سلیمان ھاشم

چکن گونیہ وائرس سے اب تک گودار میں قابل ذکر تعداد متاثر ہو چکی ہے لیکن مریضوں کو ادویات اور مناسب طبی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔

گوادر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے ایم ایس عبدلطیف بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اب تک ان کے اسپتال میں چکن گونیہ کے مرض سے متاثر 6 سو افراد لائے گئے ہیں جبکہ ضلع بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 16سو تک پہنچ گئی ہے۔چکن گونیہ کے علاج اور ادویات کے لیے انہوں نے صوبائی محکمہ صحت کے حکام سے بھی رابطہ کیا ہے۔

ڈاکٹر بلوچ کے مطابق چکن گونیہ کا مرض ڈینگی سے ملتا جلتا ہے جس کی علامات میں تیز بخار ،جوڑوں اور خصوصا گھٹنوں میں بے حد درد شامل ہیں۔ ڈینگی کی طرح چکن گونیہ وائرس پھیلنے کا سبب بھی مچھر ہیں۔

چکن گونیہ سے متاثرہ ایک مریض نے بتایا کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو گئے ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق چکن گونیہ وائرس گزشہ دو ماہ سے گوادر شہر میں پھیل رہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق چکن گونیہ کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ گوادر پورٹ سٹی میں گندگی کا ڈھیر اور سیوریج کا ناقص نظام ہے جہاں چکن گونیہ وائرس پھیلانے والے مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔ ماہرین نے صفائی کا خیال رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چکن گونیہ سے بچاؤ کے لیے کچرے کو کوڑا دان میں محفوظ کریں اور گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مچھر مار سپرے تک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔

اسپتال میں مریضوں کا دباؤ بڑھنے کے باعث انہیں ایمرجنسی کے تحت صرف پناڈول اور طاقت کے ڈرپ لگانے کے بعد فارغ کیا جا رہا ہے۔سرکاری اسپتال میں ادویات نہ ہونے کے باعث بیماری میں مبتلا افراد پریشانی کا شکار ہیں۔

پچاس بیڈ پر مشتمل سول اسپتال کو وزیراعظم نے گوادر کے حالیہ دورہ کے دوران 5سو بیڈ میں تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ادھر کچھ مقامی این جی اوز نے اپنے طور پر چکن گونیہ کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔

 رائیٹر کے بارے میں: سلیمان ہاشم پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ گوادر سے کام رہے ہیں۔ 

ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY