برکت اللہ بلوچ ، گوادر 

گوادر سے 35 کلومیٹر دور نواحی علاقہ پشکان کا  بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) اس دور جدید میں بھی تمام بنیادیی سہولیات سے محروم ہے جس کے باعث اہلیان پشکان صحت کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

پشکان کی آبادی پندرہ ہزار سے زائد ہے لیکن طبی سہولیات کے لیے صرف ایک بی ایچ یو موجود ہے اور وہاں بھی ڈاکٹر سے لے کر علاج معالجہ کے دیگر سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث لوگوں کو علاج معالجہ کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

یوسی پشکان کے چیئرمین ایوب بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی ایچ یومیں صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد مریض اسپتال کا رخ کرتے ہیں لیکن علاج معالجہ نہ ہونے کے سبب مایوس ہوکر واپس لوٹ جاتے ہیں۔”

ان کا مزید بتایا کہ “اسپتال میں نہ ایکسرے مشین کی سہولت ہے اور نہ ہی ٹیسٹ کے سہولیات دستیاب ہیں ایک چھوٹے سے ٹیسٹ اور ایکسرے کے لئے لوگوں کو گوادر شہر جانا پڑتا ہے ۔”

بی  ایچ یو میں آنے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے لیکن اسپتال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہے جس کے سبب ڈلیوری اور دیگر معاملات میں خواتین کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیڈی ڈاکٹر کی کمی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ضلع گوادر کے کل 21 میں سے 18 بی ایچ یوز میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر آصف شاہوانی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ بی ایچ یو پشکان کے مسائل بہت زیادہ ہیں  اور ان مسائل کے حل کے لئے وہ کوششیں بھی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ایچ یو پشکان کو اپگریڈ کرکے آر ایچ سی کا درجہ دینے کے لئے صوبائی حکومت کو سفارش بھیج دی ہے اپ گریڈیشن اور آر ایچ سی کا درجہ ملنے کے بعد اسپتال کے بہت سے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی جیسے ڈاکڑوں کی کمی کا مسئلہ۔

۔ان کا مذید کہنا تھا بی ایچ یو میں اس وقت صرف ملیریا کے ٹیسٹ ہورہے ہیں دیگر ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کا سبب ٹیکنیکل اسٹاف کی کمی ہے اور اس صورت حال پرقابو پانے کے لیے بی ایچ یو پشکان کے اسٹاف کو گوادر میں تربیت دی جارہی ہے۔انہوں نے ایکسرے مشین کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ  وہ ایکسرے مشین فراہم کرنے کے مجاز نہیں اور وہ صرف سفارش بھیج سکتے ہیں۔

رائیٹر کے بارے میں:برکت اللہ بلوچ پاک وائسز کے لیے گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔   

LEAVE A REPLY