ظریف بلوچ

پاک وائسز، پسنی

یہ پسنی فش ہاربر کا ایک منظر ہے جہاں ہر صرف چھوٹی کشتیاں لنگر انداز ہو سکتی ہیں۔فوٹو: ظریف بلوچ

جہاں ساحل ہو تو کشتیاں لازمی ہوں گی اور ان کو تیار کرنے والی صعنت بھی موجود ہو گی۔ صدیوں پرانی تہذیب والی بلوچستان کی مکران ڈویژن  کے ساحلوں پر آباد مقامی لوگوں نے ہر اس ہنر کو اپنایا جو ان کی ضرورت کا حصہ رہا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان میں 8سے 10ہزار کشتیاں رجسٹرڈ ہیں۔

بلوچستان کا ساحل 780کلومیٹر طویل ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ مکران اور لسبیلہ کے ساحلی علاقوں میں کشتی سازی کی مقامی صنعت صدیوں سال پرانی ہے جہاں ان کشتیوں کو زیادہ تر سمندر سے خوراک حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جیسے جیسے وقت بدلا تو کشتیوں کی صعنت بھی بدلتی گئی جس میں پہلے اگر ہوا کے رخ پر چلنے والے آچار نامی کشتیاں تیار کی جاتی تھیں تو اب مشینوں یعنی انجن سے چلنے والی کشتیاں ضروریات کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔

بڑی کشتیاں جنھیں لانچ کہا جاتا ہے میں جدید سہولیات دستیاب ہوتی ہیں جس میں سمندر سے پکڑی گئی خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ سٹوریج، آرام کے لیے کیبن اور دیگر ضرریات شامل ہوتی ہیں جبکہ چھوٹی کشتیوں میں یہ سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔

پسنی کے مقامی کاریگر چھوٹی کشتی کو تختہ لگاتے ہوئے جس کی تیاری میں تقریبا 6ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔فوٹو:ظریف بلوچ

یوں تو مکران کے ساحل پر بڑی بڑی لانچ اور کشتیاں لنگر انداز ہوئی نظر آئیں گی لیکن مقامی ماہی گیر اب بھی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندری شکار کرتے ہیں۔

یہاں پر ماہی گیر ان چھوٹی کشتیوں پر رات کو سمندر میں شکار کے لیے جاتے ہیں مگر ان کشتیوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے چھوٹے حجم کی وجہ سے یہ سمندر میں آنے والے طوفان کو برداشت نہیں کر پاتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر اوقات حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔

تاہم ماہی گیر پھر بھی ان کشتیوں کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کی مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ بڑی کشتیاں خرید یا تیار کر سکیں۔

ان کشتیوں کی صعنت گوادر، پسنی اور گڈانی کے ساحلوں پر موجود ہے۔ جہاں  ماہی گیروں کی ضروریات کے مطابق مختلف سائز کی کشتیاں تیار کی جاتی ہیں۔

اگرچہ دنیا میں کشتی سازی کی صعنت میں جدت آ چکی ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے مگر آج بھی مکران اور لسبیلہ کے مقامی کاریگر روایتی طریقوں کو زندہ رکھتے ہوئے کشتی سازی کرتے ہیں۔

مقامی کاریگروں کے ہاتھ کی تیار کی گئی ایک چھوٹی کشتی کا منظر۔فوٹو: ظریف بلوچ

پسنی میں گذشتہ بیس برس سے کشتی سازی کی صعنت سے منسلک ماہی گیر جماعت نے بتایا کہ وہ یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔

انھوں نے کشتی کی تیاری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا: “چھوٹی کشتیوں کے لیے وہ مقامی جنگلات سے حاصل کردہ لکڑی خریدتے ہیں جبکہ کشتی کا وہ حصہ جو پانی کے اندر ہوتا ہے اس کے لیے مضبوط اور مہنگی لکڑی کا استعمال کیا جاتا”۔

انھوں نے کہا ہے کہ زیر آب رہنے والے حصے کو مقامی زبان میں شاگ کہا جاتاہےاور اس کے لیے لکڑی برما یا موجودہ میانمار سے درآمد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ افریقہ سے بھی لکڑی منگوائی جاتی ہے۔

جماعت کے مطابق لکڑی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اب کشتی سازی میں اس کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گذشتہ چھ برس سے کشتی سازی کی صعنت میں کام کرنے والے وقار کے مطابق وہ کشتیوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کو تراشنے کا کام کرتے ہیں۔

وقار کے بقول جب سے انھوں نے ہوش سنبھالا تو انھوں نے دیکھا کہ خاندان کے تمام افراد اس کام میں ہیں ور اسی وجہ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے اور خاندانی پیشے سے وابستہ ہو گئے۔

کشتی کے لیے لکٹری تراشنے کے لیے کاریگر اس مشین کا استعمال کرتے ہیں۔فوٹو:ظریف بلوچ

وقار نے بتایا:”میں دن کے تین سو روپے کما لیتا ہوں”۔

وقار کی طرح افضل بھی تیرہ برسوں سے یومیہ اجرت پر لکڑیاں تراشنے  کا کام کر رہے ہیں۔

افضل کو اس بات کا افسوس ہے کہ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے جس کی وجہ سے انھیں کم اجرت مل رہی ہے۔

کشتی بنانے کے لیے عموماً تین سے چار لوگ بیک وقت کام پر لگے ہوتے ہیں جبکہ بڑی کشتیوں کی تیاری میں مزدوروں کی تعداد چھ سے سات بھی ہوسکتی ہے۔

کشتیاں عموماًساحل کے کنارے بنائی جاتی ہیں تاکہ تیار ہونے کے بعد ان کو سمندر میں اتارنے میں آسانی ہو۔

مکران کے ساحلی علاقوں میں فائبر بوٹ کا استعمال بھی چھوٹے ماہی گیر زیادہ کرتے ہیں جو کہ ایران سے سمگل ہو کر مکران پہنچتی ہیں۔

رائیٹر کا تعارف:ظریف بلوچ پاک وائسز کے لیے پسنی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

ایڈیٹنگ:محمد عظیم 

1 COMMENT

LEAVE A REPLY