینی زبان سیکھا کر ہی نہیں کی جا سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کے لوگوں کو اقتصادی راہداری سے منسک منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں اور اس کے ساتھ نوجوانوں کو چین کے ساتھ جاری مختلف تعیلمی پروگرامز میں زیادہ ترجیح دی جائے کیونکہ ماہرین کے مطابق اس وقت حکومت کو بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ کاری ان علاقوں پر زیادہ کرنی چاہیے جہاں محرومی کا احساس زیادہ پایا جاتا ہے اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان شدت پسندی کی جانب بھی مائل ہو رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY