بادل بلوچ 

پاک وائسز، گوادر

پاک وائسز نے پاکستان کے ان علاقوں میں عوامی مسائل کو اجاگر کیا جہاں عام میڈیا کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے جس میں بلوچستان کا پسماندہ ڈویژن مکران بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں پاک وائسز نے سٹیزن جرنلسٹ کو تربیت دیکر موبائل جرنلزم، ڈیٹا جرنلزم وغیرہ کے طورطریقے سکھائے، ان سٹیزن جرنلسٹ میں ضلع گوادر کی دو باہمّت خواتین سٹیزن جرنلسٹ بھی شامل ہیں۔
ہانی رمضان ، سٹیزن جرنلسٹ ،پسنی

پسنی کی ہانی رمضان اور گوادر شہر کی جنّت حمید نے بہت سی مشکلات کے باوجود میلوں سفر کرکے اپنے پسماندہ علاقے کے لوگوں کی آواز باہر کی دنیا تک پہنچائی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچ معاشرے میں آج بھی لڑکیوں کو زیادہ تر گھر کی چاردیواری میں ہی رہنے کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ میڈیا میں کام کرنے سے انہیں اکثر والدین کی طرف سے روکا جاتا ہے کیونکہ اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
اسی لیے اکثر لڑکیاں شوق و ہنر ہونے کے باجود میڈیا جیسے شعبے کو نہیں اپنا سکتیں۔ مگر ہانی رمضان اور جنّت حمید نے اپنی ہمت اور لگن سے اس قابلیت سےکام کیا کہ انکے والدین کے ساتھ ساتھ علاقے کے لوگ بھی اب ان کی رپورٹنگ کو سراہتے ہیں۔
ہانی رمضان نے پسنی شہر  میں پانی کی قلّت اور خواتین کی حالتِ زار کو سب کے سامنے لانے کے لیے اکیلی 30 کلومیٹر کے فاصلے پر شادی کور ڈیم کا سفر کیا جہاں انہوں نے اپنے قلم، پیڈ اور موبائل کیمرے کی مدد سے مقامی لوگوں کو آواز دی۔
اسکے علاوہ پسنی کے ہونہار اور باصلاحیت نوجوانوں کے باکمال ڈرائنگ اور سینڈ آرٹ کو بھی وقتاً فوقتاً رپورٹ کرکے داد وصول کی۔
ہانی رمضان نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتےہوئے ہمیں بتایا کہ ایک سال قبل جب انہوں نے پاک وائسز کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو انہیں ڈرتھا کہ ان کے علاقے کے لوگ کیا سوچے گے۔ مگر والدین اور بھائیوں کی مدد  سے وہ ہر مشکل کو پار کرتی ہوئی آج بطورِ ایک رپورٹر جانی جاتی ہیں۔
گوادر شہر کی جنت حمید ایک خاتون کا انٹرویو کرتے ہوئے نوٹس لے رہی ہیں۔

گوادر کی جنّت بھی کھٹن راستوں سے گزر کر آج ایک باصلاحیت سٹیزن جرنلسٹ کے طورپر جانی جاتی ہیں، گوادر کے دشوار گزار راستوں سے گزر کر مسائل کو تصاویری اور ویڈیو اسٹوی کی شکل میں اجاگر کرتیں ہیں۔

انہوں نے پاک وائسز سے اپنی دوسالہ وابستگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ” میری ہمیشہ سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے شہر کے خواتین کی مسائل کو اجاگر کروں تاکہ انکی آواز ملک کے حکمرانوں تک پہنچ سکے، چونکہ ہماری خواتین مرد رپورٹرز سے کھل کر بات نہیں کرسکتیں لہذا میں اچھے طریقے سے ان سے سوال و جواب کرسکتی ہوں۔”
جنّت مزید کہتی ہیں کہ پاک وائسز کے زیر اہتمام ٹریننگ میں انہوں نے بہت کچھ سیکھاہے اور اس پر عمل کیا ہے۔ “میری اسٹوری کے بعد گوادر کے پارک کو نہ صرف پبلک کے لیے کھول دیا گیا بلکہ اس کی تزئن و آرائش بھی کی گئی ہے جسے بہت سے مقامی لوگوں نے سراہا ہے۔
ہانی رمضان اور جنت حمید کی بہترین اور جرات مندانہ کام کی وجہ سے دوسری لڑکیوں میں بھی میڈیا میں کام کرنے کا حوصلہ پیدا ہورہاہے۔

LEAVE A REPLY