سلیمان ہاشم

گوادر کا یہ کتب میلہ مکران کی علمی روایت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوادر میں آر سی ڈی کونسل کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس بار اس بھی گوادر کتب میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔اس بار افتاحی تقریب کو بابائے بلوچی ،ادیب و محقق میر عبداﷲ جمالدینی کے نام کرکے اس تقریب کو چار چاند لگادیے گئے۔

بلوچی ثقافت کے مختلف رنگ پیش کئے گئے مقامی دستکاری کے بہترین نمونے رکھے گئے ہیں جو لوگوں کے توجہ اپنی طرف کھنچنتے ہیں، بلوچستان اور ملک بھر کے مشہور و معروف پبلشروں کے کتب کے اسٹال بھی رکھے گئے ہیں جو لوگوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں اور لوگوں نے پہلے دن ہی کافی خریداری کی۔

اس میلے میں بلائے گئے مہمانوں میں بلوچستان سے ڈاکٹر شاہ محمد مری ، ، جنید خان جمالدینی ، دوستین خان جمالدینی گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین ، پروفیسر اے آر داد ، جب کہ کراچی سے ڈاکٹر فاطمہ حسن ،محمد حنیف وغیرہ شامل ہیں۔

کتب میلے میں مختلف کتابوں کے اسٹال سجائے گئے ہیں۔ فوٹو کریڈیٹ :سلیمان ہاشم

تقریب کا آغاز 16 فروری کی صبح گوادر کی معروف شخصیت ، بی این پی کے رہنما اور ایم پی اے میر حمل کلمتی نے فیتہ کاٹ کر کیا۔ اس کے علاوہ ادارہ ثقافت بلوچستان ، اکادمی ادبیات پاکستان ،انجمن ترقی اردو پاکستان کے خصوصی نمائندے اس میں شریک ہوئے۔ اور مقامی لوگوں کی کافی تعداد نے اس شرکت کی۔ پچھلے سال ایک اندازے کے مطابق 6 ہزار سے زائد افراد نے دور دراز سے آکر اس میلے میں شرکت کی۔

 سیکڑوں نوجوانوں اور طالب علموں نے کتب کی خریداری کی۔

جی پی اے کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ گوادر میں پاکستان کے بڑے شہ لاہور اور کراچی کے بعد وہ واحد شہر ہے کہ ایسے انداز میں کتب میلے منائے جاتے ہیں۔ ایسے فیسٹیول کو زیادہ وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ گوادر عظیم ہستیوں کا شہر ہے ،جن میں سید ظہور شاہ ہاشمی اور استادعبدالمجید گوادری جیسے لوگ رہتے تھے۔جنہوں نے بلوچی زبان و ادب کے لیے بے بہا قربانیاں دی ہیں۔

پاکستان کے معروف ناول نگار اور صحافی محمد حنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ بلوچستان کو صرف معدنی دولت سے جانتے ہیں، انہوں نے اس کے دیگر پہلوو ں پر کبھی غور نہیں کیا ہے۔ اس کی بڑی تاریخ ہے۔ ان سرزمین کے باسی بڑے دل کے مالک ہیں۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بات بار بار پاکستانی میڈیا میں آتی ہے کہ ناراض بلوچ ، میں کہتا ہوں کہ ناراض بلوچ نہیں بلکہ بیزار بلوچ رہتے ہیں، جنہیں دھوکے کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔


انجمن ترقی اردو کے پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج اتنی بڑی تعداد میں خواتین کی موجودگی سے مجھے بڑی مسرت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں اور مطالعہ انسانوں کو تمام تکالیف سے بچا لیتی ہیں۔ آج میں نے محسوس کیا کہ تعلیمی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جس طرح میر دوستین جمالدینی نے مضمون نویسی کا اعلان کیا ہے ،میں اس تمام حصہ لینے والے بچوں کو پانچ کتابیں مفت دینے کا اعلان کرتی ہوں اور ایک شیلڈ میر عبداﷲ جان جمالدینی کے نام پرفرسٹ آنے والے بچّے کو دینے کا اعلان کرتی ہوں۔

آرسی ڈی سی کونسل کے صدر خدابخش ہاشم نے کہا کہ بچّے اپنے آپ کو کتب بینی کا عادی بنائیں، بچّے کتابوں سے پیار کرنا سیکھیں تو یہی کتابیں انہیں ایک دن اونچائی تک پہنچائیں گی۔

مصنف کا تعارف:سلیمان ہاشم پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ وابستہ ہیں۔

LEAVE A REPLY